Tuesday, 17 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Umar Shahzad
  4. Epstein Files: Khamoshi, Taqat Aur Insani Almiya

Epstein Files: Khamoshi, Taqat Aur Insani Almiya

ایپسٹین فائلز: خاموشی، طاقت اور انسانی المیہ

سن 1974ء میں امریکا کے صدر رچرڈ نکسن نے وائٹ ہاؤس چھوڑا۔ یہ امریکی تاریخ کا وہ لمحہ تھا جسے آج بھی ایک مثال کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ واٹرگیٹ اسکینڈل نے ثابت کر دیا تھا کہ اگر ادارے چاہیں تو دنیا کی سب سے طاقتور کرسی پر بیٹھا شخص بھی جواب دہ ہو سکتا ہے۔ یہ واقعہ دہائیوں بعد بھی قانون، احتساب اور طاقت کی حدود پر ایک زندہ حوالہ ہے اور اب بھی اس سے بہت سے لوگ سبق لیتے ہیں، کیونکہ یہ بتاتا ہے کہ طاقتور بھی قانون کے تابع ہو سکتے ہیں اگر ادارے مضبوط ہوں۔ یہ سبق آج بھی ہر محقق، صحافی اور سماجی کارکن کے لیے رہنمائی کا باعث ہے، کیونکہ یہ یاد دلاتا ہے کہ طاقت کے سامنے عدلیہ اور اداروں کی غیر جانبداری ضروری ہے۔

یہی وہ معیار تھا جسے بعد میں امریکا اور یورپ اپنے نظامِ انصاف کی پہچان بنا کر پیش کرتے رہے اور یہی معیار دنیا کے دیگر ممالک میں بھی حوالہ کے طور پر لیا جاتا رہا، چاہے وہ میڈیا ہو یا تعلیمی مباحث۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر وہی نظام آج ایک ایسے انسانی المیے پر خاموش ہو جائے جس میں سینکڑوں کم عمر بچیاں متاثر ہوئیں، تو پھر واٹرگیٹ صرف تاریخ رہ جاتا ہے، اصول نہیں اور معاشرتی یاداشت میں ایک تلخ خلا پیدا ہو جاتا ہے۔

ایپسٹین اسکینڈل دراصل طاقت، دولت اور اخلاقیات کے تصادم کی وہ کہانی ہے جو جدید دنیا کے ضمیر پر ایک گہرا سوالیہ نشان ہے۔ چند دن دنیا نے شور سنا، اخبارات بھر گئے، ٹی وی اسکرینوں پر تجزیے چلتے رہے اور پھر آہستہ آہستہ خاموشی چھا گئی۔ یہ خاموشی صرف میڈیا کی عارضی توجہ کی کمی نہیں، بلکہ ایک وسیع اور سنجیدہ انسانی مسئلے کی طرف معاشرتی لاپروائی کو بھی ظاہر کرتی ہے، جو ہر سنجیدہ محقق کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔

یہ خاموشی ہی اصل مسئلہ ہے، کیونکہ انصاف کا تعین صرف شور اور دن کے تجزیوں سے نہیں ہوتا، بلکہ مستقل اور مسلسل توجہ اور ادارہ جاتی عمل سے ہوتا ہے۔ اس خاموشی نے عالمی سطح پر ایک ایسا پیغام دیا کہ طاقتور افراد کے سامنے انصاف اکثر محدود اور غیر موثر رہ جاتا ہے اور یہی سب سے بڑا سبق ہے۔

اکثر بحثوں میں یہ بنیادی حقیقت پسِ منظر میں چلی جاتی ہے کہ ایپسٹین کیس محض ایک اسکینڈل نہیں تھا بلکہ سینکڑوں کم عمر بچیوں کے ساتھ جنسی استحصال کا معاملہ تھا۔ یہ وہ بچیاں تھیں جن کی زندگیاں ابھی شروع ہی ہوئی تھیں، مگر انہیں انسانی کھال میں چھپے بھیڑیوں کے سامنے لا کھڑا کیا گیا۔ یہ وہ درندے تھے جو معاشرت میں عزت اور طاقت کے اعلیٰ درجات پر بیٹھے ہوئے تھے اور جنہیں عام لوگ محترم سمجھتے تھے۔

