Iqtidar, Khushiyan Aur Sawal
اقتدار، خوشیاں اور سوال

کبھی کبھی ایک شادی ایک خاندان کا ذاتی معاملہ نہیں رہتی، وہ ایک علامت بن جاتی ہے۔ ایسی علامت جو معاشرے کے مزاج، حکمرانوں کے شعور اور ریاست کے اخلاقی معیار کو بے نقاب کر دیتی ہے۔ خاص طور پر جب شادی اقتدار کے ایوانوں سے جڑے کسی گھر میں ہو تو وہ خوشی کم اور سوال زیادہ بن جاتی ہے۔ قوم پھر یہ نہیں دیکھتی کہ دلہا دلہن کون ہیں، قوم یہ دیکھتی ہے کہ اقتدار میں بیٹھے لوگ خود کو کس صف میں کھڑا کرتے ہیں۔
دنیا کی تاریخ میں اقتدار اور سادگی کا تعلق بڑا عجیب مگر بڑا واضح رہا ہے۔ جن معاشروں میں حکمران خود کو عوام کے برابر سمجھتے ہیں وہاں خوشیاں بھی دبی آواز میں منائی جاتی ہیں۔ برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے مئی 2021 میں، عہدے پر فائز ہوتے ہوئے، نہایت مختصر اور سادہ تقریب میں شادی کی۔ چند قریبی لوگ، کوئی شاہانہ اسٹیج، کوئی دنوں پر محیط تقریبات نہیں۔ اس شادی پر کسی نے انگلی نہیں اٹھائی، اس لیے نہیں کہ لوگ حکومت سے خوش تھے بلکہ اس لیے کہ حکمران نے خوشی مناتے ہوئے بھی عوام کو یاد رکھا۔
یہی رویہ نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کا تھا۔ اقتدار میں رہتے ہوئے شادی کی، ماں بنیں، مگر نہ شادی کو تماشہ بنایا اور نہ ذاتی زندگی کو سیاسی سرمایہ۔ جرمنی کی سابق چانسلر انجیلا مرکل کی شادی بھی ایک خاموش اور غیر نمایاں تقریب تھی۔ کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو اقتدار میں آنے کے بعد اپنی خاندانی تقریبات ہمیشہ سادگی اور نجی حدود میں رکھتے رہے۔ یہ سب لوگ غریب نہیں تھے، مگر یہ سب یہ جانتے تھے کہ اقتدار کے ساتھ نمود و نمائش نہیں، ضبط زیب دیتا ہے۔
یہ مثالیں اس لیے اہم ہیں کہ یہ ہمیں یہ سمجھاتی ہیں کہ مسئلہ پیسے کا نہیں، مسئلہ ترجیحات کا ہے۔
پاکستان میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کی شادی بھی اسی تناظر میں دیکھی جا رہی ہے۔ یہ شادی اس لیے موضوعِ بحث نہیں بنی کہ شادی ہوئی، شادی تو ہر گھر میں ہوتی ہے، یہ اس لیے زیرِ بحث آئی کہ یہ کیسے ہوئی اور کس ماحول میں ہوئی۔
جنید صفدر کی یہ دوسری شادی ہے۔ پہلی شادی کے موقع پر بھی تقریبات کئی دن جاری رہیں، مہنگے ملبوسات، بڑے انتظامات، بھرپور میڈیا کوریج۔ اب ایک بار پھر وہی منظر۔ قیمتی لباس، خاص طور پر مریم نواز کے مہنگے ملبوسات، انواع و اقسام کے کھانے اور ایسی تقریبات جو کئی دنوں تک موضوع بنی رہیں۔ سوال یہ نہیں کہ یہ سب پیسہ کہاں سے آیا، سوال یہ ہے کہ یہ سب کب اور کس حال میں کیا گیا۔
یہ وہ ملک ہے جہاں آج عام آدمی روٹی کے لیے پریشان ہے۔ جہاں نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے نوکریوں کی لائن میں کھڑے ہیں۔ جہاں کاروبار بند ہو رہے ہیں۔ جہاں بجلی اور گیس کے بل گھروں کا سکون نگل چکے ہیں۔ جہاں ایک متوسط آدمی شادی کرتے ہوئے دس بار سوچتا ہے کہ کہیں قرض کے بوجھ تلے نہ آ جائے۔
ایسے میں جب حکمران طبقہ شادیوں پر کروڑوں روپے خرچ کرتا دکھائی دے تو عوام کے دل میں سوال جنم لیتا ہے اور یہ سوال بدتمیزی نہیں، یہ فطری ردعمل ہے۔
