Sunday, 18 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Umar Shahzad
  4. Imran Khan Siyasat Ki Pitch Par (2)

Imran Khan Siyasat Ki Pitch Par (2)

عمران خان سیاست کی پچ پر (2)

کہتے ہیں سیاست میں دو طاقتیں کبھی نیوٹرل نہیں ہوتیں: ہوا اور ہوا کا رخ بدلنے والے اور 2010ء سے 2013ء تک پاکستان کی سیاست میں یہ دونوں طاقتیں ایک سمت بہنے لگیں، عمران خان کی طرف۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر ایک خاموش مگر بھرپور انجینئرنگ جاری تھی۔ ٹیلی ویژن اسکرینوں پر عمران خان کا بیانیہ، سوشل میڈیا پر ان کی گونج، جلسوں میں ان کی شہرت اور پس پردہ سیاسی جوڑ توڑ، سب کچھ ایک سمت دھکیلا جا رہا تھا: تحریک انصاف کو آگے لانا ہے۔

2011ء کا مینارِ پاکستان جلسہ اس منصوبے کی پہلی بڑی کامیابی تھا۔ لاہور کی سرد شام کو لاکھوں کا مجمع جمع کرنا کسی سیاسی جماعت کے بس کی بات نہیں تھا۔ اسٹیبلشمنٹ، بیوروکریسی کے مخصوص حلقے، مختلف ایجنسیوں کے مقامی سیٹ اپ، سب نے ایک ایک دھاگے سے وہ جال بُنا جس نے ایک ہی رات میں عمران خان کو "قومی لیڈر" بنا دیا۔ مگر یہ صرف جلسوں کی رونق نہیں تھی، اصل کھیل پردے کے پیچھے جاری تھا۔

2011ء کے بعد ملک کی سیاست میں ایک دلچسپ منظر بار بار دیکھا گیا:

پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ق، مسلم لیگ ن، حتیٰ کہ چھوٹی جماعتوں کے وہ سیاستدان جو برسوں سے اپنے اپنے حلقوں میں مضبوط تھے، اچانک تحریک انصاف میں شامل ہونے لگے۔ کسی کو سمجھایا گیا، کسی پر دباؤ ڈالا گیا، کسی کو نئی بارگین کی پیشکش ہوئی اور کسی کو اشارہ کر دیا گیا کہ "وقت بدل رہا ہے، سمت بدل لو"۔

روز ٹی وی چینلز پر ٹِکر چلتا تھا:

"پیپلز پارٹی کی مزید دو وکٹیں گر گئیں"۔

"مسلم لیگ ن کا اہم کھلاڑی تحریک انصاف میں شامل"۔

اور عمران خان ہر آنے والے کے گلے میں پرچم ڈالتے ہوئے وہی جملہ دہراتے:

"انہوں نے ضمیر کی آواز پر فیصلہ کیا ہے"۔

اصل میں ضمیر کی آواز کم اور پس منظر کی آواز زیادہ تھی۔

اگر تحریک انصاف اُس زمانے میں ایک ابھرتا ہوا برانڈ تھا تو اس برانڈ کی مارکیٹنگ پر سب سے زیادہ سرمایہ جہانگیر ترین اور علیم خان نے لگایا۔ پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا۔ جلسوں کے اخراجات، اسٹیج کی تیاری، لاکھوں کے بینرز، ہزاروں لوگوں کی ٹرانسپورٹ، خصوصی مہمات اور وہ مشہور "جہاز" جو ایک وقت میں پورے پنجاب کے الیکٹ ایبلز اٹھا لاتا تھا۔

اس زمانے میں کہا جاتا تھا "تحریک انصاف عمران خان کی ہے، مگر چلتی جہانگیر ترین اور علیم خان کے پیسے پر ہے"۔

