Iran, America Aur Tareekh Ka Bojh
ایران، امریکہ اور تاریخ کا بوجھ

تاریخ بعض ملکوں کو صرف جغرافیہ نہیں دیتی، انہیں ایک مستقل امتحان دے دیتی ہے۔ ایران بھی انہی ملکوں میں شامل ہے۔ ایران کے ساتھ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں واقع ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ایران اپنی تاریخ، اپنی تہذیب، اپنی ضد اور اپنی خودداری کے ساتھ زندہ ہے۔ امریکہ اور ایران کی موجودہ کشیدگی کو سمجھنے کے لیے ہمیں صرف آج کے نقشے نہیں دیکھنے، ہمیں پچھلی صدی کی گلیوں میں بھی جانا ہوگا۔
رضا شاہ پہلوی 1878ء میں پیدا ہوئے۔ وہ کسی شاہی خاندان سے نہیں تھے، ایک عام فوجی افسر تھے جو حالات کے دھارے میں بہتے ہوئے اقتدار تک پہنچے۔ 1925ء میں، جب وہ تقریباً 47 برس کے تھے، انہوں نے قاجار خاندان کا تختہ الٹ کر خود کو ایران کا بادشاہ قرار دیا۔ رضا شاہ کا خواب ایک جدید، طاقتور اور مغرب سے ہم قدم ایران تھا۔
انہوں نے ایران کو تیزی سے لبرل بنانے کی کوشش کی۔ پردے پر پابندیاں لگیں، مذہبی طبقے کا اثر کم کیا گیا، عورتوں کو مغربی طرزِ لباس کی ترغیب دی گئی، ناچ گانا، شراب اور مغربی ثقافت ریاستی سرپرستی میں آئی۔ رضا شاہ سمجھتے تھے کہ ترقی کا واحد راستہ مغرب کی نقالی ہے۔ انہوں نے ریلوے لائنیں بچھائیں، جدید تعلیمی ادارے قائم کیے، فوج کو منظم کیا، مگر اس سب کی قیمت مذہب، روایت اور عوامی جذبات نے چکائی۔
رضا شاہ کا دور بظاہر ترقی کا دور تھا مگر اندر ہی اندر ناراضی پل رہی تھی۔ علماء خاموش تھے، مگر مطمئن نہیں تھے۔ عوام سہولتیں تو پا رہے تھے، مگر اپنی شناخت کھوتے جا رہے تھے۔ دوسری جنگِ عظیم نے رضا شاہ کے اقتدار پر آخری ضرب لگائی۔ 1941ء میں اتحادی افواج کے دباؤ پر رضا شاہ کو تخت چھوڑنا پڑا۔ وہ جلاوطنی اختیار کرکے جنوبی افریقہ چلے گئے، جہاں 1944ء میں ان کا انتقال ہوا۔ یوں ایک ایسا بادشاہ جو ایران کو جدید بنانا چاہتا تھا، اپنی سرزمین سے ہزاروں میل دور دفن ہوا۔
رضا شاہ کے بعد ان کے بیٹے محمد رضا شاہ پہلوی اقتدار میں آئے، جنہوں نے باپ کے مشن کو اور زیادہ شدت سے آگے بڑھایا۔ 1971ء میں انہوں نے ایرانی بادشاہت کے 2500 سال مکمل ہونے پر وہ شاندار تقریبات منعقد کیں جو آج بھی تاریخ کی مہنگی ترین شاہی تقریبات میں شمار ہوتی ہیں۔ دنیا بھر کے بادشاہ، صدر اور اشرافیہ ایران بلائی گئی۔ ایران کے صحرا میں خیمہ بستی بسائی گئی، فرانسیسی شیف کھانا پکا رہے تھے اور ملک کے اندر غربت خاموشی سے تماشہ دیکھ رہی تھی۔
یہی تضاد انقلاب کی بنیاد بنا۔ 1979ء میں ایران میں وہ انقلاب آیا جس نے پورے خطے کا نقشہ بدل دیا۔ آیت اللہ روح اللہ خمینی، جو برسوں سے جلاوطنی میں تھے، فرانس کے شہر پیرس سے ایران واپس آئے۔ ان کا استقبال ایسا تھا جیسے کوئی صدیوں بعد لوٹا ہو۔ شاہی نظام چند دنوں میں بکھر گیا۔ محمد رضا شاہ ایران چھوڑ کر پہلے مصر، پھر مراکش، بہاماس، میکسیکو اور آخرکار دوبارہ مصر گئے، جہاں 1980ء میں ان کا انتقال ہوا۔
