Wednesday, 07 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Noorul Ain Muhammad
  4. Kya 2026 Muashi Breakthrough Ka Saal Banega?

Kya 2026 Muashi Breakthrough Ka Saal Banega?

کیا 2026 معاشی بریک تھرو کا سال بنے گا؟

2025 پاکستان کی خارجہ پالیسی اور جیو پولیٹیکل سمت کے حوالے سے ایک غیر معمولی سال کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ ایک دہائی تک جس ملک کو عالمی سیاست میں "پرابلم اسٹیٹ" کے طور پر دیکھا جاتا رہا، وہ رفتہ رفتہ ایک ایسے ملک کے طور پر ابھرتا دکھائی دیا جو خطے میں سیکیورٹی، توازن اور سفارتی وزن رکھتا ہے۔ عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کی بحالی، مشرقِ وسطیٰ میں متوازن کردار اور خطے میں دفاعی صلاحیتوں کی پذیرائی نے پاکستان کی عالمی شناخت کو ایک نئی جہت دی۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ جیو پولیٹیکل کامیابیاں محض سفارتی فتوحات بن کر رہ جائیں گی، یا 2026 میں یہ معاشی استحکام اور عوامی خوشحالی میں تبدیل ہو سکیں گی؟

2025 کی سب سے اہم سفارتی پیش رفت امریکہ کے ساتھ تعلقات کی بحالی رہی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دور میں پاکستان نے نہ صرف واشنگٹن کا اعتماد دوبارہ حاصل کیا بلکہ دہشت گردی کے خلاف تعاون، توانائی، تجارت اور معدنیات کے شعبوں میں نئے امکانات بھی پیدا کیے۔ جنوبی ایشیا میں نسبتاً کم تجارتی ٹیرف کا حصول ایک ایسا موقع ہے جو درست حکمتِ عملی کے ساتھ پاکستان کی ایکسپورٹس کو نئی رفتار دے سکتا ہے۔ اسی تناظر میں تقریباً چھ ٹریلین ڈالر مالیت کے معدنی ذخائر میں امریکی دلچسپی محض ایک سفارتی بیان نہیں بلکہ ایک بڑا معاشی امکان ہے، بشرطیکہ پاکستان شفاف پالیسی، قانونی تحفظ اور ادارہ جاتی تیاری کا مظاہرہ کرے۔

سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ (SMDA) نے پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے درجے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ستمبر 2025 میں طے پانے والا یہ معاہدہ محض دفاعی تعاون تک محدود نہیں بلکہ سرمایہ کاری، توانائی اور مالی معاونت کے وسیع دروازے بھی کھولتا ہے۔ چھ ارب ڈالر سے زائد قرضوں اور سرمایہ کاری کے وعدے اگر واقعی پیداواری شعبوں میں منتقل ہو گئے تو یہ پاکستان کی معیشت کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم یہاں بھی اصل سوال نیت کا نہیں، عملدرآمد کا ہے۔

چین کے ساتھ CPEC 2.0 کا آغاز بھی 2025 کا ایک فیصلہ کن موڑ ہے۔ پہلے مرحلے میں بنیادی ڈھانچے پر توجہ دی گئی، مگر دوسرے مرحلے میں صنعتی زونز، زراعت، گرین انرجی اور ویلیو ایڈیشن پر فوکس پاکستان کو محض راہداری ریاست کے بجائے ایک پیداواری اور برآمدی معیشت میں تبدیل کر سکتا ہے۔ مئی 2025 کی پاک بھارت کشیدگی کے دوران چینی دفاعی ٹیکنالوجی کی مؤثر کارکردگی نے بیجنگ اور اسلام آباد کے تعلقات کو مزید مضبوط کیا، جس کے اثرات اگر درست معاشی پالیسی سے جوڑ دیے جائیں تو صنعتی ترقی کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا متوازن اور فعال کردار بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ غزہ بحران اور ایران-اسرائیل کشیدگی میں محتاط سفارت کاری، سعودی عرب اور ایران دونوں کے ساتھ بہتر تعلقات اور افغان طالبان پر دباؤ کے ذریعے ٹی ٹی پی کے خلاف پیش رفت، یہ سب پاکستان کی سیکیورٹی ساکھ کو مضبوط کرتے ہیں۔ عالمی سیاست میں اکثر سیکیورٹی کی ساکھ ہی معاشی مواقع کی بنیاد بنتی ہے، مگر شرط یہ ہے کہ اندرونی حالات مستحکم ہوں۔

بھارت کے ساتھ مئی 2025 کی کشیدگی اگرچہ خطرناک تھی، مگر اس کے نتیجے میں پاکستانی دفاعی صلاحیتوں کی عالمی سطح پر پذیرائی نے پاکستان کو سفارتی برتری ضرور دی۔ تاہم یہ برتری اسی صورت برقرار رہ سکتی ہے جب پاکستان خطے میں ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنے طرزِ عمل کو جاری رکھے اور محاذ آرائی کے بجائے استحکام کو ترجیح دے۔

