Epstein Files: Sach, Shor Aur Taqat Ki Siasat
ایپسٹین فائلز: سچ، شور اور طاقت کی سیاست

نیویارک کی وہ صبح عام دنوں جیسی نہیں تھی۔ عدالت کے باہر کیمرے لگے تھے، صحافی سرگوشیوں میں بات کر رہے تھے اور سوشل میڈیا پہلے ہی فیصلے سنا چکا تھا۔ جج نے فائل میز پر رکھی، مہر توڑی اور چند الفاظ کہے، مگر ان الفاظ کی گونج واشنگٹن سے لندن اور دہلی سے تل ابیب تک سنائی دی۔ برسوں سے بند وہ دستاویزات، جنہیں طاقتور ناموں کی قبر کہا جاتا تھا، پہلی بار عوام کے سامنے آنے والی تھیں۔ یہی لمحہ تھا جب ایپسٹین فائلز محض ایک قانونی اصطلاح نہیں رہیں، بلکہ عالمی سیاست کا موضوع بن گئیں۔
یہ فائلز کسی خفیہ ایجنسی کی رپورٹ نہیں تھیں، یہ عدالتوں میں جمع ہونے والا وہ مواد تھا جو برسوں سے سیل تھا۔ ان میں گواہوں کے بیانات تھے، متاثرہ خواتین کی کہانیاں تھیں، ای میلز تھیں، سفری ریکارڈ تھے اور ایسے نام تھے جنہیں دیکھ کر عام آدمی چونک جاتا ہے۔ مگر یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ان فائلز میں الزام ہے، فیصلہ نہیں۔ یہی فرق سچ اور سنسنی کے درمیان دیوار بناتا ہے۔
ایپسٹین فائلز کی بنیاد ورجینیا جیوفری اور دیگر متاثرہ خواتین کے دیوانی مقدمات ہیں۔ ان خواتین نے عدالت میں کہا کہ ایپسٹین نے انہیں کم عمری میں طاقتور مردوں کے سامنے پیش کیا، مگر عدالت نے ان بیانات کو فوجداری فیصلے میں نہیں بدلا۔ وجہ سادہ تھی: مرکزی ملزم زندہ نہیں تھا۔ ایپسٹین کی موت نے انصاف کے دروازے بند کر دیے، مگر سوالات کے نہیں۔
یہی سوالات آج سیاست کا ایندھن بن چکے ہیں۔
دنیا بھر میں جیسے ہی فائلز کھلیں، میڈیا نے نام اٹھائے، سوشل میڈیا نے کہانیاں بنائیں اور سیاست دانوں نے موقع پہچان لیا۔ ہر ملک میں اپوزیشن نے اپنی حکومتوں سے شفافیت مانگنا شروع کر دی۔ بھارت میں بھی یہی ہوا۔ چند دنوں میں سوشل میڈیا پر دعوے گردش کرنے لگے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا بھی ایپسٹین سے تعلق تھا، یہاں تک کہا گیا کہ وہ کسی تقریب میں وہاں موجود تھے یا ڈانس کیا۔
تحقیقی صحافت کی بنیاد یہ ہے کہ دعویٰ اور ثبوت کو الگ رکھا جائے۔
اب تک دستیاب تمام عدالتی ریکارڈ، فلائٹ لاگز، متاثرین کے بیانات اور مستند صحافتی تحقیقات میں نریندر مودی کا نام بطور شریک، مہمان یا ملزم کہیں موجود نہیں۔ نہ کوئی دستاویز، نہ کوئی گواہی، نہ کوئی ریکارڈ۔
اس کے باوجود بھارتی اپوزیشن، خصوصاً کانگریس پارٹی کے بعض رہنماؤں نے اس معاملے کو سیاسی تنقید کے لیے استعمال کیا۔ انہوں نے پریس کانفرنسوں میں سوال اٹھایا کہ اگر دنیا بھر میں طاقتور لوگوں کے نام سامنے آ رہے ہیں تو بھارتی وزیراعظم کو بھی وضاحت دینی چاہیے۔ یہ تنقید ثبوت پر نہیں، سیاسی دباؤ پر مبنی تھی۔ جواب میں بی جے پی اور حکومت نے ان دعوؤں کو جھوٹ، افواہ اور سیاسی پروپیگنڈا قرار دیا۔
یہ منظر ہمیں ایک پرانا سبق یاد دلاتا ہے: جب سچ کمزور ہو اور الزام طاقتور، تو سیاست شور میں بدل جاتی ہے۔
ایپسٹین فائلز کا اصل مسئلہ یہی ہے۔ یہ کیس بتاتا ہے کہ طاقت صرف جرم نہیں کرتی، طاقت خاموشی خریدتی ہے۔ ایپسٹین کے پاس پیسہ تھا، مگر اس سے زیادہ اہم اس کے پاس رسائی تھی۔ وہ رسائی جو بند دروازوں، نجی طیاروں اور نجی جزائر تک جاتی ہے۔