شاہِ ایران کا بیٹا، رضا پہلوی (ولی عہد)، انقلاب کے بعد سے امریکہ میں مقیم ہے اور کئی دہائیوں سے وہیں رہ رہا ہے۔ وہ خود کو جمہوریت پسند اور سیکولر لیڈر کے طور پر پیش کرتا ہے اور مغربی میڈیا میں وقتاً فوقتاً متحرک نظر آتا ہے۔ امریکہ اور بعض مغربی حلقے اسے ایک ممکنہ متبادل قیادت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ واشنگٹن کی خواہش یہ ہے کہ اگر ایران میں کبھی نظام کمزور ہو تو کسی اندرونی فوجی بغاوت، عوامی احتجاج یا معاشی بحران کے نتیجے میں رضا پہلوی کو علامتی سربراہ بنا کر ایک مغرب نواز حکومت قائم کی جا سکے۔ تاہم ایران کی زمینی حقیقت یہ ہے کہ پہلوی خاندان اب ایران کے اندر کوئی مضبوط عوامی جڑ نہیں رکھتا۔
انقلاب کے بعد ایران نے ایک بالکل مختلف راستہ چنا۔ یہاں جمہوریت بھی ہے، مگر محدود۔ یہاں مذہب بھی ہے، مگر ریاستی طاقت کے ساتھ۔ ایران کا موجودہ حکومتی نظام ولایتِ فقیہ کہلاتا ہے۔ اس نظام میں اصل طاقت سپریم لیڈر (رہبرِ اعلیٰ) کے پاس ہوتی ہے۔ موجودہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ہیں، جو 1989ء سے اس منصب پر فائز ہیں۔
آیت اللہ خامنہ ای صرف ایران کے نہیں، دنیا بھر کے شیعہ مسلمانوں میں ایک مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ مذہبی رہنما بھی ہیں، سیاسی رہنما بھی اور عسکری نظام کے بھی نگران ہیں۔ ایران کا صدر، پارلیمنٹ، عدلیہ، سب موجود ہیں، مگر ان سب پر بالادستی سپریم لیڈر کی ہے۔
ایران کی فوج دو حصوں میں تقسیم ہے۔ ایک ریگولر آرمی اور دوسری پاسدارانِ انقلاب۔ پاسدارانِ انقلاب صرف فوج نہیں، ایک نظریہ ہے۔ یہ فورس انقلاب کے تحفظ کے لیے بنائی گئی اور براہِ راست سپریم لیڈر کے کنٹرول میں ہے۔ ایران کا میزائل پروگرام، خطے میں اثر و رسوخ، لبنان، عراق، شام اور یمن میں اتحادی، سب کچھ پاسدارانِ انقلاب کی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔
امریکہ کو ایران سے مسئلہ صرف نظریاتی نہیں، اسٹریٹیجک بھی ہے۔ ایران دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جن کے پاس بہت بڑے ثابت شدہ تیل اور گیس کے ذخائر ہیں۔ ایران تیل کے ذخائر میں دنیا کے سرفہرست ممالک میں شامل ہے اور قدرتی گیس کے ذخائر میں روس کے بعد نمایاں مقام رکھتا ہے۔ یہ وسائل امریکہ کی آنکھوں میں کھٹکتے ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ ایران انہیں آزادانہ طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔
امریکہ کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ ایران اپنا ایٹمی پروگرام مکمل طور پر ختم کرے۔ ایران کہتا ہے کہ اس کا پروگرام پُرامن ہے، امریکہ کہتا ہے کہ اسے یقین نہیں۔ اسی کشمکش نے پابندیاں، دھمکیاں اور خطے میں کشیدگی پیدا کی۔
کچھ تجزیہ کار یہ بھی کہتے ہیں کہ امریکہ وینزویلا کی طرح کوئی کارروائی کرکے ایران کی قیادت کو نشانہ بنا سکتا ہے، مگر میرا خیال ہے کہ امریکہ ایسی غلطی نہیں کرے گا۔ ایران وینزویلا نہیں ہے۔ ایران کی ریاست مضبوط ہے، اس کا نظریاتی ڈھانچہ گہرا ہے اور اس کی عوامی مزاحمت کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای کوئی تنہا شخص نہیں، وہ ایک پورے نظام کی علامت ہیں۔
ایران کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ اسے دبایا جا سکتا ہے، جھکایا نہیں جا سکتا۔ امریکہ شاید دباؤ بڑھاتا رہے، مگر ایران اپنی ضد، اپنی تاریخ اور اپنی خودداری کے ساتھ کھڑا رہے گا اور شاید یہی بات ایران کو خطرناک بھی بناتی ہے اور منفرد بھی، کیونکہ جو قومیں تاریخ کے ساتھ جینا جان لیں، وہ آسانی سے ہتھیار نہیں ڈالا کرتیں۔

