Nizam e Taleem Ya Factory Of Frustration?
نظامِ تعلیم یا فیکٹری آف فرسٹریشن؟
کہا جاتا ہے کہ تعلیم قوموں کی تقدیر بدلتی ہے۔ مگر ہمارا نظامِ تعلیم تقدیر نہیں، صرف "ڈگری ہولڈرز" پیدا کر رہا ہے۔ ایک ایسی نسل جو کتابی علم میں تو ماہر ہے، مگر عملی دنیا میں بے بس۔ جس کے پاس اسناد تو ہیں، مگر روزگار نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا تعلیمی نظام علم دے رہا ہے یا صرف ایک ایسی فیکٹری میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں ہر سال ہزاروں نوجوان "ڈگری یافتہ مایوسی" کی شکل میں باہر آتے ہیں؟
ہم اپنے بچوں کو برسوں اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی نذر کرتے ہیں۔ والدین اپنی جمع پونجی لگا کر انہیں تعلیم دلواتے ہیں اور آخر میں ایک کاغذ کی شیٹ ہاتھ میں تھما دی جاتی ہے جس پر لکھا ہوتا ہے "ڈگری مکمل"۔ مگر جب یہی نوجوان نوکری کے دروازے کھٹکھٹاتا ہے، تو اسے تجربے کی شرط، سفارش کی دیوار، یا پھر خالی وعدوں سے ٹالا جاتا ہے۔ نتیجہ؟ ایک اور مایوس نوجوان، جو شاید اس نظام پر، خود پر اور معاشرے پر سے اعتماد کھو دیتا ہے۔
ہمارا نظامِ تعلیم آج بھی رٹے، نمبروں اور غیر متعلقہ نصاب کے گرد گھومتا ہے۔ مارکیٹ کی ضروریات، ہنر کی تربیت، صنعتی روابط یا انٹرن شپ جیسے تصورات کتابوں میں تو ملتے ہیں، مگر عملی زندگی میں ناپید ہیں۔ ہم طلبہ کو سوال کرنا نہیں سکھاتے، صرف یاد رکھنا سکھاتے ہیں۔ تخلیقی صلاحیت کو پنپنے کا موقع نہیں دیا جاتا، صرف نمبروں کی دوڑ میں لگایا جاتا ہے۔
نجی اداروں میں بھی صورت حال کچھ مختلف نہیں۔ تعلیم ایک کاروبار بن چکی ہے اور طالب علم صرف ایک صارف۔ ڈگریاں فروخت ہوتی ہیں، معیار نہیں۔ دوسری جانب سرکاری اداروں میں سہولیات کا فقدان، استادوں کی عدم دلچسپی اور پرانا نصاب بچوں کو ماضی کی زنجیروں میں جکڑ کر رکھتا ہے۔
جب تعلیم روزگار نہ دے، جب نظام شعور نہ دے، جب ادارے کردار نہ بنائیں، تو ایسے نظام کو کیا کہیں؟ کیا وہ واقعی "نظامِ تعلیم" کہلانے کے قابل ہے یا پھر ایک ایسی "فیکٹری آف فرسٹریشن" جہاں مایوسی، احساسِ کمتری، ذہنی دباؤ اور ناکامی کی پروڈکشن ہو رہی ہے؟
اب بھی وقت ہے کہ ہم اپنی ترجیحات درست کریں۔ ہمیں ہنر پر مبنی تعلیم کو فروغ دینا ہوگا۔ ہمیں تعلیم کو صرف امتحانوں تک محدود کرنے کے بجائے اسے زندگی سے جوڑنا ہوگا۔ ورنہ ہم ہر سال لاکھوں ایسے نوجوان پیدا کرتے رہیں گے جن کے پاس خواب تو ہوں گے، مگر اُن خوابوں کو پورا کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہوگا۔