ایپسٹین کے طیارے کو "لولیتا ایکسپریس" کہا جاتا تھا۔ فلائٹ لاگز میں کئی معروف مغربی شخصیات کے نام درج ہیں، جن میں سابق امریکی صدر بل کلنٹن، موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، ہیلری کلنٹن، بل گیٹس، ایلون مسک اور مشہور فنکار مائیکل جیکسن شامل ہیں۔ مگر یہ لاگز یہ نہیں بتاتے کہ طیارے میں کیا بات ہوئی، جزیرے پر کیا ہوا اور کن لمحوں میں کون سا جرم ہوا۔ یہی خلا سازشی نظریات کو جنم دیتا ہے اور جب خلا ہو، تو افواہ اسے بھر دیتی ہے۔
اسی خلا میں یہ دعوے بھی پیدا ہوئے کہ ایپسٹین کے ہاں شیطانی رسومات ہوتی تھیں، انسانی گوشت کھایا جاتا تھا، یا خون پیا جاتا تھا۔ یہ دعوے سنسنی خیز ضرور ہیں، مگر کسی ایک عدالتی دستاویز، ایف بی آئی رپورٹ یا متاثرہ فرد کے بیان میں ان کا ذکر نہیں۔ یہ بات کہنا ضروری ہے، کیونکہ جھوٹ کو سچ کے ساتھ ملا دینا اصل جرم کو دھندلا دیتا ہے۔
میڈیا کا کردار بھی یہاں کٹہرے میں آتا ہے۔ کچھ امریکی صحافیوں نے بعد میں تسلیم کیا کہ ان کے پاس ایپسٹین کے خلاف مواد موجود تھا، مگر اسے نشر کرنے کی اجازت نہیں ملی۔ اشتہارات، تعلقات اور طاقت نے سچ کو روک لیا۔ یہ اعتراف اس کیس کا سب سے خطرناک پہلو ہے، کیونکہ جب میڈیا خاموش ہو جائے تو انصاف تنہا رہ جاتا ہے۔
ایپسٹین کی موت نے اس تنہائی کو مکمل کر دیا۔
کیمرے بند تھے، گارڈ سو رہے تھے اور ایک ایسا شخص مر گیا جو اگر بولتا تو شاید تاریخ بدل جاتا۔ اس کے بعد فائلز تو کھلیں، مگر عدالتیں خاموش ہوگئیں۔ متاثرین کے لیے انصاف کا مطلب صرف مالی تصفیہ رہ گیا۔
ایپسٹین کے جزیرے اور رہائش گاہ کی تفصیلات بھی دستاویزات میں موجود ہیں: کیمروں کی کمی، سیکورٹی کے کمزور انتظامات اور جزیرے تک پہنچنے والے افراد کی مکمل فہرستیں۔ یہ منظر کشی ہمیں بتاتی ہے کہ طاقت کس طرح اپنی حدود کو محفوظ رکھتی ہے اور شفافیت کو محدود کرتی ہے۔
کچھ متاثرہ خواتین نے عدالت میں اپنے خوف اور صدمے کے لمحات بیان کیے اور بتایا کہ کس طرح انہیں خاموش رہنے پر مجبور کیا گیا۔ ان کی باتیں انسانی دل پر اثر ڈالتی ہیں اور یہ سوال پیدا کرتی ہیں کہ اگر طاقتور لوگ اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے قانون سے بالاتر رہ سکتے ہیں تو عام انسان کے لیے انصاف کیسی ضمانت ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ایپسٹین فائلز ایک کیس نہیں، ایک علامت بن جاتی ہیں۔ علامت اس بات کی کہ دنیا میں قانون سب کے لیے برابر نہیں اور طاقتور لوگوں کے لیے ہمیشہ ایک دروازہ کھلا رہتا ہے۔
اس کے باوجود یہ بھی حقیقت ہے کہ ایپسٹین کیس نے عالمی سطح پر طاقت اور احتساب پر سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں۔ اگر ایک شخص برسوں تک نظام کا فائدہ اٹھا سکتا ہے تو عوام کا شکوک میں مبتلا ہونا فطری ہے۔ یہی شکوک سیاست دان استعمال کرتے ہیں اور یہی شکوک میڈیا بیچتا ہے۔
ایپسٹین فائلز ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ ہر بڑا انکشاف سچ نہیں ہوتا، مگر ہر سوال غلط بھی نہیں ہوتا۔ اصل ذمہ داری یہ ہے کہ سوال پوچھتے وقت ثبوت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے۔
ایپسٹین کی موت کے بعد اصل احتساب دفن ہوگیا۔ اب نہ کوئی جرح ہے، نہ کوئی مرکزی ملزم۔ جو بچا ہے وہ قیاس آرائیاں ہیں، سیاسی بیانات ہیں اور میڈیا کی سرخیاں ہیں۔ یہی خلا افواہوں کو جنم دیتا ہے، چاہے وہ امریکہ ہو، برطانیہ ہو یا بھارت۔