یہاں سے بات 2026 کے اصل چیلنج کی طرف آتی ہے: کیا یہ جیو پولیٹیکل کامیابیاں معاشی فوائد میں تبدیل ہو سکیں گی؟ اگر سعودی، امریکی اور چینی سرمایہ کاری واقعی معدنیات، توانائی، آئی ٹی اور زراعت کے شعبوں میں اتری تو روزگار کے لاکھوں مواقع پیدا ہو سکتے ہیں، ایکسپورٹس میں اضافہ ہوگا اور جی ڈی پی گروتھ چار فیصد سے تجاوز کر سکتی ہے، جیسا کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی رپورٹس بھی اشارہ دیتی ہیں۔

لیکن یہ سب کچھ خود بخود نہیں ہوگا۔ سرمایہ کار بیانات نہیں، اصلاحات دیکھتے ہیں۔ داخلی سیاسی عدم استحکام، دہشت گردی کے خطرات اور بڑھتا ہوا قرضہ ان تمام مواقع کو ضائع کر سکتا ہے۔ ٹیکس نیٹ کی توسیع، توانائی کے شعبے کی ری اسٹرکچرنگ اور گورننس میں شفافیت وہ بنیادی شرائط ہیں جن کے بغیر کوئی معاشی بریک تھرو ممکن نہیں۔

اسی کے ساتھ ایک اور سوال بھی اہم ہے: کیا یہ معاشی بہتری عام آدمی تک پہنچے گی؟ گزشتہ برسوں میں معاشی اشاریے بہتر ہونے کے باوجود مہنگائی، بے روزگاری اور قوتِ خرید میں کمی نے عوام کی زندگی مشکل بنائے رکھی۔ اگر 2026 واقعی ایک بریک تھرو کا سال بنانا ہے تو پالیسیوں کا مرکز جی ڈی پی کے اعداد و شمار نہیں بلکہ عوامی ریلیف ہونا چاہیے۔

روزگار اس سلسلے کی سب سے اہم کڑی ہے۔ سی پیک 2.0 معدنی منصوبے اور بیرونی سرمایہ کاری اسی وقت فائدہ مند ہوں گے جب مقامی لیبر کو ترجیح دی جائے اور تعلیم و ہنر کو مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جائے۔ نوجوانوں کو صرف ڈگریاں نہیں، قابلِ فروخت مہارتیں درکار ہیں۔

ٹیکس نظام میں عدم توازن بھی عوامی ناراضی کی بڑی وجہ ہے۔ پاکستان میں ٹیکس کا بوجھ زیادہ تر تنخواہ دار اور متوسط طبقے پر پڑتا ہے، جبکہ معیشت کے بڑے حصے بدستور ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔ اگر 2026 میں حقیقی ٹیکس اصلاحات نہ ہوئیں تو عوام کے لیے قربانی کا بیانیہ مزید ناقابلِ قبول ہو جائے گا۔

توانائی کی قیمتیں بھی عوامی معیشت پر براہِ راست اثر ڈالتی ہیں۔ بجلی اور گیس کے نرخ صنعت کے ساتھ ساتھ گھریلو صارفین کے لیے بھی بوجھ بن چکے ہیں۔ گرین انرجی اور مقامی وسائل کے ذریعے سستی اور پائیدار توانائی نہ صرف صنعت کو سہارا دے سکتی ہے بلکہ عام شہری کو بھی حقیقی ریلیف دے سکتی ہے۔

یہاں حکومت کا کردار فیصلہ کن ہو جاتا ہے۔ نجکاری، ادارہ جاتی اصلاحات اور پالیسیوں کا تسلسل سیاسی نعرے نہیں بلکہ معاشی ضرورت ہیں۔ پی آئی اے جیسے اداروں میں اصلاحات اگر مستقل مزاجی سے جاری رہیں تو یہ پیغام جائے گا کہ پاکستان واقعی معاشی سمت بدلنے میں سنجیدہ ہے۔

آخر میں سوال سادہ مگر فیصلہ کن ہے۔ کیا ہم تاریخ سے سیکھ کر مواقع کو استعمال کریں گے، یا ایک بار پھر جیو پولیٹیکل کامیابیوں کو معاشی ناکامیوں میں ضائع کر دیں گے؟ 2026 پاکستان کے لیے محض ایک نیا سال نہیں بلکہ ایک فیصلہ کن موڑ ہے، جہاں فیصلے قوموں کا مستقبل بناتے ہیں۔

2026 اسی سوال کا جواب دے گا۔

Check Also

Mere Ilm Mein Na Aane Wali Meri Agenti

By Nusrat Javed