Saturday, 17 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Noorul Ain Muhammad
  4. Maryam Nawaz Sharif, Punjab Ki Taraqi Ki Nai Muamar

Maryam Nawaz Sharif, Punjab Ki Taraqi Ki Nai Muamar

مریم نواز شریف، پنجاب کی ترقی کی نئی معمار

جب 26 فروری 2024 کو مریم نواز شریف پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ منتخب ہوئیں تو یہ محض ایک سیاسی واقعہ نہیں تھا، بلکہ پاکستان کی سیاست میں ایک نئی سوچ، نئی سمت اور نئی امید کی علامت تھا۔ یہ انتخاب اس بات کا اعلان تھا کہ پنجاب اب صرف روایتی سیاست نہیں بلکہ کارکردگی، وژن اور خدمت کی بنیاد پر آگے بڑھے گا۔ آج 2026 کے آغاز پر کھڑے ہو کر اگر گزشتہ تقریباً دو برسوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ مریم نواز شریف نے محض وعدے نہیں کیے بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے اپنی قیادت کو منوایا ہے۔

صحت کا شعبہ ان کی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست رہا۔ ایسے وقت میں جب سرکاری اسپتالوں کی حالت، سہولیات کی کمی اور عوام کی مشکلات ایک بڑا مسئلہ تھیں، مریم نواز نے صحت کے نظام کو واقعی عوام دوست بنانے کی کوشش کی۔ نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ اور جناح انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو فعال کرنے کے احکامات، سرگودھا سمیت مختلف شہروں میں کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹس کی تکمیل، لیڈی ولنگڈن ہسپتال کی تعمیر نو اور ہر ضلع میں کارڈیک کیتھ لیبز کا قیام، یہ سب اقدامات محض فائلوں تک محدود نہیں رہے بلکہ زمینی حقیقت بنے۔

فری ہوم میڈیسن ڈلیوری پروجیکٹ اور 55 ہزار سے زائد کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز کی بھرتی نے صحت کی سہولیات کو شہروں سے نکال کر دیہی علاقوں تک پہنچایا۔ یہی وہ فرق ہے جو ایک انتظامی حکومت اور ایک عوامی حکومت میں ہوتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق کروڑوں مریض مستفید ہوئے، مگر اصل کامیابی وہ اعتماد ہے جو عوام کا سرکاری نظام پر بحال ہوا۔

تعلیم اور نوجوانوں کے شعبے میں مریم نواز کا وژن اور بھی واضح اور دور رس نظر آتا ہے۔ 2026 کو "سالِ نوجوان" قرار دینا محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک جامع پالیسی کا اعلان ہے۔ ایک لاکھ الیکٹرک بائیکس، ایک لاکھ لیپ ٹاپس اور ایک لاکھ اسکالرشپس کا وعدہ نوجوان نسل کو تعلیم، روزگار اور خودمختاری کی طرف لے جانے کی عملی کوشش ہے۔ ہونہار اسکالرشپ پروگرام، پرواز کارڈ، پنجاب بھر میں آئی ٹی سٹیز کا قیام اور لاہور میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس سنٹر کا آغاز اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت مستقبل کی معیشت کو سمجھتی ہے اور نوجوانوں کو اس کے لیے تیار کرنا چاہتی ہے۔

انفراسٹرکچر کے شعبے میں بھی پنجاب ایک واضح تبدیلی سے گزر رہا ہے۔ گوجرانوالہ ماس ٹرانزٹ منصوبے جیسے بڑے پراجیکٹس، ستھرا پنجاب مہم، جدید صفائی نظام اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت سڑکوں، ہاسٹلز اور رہائشی منصوبوں کی تعمیر، یہ سب اقدامات صوبے کو ایک جدید اور منظم خطے میں تبدیل کرنے کی سمت میں اہم قدم ہیں۔ صفائی، ٹرانسپورٹ اور رہائش جیسے بنیادی مسائل پر فوکس اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ترقی کا تصور محض میگا پراجیکٹس تک محدود نہیں بلکہ روزمرہ زندگی میں آسانی پیدا کرنا بھی ہے۔

مریم نواز کی قیادت کا ایک نمایاں پہلو ان کی فیلڈ میں موجودگی ہے۔ وہ فائلوں کے پیچھے نہیں بلکہ عوام کے درمیان جا کر منصوبوں کی نگرانی کرتی نظر آتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی سیاست میں ایک ذاتی وابستگی اور سنجیدگی جھلکتی ہے۔ ان کا یہ جملہ کہ "ترقی جادو سے نہیں، محنت سے آتی ہے" صرف ایک قول نہیں بلکہ ان کی حکمرانی کا خلاصہ ہے۔

یقیناً تنقید جمہوریت کا حسن ہے اور مریم نواز بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ مگر جب نتائج سامنے ہوں، جب اسپتالوں میں علاج ممکن ہو، جب نوجوانوں کو مواقع ملیں اور جب عوامی سہولیات بہتر ہوں تو تنقید خود بخود ثانوی ہو جاتی ہے۔ بیس ملین سے زائد مریضوں کا علاج، لاکھوں افراد کے لیے رہائشی سہولیات اور نوجوانوں کی بااختیاری جیسے اقدامات کسی بھی حکومت کی سنجیدگی کا واضح ثبوت ہیں۔

آج مریم نواز شریف صرف پنجاب کی وزیراعلیٰ نہیں بلکہ پاکستان میں خواتین قیادت کی ایک مضبوط علامت بن چکی ہیں۔ وہ اس سوچ کی نمائندہ ہیں کہ عورت محض سیاست کا حصہ نہیں بلکہ قیادت کا مرکز بھی ہو سکتی ہے۔ 2026 میں یہ سفر مزید تیز ہونے کی امید ہے اور اگر یہی رفتار برقرار رہی تو پنجاب واقعی ترقی، خدمت اور جدید طرزِ حکمرانی کی مثال بن سکتا ہے۔

Check Also

Peoples Party Ki Qayadat Ki Ikhlaqiat

By Muhammad Aamir Hussaini