2026 Ki Basant, Screen Se Aasman Tak Laut-Ti Hui Zindagi
2026 کی بسنت، اسکرین سے آسمان تک لوٹتی ہوئی زندگی
لاہور میں 2026 کی بسنت صرف ایک تہوار نہیں بلکہ ایک سماجی تجربہ بن کر سامنے آئی۔ کئی برسوں کی پابندیوں، خوف اور بحثوں کے بعد جب شہر کی فضا میں دوبارہ رنگین پتنگیں اڑیں تو ایسا محسوس ہوا جیسے لاہور نے اپنی پہچان کا ایک حصہ واپس حاصل کر لیا ہو۔ چھتوں پر ہجوم، گلیوں میں رونق، بازاروں میں غیر معمولی رش اور آسمان پر رنگوں کی جنگ، یہ سب ایک زندہ، سانس لیتے معاشرے کی علامت بن گئے۔
لاہور 2026 کی بسنت کا سب سے دلچسپ پہلو یہ تھا کہ اس نے جدید دور کے ایک بڑے سماجی مسئلے کو نمایاں کر دیا: موبائل فون کی لت۔ عام دنوں میں جہاں نوجوان اور بچے گھنٹوں اسکرین پر مصروف رہتے ہیں، وہی لوگ بسنت کے دن آسمان کی طرف نظریں جمائے دکھائی دیے۔ ہاتھوں میں موبائل نہیں بلکہ ڈور تھی اور چیٹنگ ایپس کی جگہ چھتوں پر براہِ راست بات چیت تھی۔ یہ منظر اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ انسان آج بھی فطری خوشیوں، جسمانی سرگرمی اور اجتماعی میل جول کا محتاج ہے۔
یہ بسنت دراصل اس سوچ کو چیلنج کرتی نظر آئی کہ نئی نسل صرف ڈیجیٹل دنیا تک محدود ہو چکی ہے۔ لاہور کی چھتوں پر خاندان اکٹھے ہوئے، پڑوسی ایک دوسرے سے ملے، بچے روایتی کھیلوں میں مصروف ہوئے اور نوجوانوں نے مقابلہ بازی میں حصہ لیا۔ "بو کاٹا" کی آوازیں صرف پتنگ کٹنے کی علامت نہیں تھیں بلکہ ایک زندہ ثقافت کی واپسی کا اعلان بھی تھیں۔
معاشی طور پر بھی لاہور 2026 کی بسنت نے واضح اثرات چھوڑے۔ پتنگ سازوں، ڈور بنانے والوں، فوڈ اسٹالز، کپڑوں کے تاجروں اور چھوٹے کاروباری افراد کے لیے یہ دن کسی عید سے کم نہیں تھے۔ مقامی معیشت میں عارضی مگر نمایاں بہتری دیکھی گئی، جس نے یہ ثابت کیا کہ ثقافتی تہوار صرف تفریح نہیں بلکہ معاشی سرگرمی کا ذریعہ بھی ہوتے ہیں۔
تاہم اس خوشی کے ساتھ خدشات بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ ماضی کے تلخ تجربات، خاص طور پر جان لیوا ڈور اور حادثات، ابھی بھی لوگوں کے ذہنوں میں موجود تھے۔ اگرچہ 2026 میں حفاظتی اقدامات پہلے سے بہتر دکھائی دیے، مگر یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ ایسے تہوار صرف جذبات سے نہیں بلکہ مضبوط پالیسی، سخت قانون اور مؤثر نگرانی سے ہی محفوظ بن سکتے ہیں۔
لاہور 2026 کی بسنت نے دراصل ایک بڑا سوال ہمارے سامنے رکھا ہے: کیا ہم اپنے معاشرے کو ایسی مثبت سرگرمیاں دے سکتے ہیں جو لوگوں کو اسکرین سے نکال کر حقیقی زندگی کی طرف واپس لے آئیں؟ اگر جواب ہاں ہے تو بسنت صرف ایک تہوار نہیں بلکہ ایک سماجی ماڈل بن سکتی ہے، ایسا ماڈل جو ثقافت، معیشت اور سماجی رابطے تینوں کو مضبوط بنائے۔
آخر میں لاہور 2026 کی بسنت ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ انسان آج بھی خوشی، رنگ، اجتماع اور حقیقی لمحوں کا متلاشی ہے۔ اگر ہم اسے محفوظ اور منظم طریقے سے یہ مواقع فراہم کریں تو شاید ہم ایک زیادہ متحرک، زیادہ جڑا ہوا اور زیادہ زندہ معاشرہ بنا سکتے ہیں، جہاں آسمان پر اڑتی پتنگیں صرف کھیل نہیں بلکہ امید کی علامت ہوں۔

