Imtihan Ya Intikhab?
امتحان یا انتخاب؟
پاکستان کا تعلیمی نظام لاکھوں نوجوانوں کو ہر سال ڈگریوں سے نوازتا ہے۔ بچے اسکولوں سے نکل کر کالج، پھر یونیورسٹی اور بعض تو ایم فل و پی ایچ ڈی جیسے بلند تعلیمی سنگِ میل عبور کرتے ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ کرنے کے بعد جب وہ نوکری کے لیے میدان میں اترتے ہیں تو ان سے کہا جاتا ہے: "اب تمہیں مقابلے کا امتحان پاس کرنا ہوگا"۔ یہ امتحان ان کی تمام تر تعلیمی قابلیت، مہارتوں اور تجربے کو ایک طرف رکھ کر انہیں از سر نو ایک ایسے میدان میں لا کھڑا کرتا ہے جہاں صرف مخصوص نوعیت کے عمومی علم، مضمون نویسی اور چند معلوماتی سوالات پر ان کا مستقبل ٹکا ہوتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر تعلیم ہی معیار نہیں، تو پھر اتنے تعلیمی ادارے، اتنے بورڈ، یونیورسٹیاں اور تحقیق کا عمل کیوں؟ اور اگر واقعی تعلیم معیار ہے تو پھر ریاست کو اس پر اعتبار کیوں نہیں؟ مقابلے کے امتحان کو تعلیمی نظام کے متوازی کیوں چلایا جا رہا ہے اور کیوں ان دونوں کے درمیان ایک خلیج قائم کر دی گئی ہے؟ تعلیم کا مقصد اگر ترقی، مہارت اور فکری بصیرت دینا ہے، تو پھر CSS یا PPSC جیسے امتحانات کیوں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو دوبارہ "میٹرک طرز" کے عمومی سوالات میں الجھا کر ان کی قابلیت کو نظر انداز کر دیتے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ مقابلے کے امتحانات کا بنیادی ڈھانچہ ایک چھانٹی کا نظام ہے۔ ان کا ہدف یہ نہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ترقی دی جائے، بلکہ یہ طے کرنا ہے کہ ہزاروں امیدواروں میں سے چند درجن کو منتخب کیسے کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ امتحانات کا انداز سخت، وقت محدود اور سوالات عمومی ہوتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ طریقہ واقعی موزوں ہے؟ کیا یہ طرزِ انتخاب اس ملک کو بہتر اور اہل افسران فراہم کر رہا ہے؟ اور سب سے اہم: کیا یہ طرز امتحان واقعی "علمی" ہے؟
ہمارا تعلیمی نظام ایک مکمل نصاب، مسلسل امتحانات، تھیسس، پراجیکٹس، پریزنٹیشنز اور ریسرچ پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک طالبعلم پانچ سے چھ سال کے دوران مختلف اساتذہ سے علم لیتا ہے، مختلف مہارتیں سیکھتا ہے اور میدانِ تحقیق میں قدم رکھتا ہے۔ اس کی ہر کارکردگی ریکارڈ کا حصہ بنتی ہے۔ جبکہ مقابلے کے امتحان میں صرف چند گھنٹوں میں اس کا فیصلہ ہو جاتا ہے کہ وہ اہل ہے یا نہیں۔ اس امتحان میں نہ تو اس کے سابقہ تعلیمی سفر کو اہمیت دی جاتی ہے، نہ ہی اس کے تحقیقی کام کو اور نہ ہی اس کے اصل شعبے کی مہارت کو۔ ایک زراعت میں ماسٹرز رکھنے والا طالبعلم بھی اسی طرح جنرل نالج، کرنٹ افیئرز اور مضمون نویسی کے میدان میں اتارا جاتا ہے جس طرح ایک سیاسیات کا طالبعلم۔ یہ کیسا نظام ہے جہاں تخصص کی کوئی حیثیت نہیں؟
اس کے برعکس دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں مقابلے کے امتحانات تعلیمی میدان سے جڑے ہوتے ہیں۔ مثلاً برطانیہ میں سول سروس میں داخلے کے لیے مخصوص مضامین میں مہارت اور یونیورسٹی کارکردگی دیکھی جاتی ہے۔ جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک میں تو ہر تعلیمی مرحلہ ہی مقابلے کا امتحان سمجھا جاتا ہے اور ریاست اسی بنیاد پر اعلیٰ عہدوں کے لیے اہل امیدوار منتخب کرتی ہے۔ وہاں نہ تو عمومی معلومات کی بھرمار ہوتی ہے، نہ ہی ادب کا بے جا امتحان، بلکہ اصل مہارت دیکھی جاتی ہے۔
ہمارے ہاں صورت حال اس کے برعکس ہے۔ تعلیم کا میدان الگ اور نوکری کا راستہ الگ۔ یہ دو نظام نہ صرف ایک دوسرے سے کٹے ہوئے ہیں بلکہ ایک دوسرے کے منافی بھی نظر آتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ نوجوانوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ ایک الگ "امتحانی سسٹم" سے گزرنا پڑتا ہے۔ اکثر باصلاحیت طلبہ مقابلے کے امتحان کی تیاری میں ناکام ہو کر یا تو ملک چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، یا پھر مایوسی کی دلدل میں دھنس جاتے ہیں۔ ان کی علمی صلاحیتیں ریاستی نظام کے لیے بیکار ہو جاتی ہیں، حالانکہ دنیا ایسے ہی افراد کو قومی ترقی کا سرمایہ مانتی ہے۔
یہ خلا صرف تعلیمی یا امتحانی نہیں، بلکہ سماجی اور نفسیاتی بھی ہے۔ جو طالبعلم سالوں محنت کرکے پی ایچ ڈی کرتا ہے، جب وہ ایک بار، دو بار، تین بار مقابلے کے امتحان میں ناکام ہوتا ہے، تو وہ صرف نوکری سے نہیں، بلکہ اعتماد سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ اس کی شخصیت متاثر ہوتی ہے، خاندان کا دباؤ بڑھتا ہے اور اکثر وہ لوگ ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان سب کی وجہ ایک ایسا سسٹم ہے جو ان کی اصل قابلیت کی بجائے رٹی رٹائی معلومات کو معیار بناتا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاست اور ادارے مقابلے کے امتحانات کو تعلیمی نظام کے قریب لائیں۔ یا تو یونیورسٹی سطح پر ہی ایسے عناصر شامل کیے جائیں جو CSS یا PPSC جیسے امتحانات سے ہم آہنگ ہوں، یا پھر مقابلے کے امتحان میں تعلیمی اسناد، تحقیقی کام اور تعلیمی کارکردگی کو براہِ راست شامل کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ، انٹرویو اور نفسیاتی تجزیے کو بھی زیادہ مؤثر بنایا جائے تاکہ صرف "یادداشت" نہیں، بلکہ "قابلیت" منتخب ہو۔
یہ وقت ہے کہ ہم یہ طے کریں کہ ہم ایک امتحان یافتہ قوم چاہتے ہیں یا ایک تعلیم یافتہ۔ علم کی بنیاد پر فیصلے ہوں گے تو قوم ترقی کرے گی اور اگر حفظ اور یادداشت کو ہی سب کچھ مانا گیا، تو ہم صرف رٹنے والے افسر پیدا کریں گے، قائد نہیں۔

