Tuesday, 13 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Noorul Ain Muhammad
  4. Ghulam Zehan, Azad Qafas Aur Ashraf Ul Makhlooqat

Ghulam Zehan, Azad Qafas Aur Ashraf Ul Makhlooqat

غلام ذہن، آزاد قفس اور اشرف المخلوقات

آج انسان کے اشرف المخلوقات ہونے پر فخر نہیں، ایک گہری شرمندگی محسوس ہوتی ہے۔ یہ احساس اس وقت اور بھی شدید ہو جاتا ہے جب ابنِ خلدون جیسے عہد ساز مفکر کی بات پڑھنے کو ملے، جو صدیوں پہلے انسانی سماج کی نفسیات کو اس قدر عریاں کر چکا تھا کہ آج کا انسان بھی اس کے آئینے میں خود کو پہچاننے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اس کا یہ جملہ محض ایک خیال نہیں، بلکہ پوری انسانیت پر فردِ جرم ہے کہ پرندے کا دماغ صرف دو گرام ہوتا ہے، مگر وہ آزادی کی تلاش میں رہتا ہے، جبکہ کچھ انسانوں کے سر کا وزن کئی کلو ہوتا ہے اور وہ ذلت اور غلامی کو اپنا مقدر بنا لیتے ہیں۔

یہ تقابل عقل کے حجم اور سوچ کی سمت کے درمیان ہے۔ آزادی کسی بڑے دماغ کی محتاج نہیں، بلکہ ایک زندہ شعور کی متقاضی ہوتی ہے۔ پرندہ پنجرے میں ہو تب بھی اس کے پروں میں بغاوت زندہ رہتی ہے، مگر انسان کھلے میدان میں کھڑا ہو کر بھی غلامی کو اختیار کر لیتا ہے۔ وہ زنجیروں کو اپنی روایت، مصلحت اور مجبوری کا نام دے کر خود کو مطمئن کر لیتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں انسان اپنی اشرفیت کھو دیتا ہے۔

ابنِ خلدون کی دوسری بات اس سے بھی زیادہ گہری اور تکلیف دہ ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر انہیں ظالم حکمرانوں اور غلام ذہن رکھنے والے لوگوں میں سے کسی ایک کو مٹانے کا اختیار ملے تو وہ غلاموں کو مٹانا پسند کریں گے، کیونکہ یہی غلام ظالم حکمرانوں کو جنم دیتے ہیں۔ یہ بات بظاہر سخت ضرور ہے، مگر تاریخ اس کی گواہی دیتی ہے۔ کوئی بھی جابر حکمران اچانک نازل نہیں ہوتا، اسے برداشت کرنے والے، اس کے ظلم کو معمول سمجھنے والے اور اس کے سامنے سر جھکانے والے لوگ ہی اسے طاقت عطا کرتے ہیں۔

غلامی صرف کوڑوں اور زنجیروں کا نام نہیں، اصل غلامی سوچ کی ہوتی ہے۔ سوچ کی غلامی وہ خاموش زہر ہے جو قوموں کی رگوں میں آہستہ آہستہ سرایت کر جاتا ہے۔ یہ غلامی سوال کرنے کی جرات چھین لیتی ہے، حق اور باطل کے درمیان فرق مٹا دیتی ہے اور انسان کو اس حال میں پہنچا دیتی ہے کہ وہ ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کے بجائے اس کے لیے دلیلیں گھڑنے لگتا ہے۔ یوں غلام صرف تابع نہیں رہتا، بلکہ اپنے آقا کا محافظ بن جاتا ہے۔

ہماری تاریخ اور حال دونوں اس حقیقت کے گواہ ہیں کہ جب قومیں سوچنا چھوڑ دیتی ہیں تو فیصلے ان کے لیے نہیں، ان پر کیے جانے لگتے ہیں۔ جب سوال جرم بن جائے اور خاموشی کو دانشمندی کہا جائے تو اقتدار چند ہاتھوں میں سمٹ جاتا ہے۔ ایسے معاشروں میں حکمران بدلتے رہتے ہیں، نظام نہیں بدلتا، کیونکہ غلام ذہن ہر نئے آقا کو قبول کرنے کے لیے پہلے سے تیار ہوتا ہے۔

بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ بھی اسی فکری غلامی کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ ہم شخصیات کو اصولوں پر ترجیح دیتے ہیں، وفاداری کو اندھی تقلید اور اختلاف کو غداری کا نام دے دیتے ہیں۔ ہمیں یہ سکھایا جاتا ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں، قبول کر لو، حاکم جیسے بھی ہوں، صبر کر لو۔ یہی سوچ قوموں کو زندہ لاشوں میں بدل دیتی ہے، جہاں جسم حرکت میں ہوتے ہیں مگر ضمیر سو چکا ہوتا ہے۔

ابنِ خلدون کا اصل پیغام یہی ہے کہ ظلم کا خاتمہ تخت گرانے سے نہیں، ذہن آزاد کرنے سے ہوتا ہے۔ جب تک سوچ غلام رہے گی، ہر انقلاب ایک نئے ظالم کو جنم دے گا اور ہر آزادی کا نعرہ ایک نئی زنجیر بن جائے گا۔ اشرف المخلوقات ہونے کا حق وہی ادا کرتا ہے جو سوال کرنے کی ہمت رکھتا ہو، جو آزادی کو محض خواب نہیں بلکہ عملی جدوجہد سمجھتا ہو۔

شاید اب وقت آ چکا ہے کہ ہم اپنے حکمرانوں سے پہلے خود کا احتساب کریں۔ کیونکہ جب تک غلام ذہن آزاد نہیں ہوں گے، آزادی صرف کتابوں کا عنوان اور تقریروں کا نعرہ ہی رہے گی اور تب دو گرام دماغ رکھنے والا پرندہ بھی ہم سے زیادہ باوقار ٹھہرے گا، جو کم از کم غلامی کو قبول تو نہیں کرتا۔

Check Also

Wasl Ka Din Aur Iss Qadar Mukhtasir

By Nusrat Javed