Tuesday, 20 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Noorul Ain Muhammad
  4. Basant 2026: Riwayat, Tahafuz Aur Qayadat Ka Imtihan

Basant 2026: Riwayat, Tahafuz Aur Qayadat Ka Imtihan

بسنت 2026: روایت، تحفظ اور قیادت کا امتحان

بسنت کا نام آتے ہی لاہور کی چھتوں پر اڑتی رنگ برنگی پتنگیں، فضا میں بکھرتی خوشیوں کی صدائیں اور پنجابی ثقافت کی پوری رعنائی ذہن میں تازہ ہو جاتی ہے۔ یہ تہوار محض پتنگ بازی کا نام نہیں بلکہ بہار کی آمد، اجتماعی مسرت اور تہذیبی شناخت کی علامت رہا ہے۔ بسنت صدیوں سے پنجاب کی ثقافت کا حصہ رہی، مگر 2005 میں خطرناک مانجھے اور افسوسناک حادثات کے باعث اس روایت پر پابندی لگا دی گئی۔ یوں خوشیوں کا یہ تہوار خاموشی میں بدل گیا اور لاہور کی چھتیں ویران ہوگئیں۔

تقریباً پچیس برس بعد 2026 میں بسنت کی واپسی ایک غیر معمولی اور جرات مندانہ فیصلہ ہے، جو وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں ممکن ہوا۔ یہ فیصلہ کسی جذباتی دباؤ یا سیاسی نعرے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے قانونی اور انتظامی عمل کے تحت کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بسنت کی یہ بحالی محض روایت کی واپسی نہیں بلکہ ریاستی ذمہ داری اور بالغ نظری کا امتحان بھی ہے۔

پنجاب حکومت نے پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ آرڈیننس 2025 کے ذریعے بسنت کو ایک واضح قانونی فریم ورک میں رکھا ہے۔ اس قانون کے تحت بسنت کو صرف لاہور میں اور مخصوص دنوں، یعنی 6، 7 اور 8 فروری 2026 کو منانے کی اجازت دی گئی ہے۔ خطرناک شیشہ یا کیمیکل لگی ڈور، نائلون مانجھا، دھاتی تار اور بڑی پتنگوں پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ پتنگ سازوں اور فروخت کنندگان کی رجسٹریشن، QR کوڈ سسٹم، دفعہ 144 کا نفاذ اور سخت سزائیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت نے انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دی ہے۔

یہ پہلو بھی خاص اہمیت رکھتا ہے کہ بسنت کی واپسی کے ساتھ حفاظتی اقدامات کو غیر معمولی حد تک مضبوط بنایا گیا ہے۔ کم عمر بچوں پر پتنگ بازی کی پابندی، والدین کی قانونی ذمہ داری، موٹرسائیکل سواروں کے لیے حفاظتی راڈز اور شہر بھر میں نگرانی کا مربوط نظام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت ماضی کی غلطیوں کو دہرانا نہیں چاہتی۔ یہ اقدامات اس سوچ کو ظاہر کرتے ہیں کہ خوشی اور احتیاط ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہو سکتی ہیں۔

بسنت کی بحالی کے سماجی اور معاشی پہلو بھی نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ یہ تہوار سیاحت کے فروغ، مقامی صنعت، دستکاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ پتنگ سازی، ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ اور دیگر متعلقہ شعبوں میں سرگرمی بڑھے گی، جس سے معیشت کو بھی سہارا ملے گا۔ سب سے بڑھ کر یہ تہوار نئی نسل کو اپنی ثقافت، روایت اور شناخت سے جوڑنے کا موقع فراہم کرے گا، جو کسی بھی معاشرے کی فکری اور ثقافتی بقا کے لیے ناگزیر ہے۔

مریم نواز شریف کی قیادت میں بسنت کی بحالی اس بات کی عکاس ہے کہ ترقی کا تصور صرف سڑکوں، پلوں اور عمارتوں تک محدود نہیں بلکہ ثقافتی ورثے کے تحفظ کو بھی شامل کرتا ہے۔ جہاں ایک طرف وہ صحت، تعلیم، نوجوانوں اور انفراسٹرکچر پر توجہ دے رہی ہیں، وہیں بسنت کی واپسی یہ پیغام دیتی ہے کہ پنجاب کی روحانی اور تہذیبی شناخت بھی ریاستی ترجیحات کا حصہ ہے۔

تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا بسنت واقعی محفوظ ہو سکے گی؟ اس کا جواب صرف اور صرف سخت اور غیر جانبدار عمل درآمد میں پوشیدہ ہے۔ اگر قانون پر بلا امتیاز عمل ہوا، اگر کسی دباؤ یا اثر و رسوخ کو قبول نہ کیا گیا اور اگر انسانی جان کے تحفظ کو ہر خوشی پر مقدم رکھا گیا تو بسنت ایک مثبت مثال بن سکتی ہے۔ یہاں حکومت کے ساتھ ساتھ عوام کی ذمہ داری بھی شروع ہوتی ہے، کیونکہ قوانین کی کامیابی عوامی تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔

درحقیقت بسنت 2026 ایک تہوار سے بڑھ کر ریاستی نظم و ضبط اور اجتماعی شعور کا امتحان ہے۔ یہ اس بات کا امتحان ہے کہ کیا ہم بطور معاشرہ اپنی روایات کو قانون، ذمہ داری اور احتیاط کے ساتھ زندہ رکھ سکتے ہیں یا نہیں۔ مریم نواز شریف نے اس سمت پہلا قدم اٹھا کر یہ واضح پیغام دیا ہے کہ خوف کے سائے میں جینے کے بجائے اصلاح، نظم اور توازن کے ساتھ آگے بڑھا جا سکتا ہے۔

اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو بسنت صرف لاہور کے آسمان کو رنگین نہیں کرے گی بلکہ یہ اس سوچ کو بھی تقویت دے گی کہ پاکستان میں ثقافت اور تحفظ ایک ساتھ چل سکتے ہیں۔ اسی لیے بسنت کی یہ واپسی محض پتنگوں کی نہیں بلکہ ایک پوری تہذیبی روایت کی باوقار بحالی ہے۔

Check Also

Maraqba

By Najeeb ur Rehman