Tail, Taqat Aur Sadarat Ki Hathkariyan
طاقت، تیل اور صدارت کی ہتھکڑیاں

دنیا کی جدید تاریخ میں طاقت کی سب سے بے رحم شکل وہ ہوتی ہے جو خاموشی سے اصول بنا دے۔ 1989ء کی ایک رات امریکی طیارے پاناما کے آسمان پر نمودار ہوئے، چند گھنٹوں میں دارالحکومت مفلوج ہوا، ریاستی ڈھانچہ ٹوٹا اور چند دن بعد پاناما کے صدر جنرل مینوئل نوریگا ایک چرچ سے گرفتار ہو کر امریکہ پہنچا دیے گئے۔ اس واقعے نے عالمی سیاست میں ایک نیا باب کھولا اب صرف حکومتیں نہیں بدلی جاتیں، اب سربراہانِ مملکت بھی اٹھا لیے جاتے ہیں۔ اس دن کے بعد اقتدار، خودمختاری اور بین الاقوامی قانون سب نئی تعریفوں میں قید ہو گئے۔
اسی پس منظر میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کے خلاف امریکی الزامات، انعامات اور گرفتاری کو دیکھا جانا چاہیے کہ کس طرح امریکی فوجی جہاز اور ہیلی کاپٹر وینزویلا آے چند منٹوں میں صدر نکولس مزدوروں اور ان کی اہلیہ کو ان کی صدارتی رہائش گاہ سے گرفتار کرکے امریکہ لے گئے۔ یہ کوئی اچانک ابھرنے والا تنازع نہیں، بلکہ ایک طویل عالمی کھیل کا حصہ ہے، جس کی بساط تیل، سیاست اور طاقت کے گرد بچھائی گئی ہے۔ جب کسی صدر کا نام خبروں میں مجرم کے طور پر آنے لگے تو دراصل پیغام یہ ہوتا ہے کہ اگلا مرحلہ ریاست کے لیے ہوگا، فرد کے لیے نہیں۔
وینزویلا وہ ملک ہے جس کی زمین کے نیچے دنیا کے سب سے بڑے تیل کے ذخائر موجود ہیں، تین سو ارب بیرل سے زائد ثابت شدہ ذخیرہ، مگر زمین کے اوپر غربت، افراطِ زر اور خالی شیلف ہیں۔ یہ تضاد خود ایک سوال ہے۔ اگر وسائل ہی طاقت ہوتے تو وینزویلا آج دنیا کے طاقتور ترین ممالک میں شمار ہوتا، مگر تاریخ بتاتی ہے کہ وسائل تبھی نعمت بنتے ہیں جب ان کے ساتھ مضبوط ریاستی نظم بھی موجود ہو۔
وینزویلا کی کہانی کا فیصلہ کن موڑ ہوگو شاویز کے ساتھ آیا۔ ایک فوجی افسر، جو بغاوت کے بعد جیل گیا اور جیل سے نکل کر عوامی ہیرو بن گیا۔ 1999ء میں اقتدار سنبھالتے ہی شاویز نے امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی۔ تیل کو قومی تحویل میں لیا، غریب کو ریاست کی ترجیح بنایا اور ایک نعرہ دیا جو صرف نعرہ نہیں بلکہ عالمی نظام کے خلاف اعلان تھا:
"پاتریا، سوسیالیسمو او موئرتے"
یعنی وطن، سوشلزم یا موت۔
یہ نعرہ واشنگٹن کے لیے ناقابلِ قبول تھا۔ شاویز نے لاطینی امریکہ کو یہ احساس دلایا کہ امریکی سایہ لازم نہیں۔ تیل کی بلند قیمتوں نے اس خودمختار بیانیے کو طاقت دی، مگر تاریخ کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ کسی ایک شخص کے گرد زیادہ دیر نہیں گھومتی۔ شاویز کے بعد وہی ریاست باقی رہ گئی، مگر حالات بدل چکے تھے۔
نکولس مادورو اقتدار میں آئے تو وہ کسی اشرافیہ سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔ وہ بس ڈرائیور تھے، مزدور سیاست کے نمائندہ، ٹریڈ یونین کے رہنما۔ شاویز نے ان پر اعتماد کیا، انہیں وزیر خارجہ بنایا اور اپنی وفات سے قبل قوم کو ان کے نام کی وصیت کر دی۔ یوں ایک عام آدمی صدر بن گیا۔ ان کی اہلیہ سیلیا فلورس خود بھی سیاست دان رہ چکی تھیں، پارلیمنٹ کا تجربہ رکھتی تھیں۔ ہوگو شاویز کے بعد وینزویلا شدید معاشی بحران، مہنگائی اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوا۔ تیل کی قیمتیں گر چکی تھیں، ریاست ایک ہی آمدنی کے سہارے کھڑی تھی، کرپشن نے اداروں کو کھوکھلا کر دیا تھا اور امریکہ نے پابندیوں کا دائرہ تنگ کرنا شروع کر دیا تھا۔ جس کی بڑی ذمی داری ناقدین کے مطابق مادورو کی حکمرانی ہے، بہت سے تجزیہ کار کہتے ہیں کہ "اگر شاویز انقلابی تھا تو مادورو اس انقلاب کا بوجھ ثابت ہوا"۔ بہرحال معیشت کمزور ہوئی تو عوام ناراض ہوئے، عوام ناراض ہوئے تو ریاست دباؤ میں آئی اور دباؤ میں آئی تو عالمی طاقتوں کے لیے مداخلت آسان ہوگئی۔
یہی فارمولا پہلے عراق میں آزمایا گیا۔ صدام حسین کو پہلے خطرہ بنایا گیا، پھر پابندیاں لگیں، پھر حملہ ہوا، پھر گرفتاری اور آخر میں پھانسی۔ لیبیا میں قذافی کے خلاف انسانی حقوق کا بیانیہ بنایا گیا، نیٹو آیا، قذافی مارے گئے اور ریاست بکھر گئی۔ شام میں پہلے کمزوری پیدا کی گئی، پھر خانہ جنگی نے ملک کو جلا کر رکھ دیا۔ ہر جگہ کہانی مختلف تھی، مگر اسکرپٹ ایک ہی تھا۔
دنیا میں طاقتور حکمرانوں کی گرفتاریوں کی مثالیں یہی بتاتی ہیں کہ انجام ہمیشہ شخص کا نہیں ہوتا، ریاست کا ہوتا ہے۔ صدام حسین، قذافی، چارلس ٹیلر، میلوسووچ، سب پہلے عالمی بیانیے میں مجرم بنائے گئے، پھر تنہا کیے گئے، پھر ان کے ممالک عدم استحکام کی علامت بن گئے۔ جب ریاست کمزور ہو جائے تو صدر کی کرسی کاغذ کی ہو جاتی ہے۔
وینزویلا کے معاملے میں اصل سوال یہ نہیں کہ نکولس مادورو درست ہیں یا غلط۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ریاست نے اپنی معیشت، اپنی افواج اور اپنے اداروں کو ایک ساتھ مضبوط کیا؟ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ صرف فوج کافی نہیں اور صرف نعرے بھی کافی نہیں۔ معیشت کے بغیر دفاع کمزور ہوتا ہے اور دفاع کے بغیر معیشت غیر محفوظ ہو جاتی ہے۔
امریکہ کسی ملک کو ٹینکوں سے پہلے کرنسی کے ذریعے نشانہ بناتا ہے، پھر پابندیوں سے ادارے توڑتا ہے، پھر میڈیا کے ذریعے بیانیہ بناتا ہے اور آخر میں قانون کا لبادہ اوڑھ کر فیصلہ سناتا ہے۔ وینزویلا آج اسی موڑ پر کھڑا ہے جہاں فیصلے ابھی مکمل نہیں ہوئے، مگر سمت واضح ہے۔ تاریخ ہمیشہ یہی یاد رکھتی ہے کہ جو قومیں اپنے وسائل کے ساتھ اپنے ادارے مضبوط نہیں کرتیں، ان کے حکمران ایک دن خبروں میں ہوتے ہیں اور ان کے ممالک مثالوں میں۔
1975ء میں کمبوڈیا کا حکمران پول پوٹ اپنے آپ کو ناقابلِ شکست سمجھتا تھا۔ اس کے پاس نظریہ تھا، بندوق تھی، خوف تھا اور مکمل کنٹرول تھا۔ اس نے ریاست کو اتنا طاقتور بنانے کی کوشش کی کہ انسان غیر ضروری ہوگیا۔ مگر جب معیشت ٹوٹ گئی، ادارے بکھر گئے اور عوام خاموش دشمن بن گئے تو کوئی بیرونی حملہ بھی ضروری نہ رہا۔ پول پوٹ جنگلوں میں بھاگتا رہا، اپنے ہی ملک میں چھپتا رہا اور آخرکار ایک چارپائی پر گمنامی میں مر گیا۔ نہ کوئی عدالت، نہ کوئی گرفتاری، نہ کوئی عالمی سرخی، صرف ایک عبرت۔
ریاستیں اس دن ختم نہیں ہوتیں جب ان پر حملہ ہوتا ہے، ریاستیں اس دن ختم ہوتی ہیں جب وہ اپنے اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ پھر نہ صدارت بچتی ہے، نہ نعرہ، نہ طاقت۔ صرف تاریخ بچتی ہے اور تاریخ کبھی نرم مثالیں نہیں دیتی۔

