Khubsurti Ke Khud Sakhta Mayar
خوبصورتی کے خودساختہ معیار
ہم ایک ایسے معاشرے میں زندہ ہیں جہاں انسان کی پہچان اس کے کردار، ذہانت، تعلیم اور اخلاق سے نہیں بلکہ اس کے جسم، رنگ اور خدوخال سے کی جاتی ہے۔ خوبصورتی کے کچھ خودساختہ معیار بنا لیے گئے ہیں جن پر پورا نہ اترنے والا شخص طعنوں، مذاق اور حقارت کا نشانہ بنتا ہے۔ کسی کو اس کے وزن پر شرمندہ کیا جاتا ہے تو کسی کو قد، رنگ یا چہرے کی بناوٹ پر۔ یہی رویہ، جسے آج کی زبان میں باڈی شیمنگ کہا جاتا ہے، دراصل انسان کی عزتِ نفس پر وہ خاموش حملہ ہے جو دکھائی تو نہیں دیتا مگر اندر ہی اندر شخصیت کو توڑ دیتا ہے۔
باڈی شیمنگ کو ہمارے معاشرے میں اکثر "مزاح"، "سچائی" یا "اصلاح" کا نام دے دیا جاتا ہے۔ گھر ہو یا اسکول، محفل ہو یا سوشل میڈیا، لوگ بلا جھجک ایسے جملے کہہ جاتے ہیں جن کے اثرات برسوں تک انسان کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔ "اتنی موٹی ہوگئی ہو"، قد دیکھو کتنا چھوٹا ہے "رنگ بہت سانولا ہے"، "مرد ہو کر اتنے کمزور؟"، یہ جملے محض الفاظ نہیں بلکہ وہ زہر ہیں جو آہستہ آہستہ انسان کی خود اعتمادی میں گھل جاتا ہے۔
یہ مسئلہ صرف بڑوں تک محدود نہیں۔ بچے اس کا سب سے آسان شکار بنتے ہیں۔ بچپن میں سنی گئی باتیں شخصیت کی بنیاد بن جاتی ہیں۔ جب ایک بچہ بار بار اپنے جسم پر تنقید سنتا ہے تو وہ خود کو دوسروں سے کمتر سمجھنے لگتا ہے۔ وہ اپنی صلاحیتوں پر یقین کھو دیتا ہے اور ایک ایسا خوف اس کے اندر جنم لیتا ہے جو عمر بھر ساتھ رہتا ہے۔
سوشل میڈیا نے خوبصورتی کے ان غیر حقیقی معیاروں کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔ فلٹر شدہ چہرے، ایڈیٹ شدہ جسم اور "پرفیکٹ" نظر آنے کی دوڑ نے عام انسان کو احساسِ کمتری میں مبتلا کر دیا ہے۔ لوگ اپنی اصل شکل چھپانے پر مجبور ہیں کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ کہیں مذاق نہ بن جائے۔ اس دوڑ میں شامل نہ ہو پانے والا شخص خود کو ناکام اور بے وقعت سمجھنے لگتا ہے۔
باڈی شیمنگ کے نتائج صرف جذباتی نہیں بلکہ خطرناک حد تک سنجیدہ ہو سکتے ہیں۔ ذہنی دباؤ، ڈپریشن، اینزائٹی، کھانے کی خرابیوں اور حتیٰ کہ خودکشی جیسے رجحانات اسی سوچ کی پیداوار ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جو انسان کو اس کے جسم کی بنیاد پر پرکھے، وہ دراصل انسانیت سے دوری اختیار کر رہا ہوتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خوبصورتی کے ان خودساختہ معیاروں پر سوال اٹھائیں۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہر انسان کا جسم مختلف ہے اور یہی فطرت کا حسن ہے۔ خوبصورتی کا کوئی ایک پیمانہ نہیں ہوتا۔ اصل خوبصورتی احترام، احساس اور قبولیت میں ہے، نہ کہ ناپ تول میں۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے الفاظ کی ذمہ داری قبول کریں۔ کسی کے جسم پر تنقید نہ اصلاح ہے اور نہ ہی سچائی، بلکہ یہ ہماری سماجی تربیت کی ناکامی ہے۔ اگر ہم واقعی ایک مہذب معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں دوسروں کو ان کے جسم نہیں، ان کی انسانیت کے ساتھ قبول کرنا ہوگا۔
کیونکہ ہر جسم قابلِ احترام ہے اور ہر انسان عزت کے ساتھ جینے کا حق رکھتا ہے۔