یہاں ایک بنیادی اصول ہے جسے ہمارے سیاستدان اکثر بھول جاتے ہیں۔ حکمران نجی زندگی بھی عوامی آنکھ سے نہیں بچا سکتے۔ اقتدار میں آنے کے بعد آپ کی خوشی، آپ کا غم، آپ کا لباس، آپ کی تقریب، سب کچھ عوام کے ترازو میں تولا جاتا ہے۔ اگر مریم نواز سیاست میں نہ ہوتیں، اگر وہ وزیر اعلیٰ نہ ہوتیں، تو شاید یہ شادی محض ایک خاندانی تقریب رہتی۔ جیسے بھارت میں امبانی خاندان کی شادی دنیا کی مہنگی ترین شادیوں میں شمار ہوتی ہے، مگر وہاں کوئی بڑا سوال نہیں اٹھتا، اس لیے کہ وہ کاروباری لوگ ہیں، حکمران نہیں۔
فرق بس یہی ہے۔
ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ ہم عوام کو سادگی کے درس دیتے ہیں، ون ڈش کی پابندی لگاتے ہیں، فضول خرچی پر لیکچر دیتے ہیں، مگر خود جب موقع آتا ہے تو ہم وہ سب کچھ کر گزرتے ہیں جس سے ہم نے عوام کو روکا ہوتا ہے۔ چند دن پہلے فریال تالپور صاحبہ کی بیٹی کی شادی پر بھی یہی منظر دیکھا گیا۔ وہی شان، وہی نمود، وہی فاصلے جو عوام اور حکمران کے درمیان دیوار بن جاتے ہیں۔
سیاست میں سب سے خطرناک چیز یہی فاصلے ہوتے ہیں۔
عوام شاید غربت برداشت کر لیتی ہے، مگر تضاد برداشت نہیں کرتی۔ جب لیڈر زبان سے کچھ اور کرے اور عمل میں کچھ اور ہو تو اعتماد ٹوٹ جاتا ہے۔ سیاست اعتماد کا کھیل ہے اور اعتماد تقریروں سے نہیں، مثال سے بنتا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بھارت کے کئی سیاستدان کروڑوں اربوں کے مالک ہونے کے باوجود سادہ طرزِ زندگی اختیار کرتے ہیں۔ ان کے گھروں میں شادی ہوتی ہے، مگر وہ قومی خبر نہیں بنتی۔ اس لیے نہیں کہ وہاں میڈیا آزاد نہیں، بلکہ اس لیے کہ وہاں نمائش نہیں ہوتی۔ ہمارے سیاستدان اگر واقعی عوامی سیاست کرنا چاہتے ہیں تو انہیں یہ سبق کم از کم اپنے ہمسایوں سے ہی سیکھ لینا چاہیے۔
اس ساری بحث میں ایک اور پہلو بھی ہے جس پر بات کرنا اخلاقی ذمہ داری ہے۔ جنید صفدر کی شادی کے حوالے سے ان کی دلہن اور مریم نواز کے خلاف سوشل میڈیا پر جو بیہودہ، ذاتی اور گھٹیا ٹرولنگ ہو رہی ہے، وہ نہ تنقید ہے اور نہ صحافت، وہ محض اخلاقی دیوالیہ پن ہے۔ خواتین کی تضحیک، ان کے لباس، چہرے یا ذاتی زندگی کو نشانہ بنانا کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔
تنقید کا حق سب کو ہے، مگر یہ حق گالی بن جائے تو معاشرہ بیمار ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر دلہن کو نشانہ بنانا، جو نہ سیاست میں ہے اور نہ اقتدار میں، ہمارے اجتماعی زوال کی واضح علامت ہے۔ ہمیں یہ فرق سیکھنا ہوگا کہ تنقید پالیسی پر ہوتی ہے، کردار کشی انسانیت پر حملہ ہوتی ہے۔
آخر میں سوال بڑا سادہ ہے مگر بڑا گہرا بھی۔
کیا ہمارے حکمران یہ سمجھنے کو تیار ہیں کہ اقتدار صرف سہولت نہیں، امتحان بھی ہے؟
کیا وہ یہ جاننے کو تیار ہیں کہ قوم انہیں صرف ووٹ نہیں دیتی، نظر بھی رکھتی ہے؟
شادی خوشی کا موقع ہوتی ہے، مگر جب حکمرانوں کے گھروں کی خوشیاں عوام کے زخموں پر نمک بن جائیں تو وہ خوشی نہیں رہتیں، ایک سوال بن جاتی ہیں۔
اور تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ قومیں تصویریں نہیں، تضاد یاد رکھتی ہیں۔