یہ دونوں شخصیات پارٹی کے اندر ATMs کے نام سے مشہور ہوگئیں۔ جہانگیر ترین کے ڈیرے پر روز نئے چہرے آتے، رت جگے ہوتے، نئی وفاداریاں جنم لیتیں اور سیاسی نقشے بدلتے۔ علیم خان لاہور میں یہی کردار ادا کر رہے تھے۔

ٹی وی چینلز پر دباؤ، ہدایات، مخصوص بیانیے کی تشکیل۔ سکرینوں پر مقدمات میں گھری سیاسی قیادت کو "چور، لٹیرا" بنا کر دکھایا جاتا۔ جبکہ عمران خان کو صاف ستھرا، ایماندار، دلیر، نڈر لیڈر کے طور پر پیش کیا جاتا۔

یہ وہ دور تھا جب سوشل میڈیا پہلی بار طاقت بنا تھا اور تحریک انصاف نے اس طاقت کو اسی شدت سے استعمال کیا جیسے لیبارٹری میں رکھے تجربے کو پہلی بار ہوا ملے۔ ہر مخالف کی کردارکشی، ہر ناقد پر حملہ، ہر سوال اٹھانے والے کے خلاف سوشل میڈیا کی پوری فوج کھڑی کر دی جاتی۔

اتنی کوششوں، اتنے جلسوں، اتنے بڑے ناموں، اتنے بیانیے اور اتنی انجینئرنگ کے باوجود 2013ء کے عام انتخابات میں تحریک انصاف قومی اسمبلی سے صرف 28 نشستیں جیت پائی۔

چند آزاد امیدوار شامل کیے گئے تو تعداد بڑھ کر 35 ہوگئی۔ یہ وہ حقیقت تھی جو عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ دونوں کو حیران کر گئی۔

جلسوں کا سمندر ووٹوں میں تبدیل نہ ہو سکا۔ خیبر پختونخواہ میں مجموعی 99 نشستوں میں سے تحریک انصاف صرف 35 سیٹیں لے پائی۔ یہاں بھی وہ حکومت بنانے کی مطلوبہ تعداد سے بہت دور تھی۔ مگر اقتدار ملا اور یہ اقتدار تحریک انصاف کی سیاسی قوت سے کم اور "سیاسی اتفاق" سے زیادہ ملا اور یہ "سیاسی اتفاق" تھا صدر آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے درمیان۔

اگر مسلم لیگ ن چاہتی تو پیپلز پارٹی، جے یو آئی ف، اے این پی اور آزاد امیدواروں کو ساتھ ملا کر آسانی سے کے پی میں حکومت بنا سکتی تھی۔ مگر اس وقت صدر آصف علی زرداری اور نواز شریف کے درمیان ایک خاموش معاہدہ تھا: "جس صوبے میں جس کی اکثریت ہوگی، اسے حکومت کرنے دی جائے گی"۔

لہٰذا دونوں جماعتوں نے تحریک انصاف کو صوبہ دینے کا فیصلہ کیا۔ یوں 2013ء میں وہ حکومت بنی جس نے عمران خان کو پہلی بار عملی اقتدار کا ذائقہ چکھایا اور ان کی آئندہ سیاست کے لیے بنیاد فراہم کر دی۔

انگریزی کی ایک کہاوت ہے:

"A tree is known by its fruit, not by its shadow. "

انسان کو مواقع، سہولتیں اور راستے مل جانا کوئی کمال نہیں ہوتا۔ اصل امتحان اس وقت شروع ہوتا ہے جب اختیار مل جائے اور سایہ نہیں، اصل پھل سامنے آ جائے۔ 2013ء سے پہلے عمران خان کو سایہ بھی بھرپور ملا اور ہوا بھی۔

لیکن اصل سوال یہ تھا: وہ اس سارے انتظام کے بعد کیا "فصل" کاٹنے والے تھے؟

جاری ہے۔۔

Check Also

Iran-America Kasheedgi, Maslak Ya Ummat?

By Muhammad Riaz