یہ درندے عام لوگ نہیں تھے۔

یہ وہ لوگ تھے جنہیں معاشرہ معزز کہتا ہے۔

جن کے نام طاقت کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔

اور جنہیں تہذیب اور ترقی کی نمائندگی قرار دیا جاتا ہے۔

یہی اس کہانی کی سب سے تلخ حقیقت ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ معاملہ عام اسکینڈل سے کہیں زیادہ خطرناک اور عبرت آموز ہے۔ اس کے اثرات نہ صرف متاثرین پر بلکہ معاشرت اور نظامِ انصاف پر بھی طویل مدتی ہیں۔

ایپسٹین کی گرفتاری کے بعد یہ امید بندھی تھی کہ شاید اس بار نظام خود کو درست ثابت کرے گا۔ مگر اس کی موت کے ساتھ ہی اصل احتساب بھی دفن ہوگیا۔ نہ کوئی مرکزی ملزم رہا، نہ کوئی فیصلہ کن ٹرائل اور نہ ہی وہ جواب دہی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ یہ خاموشی ہمیں ایک تلخ حقیقت سے روبرو کرتی ہے کہ طاقتور افراد کے سامنے انصاف اکثر ناکام رہتا ہے اور یہ ناکامی صرف قانونی نہیں، بلکہ اخلاقی اور سماجی بھی ہے۔

یہاں سے شکوک جنم لیتے ہیں اور یہ شکوک عوامی سطح پر سیاسی اور سماجی مباحث کے لیے مواد فراہم کرتے ہیں۔ یہ شکوک اس بات کی یاد دہانی بھی کراتے ہیں کہ عالمی طاقت اور نظام انصاف کے درمیان ایک خلیج موجود ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

یہ کہنا درست ہے کہ سامنے آنے والی فائلز عدالتی فیصلے نہیں بلکہ بیانات اور دعوے ہیں۔ ہر نام کو مجرم قرار دینا نہ قانونی ہے اور نہ اخلاقی۔ مگر اصل سوال یہ ہے کہ فیصلے ہوئے ہی کیوں نہیں؟ جب نظام طاقتور افراد کے سامنے محتاط ہو جائے، تو سچ ادھورا رہ جاتا ہے اور معاشرتی اعتماد مجروح ہو جاتا ہے۔

یہی ادھورا سچ عوام کو بے چین کرتا ہے، سیاست دانوں کو مواد فراہم کرتا ہے اور میڈیا کو سنسنی پیدا کرنے کا موقع دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایپسٹین کیس چند دن کے شور کے بعد افواہوں، قیاس آرائیوں اور سیاسی بیانات میں بدل گیا۔

یہ خاموشی امریکا اور یورپ کے اس دعوے کو بھی چیلنج کرتی ہے کہ وہاں انسانی حقوق اور انصاف غیر متنازع اقدار ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب متاثرہ کمزور ہوں اور ملزم طاقتور، تو اصول لچکدار ہو جاتے ہیں اور یہ سچائی عالمی سطح پر طاقتوروں کے لیے ایک سبق ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں مغرب کے نظامِ انصاف پر سنجیدہ سوال اٹھتے ہیں اور جہاں عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا واقعی قانون سب کے لیے برابر ہے یا صرف طاقتوروں کے لیے نرم رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔

ہمیں برسوں سے بتایا جاتا رہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔ مگر اگر سینکڑوں بچیوں کے استحصال کے بعد بھی کوئی واضح انجام سامنے نہ آئے تو یہ دعویٰ کھوکھلا محسوس ہونے لگتا ہے۔

یہ صرف امریکا یا یورپ کا مسئلہ نہیں۔

یہ طاقت کا عالمی مسئلہ ہے اور یہی عالمی مسئلہ انسانی اقدار اور اخلاقیات کو بھی چیلنج کرتا ہے۔

جہاں طاقت جمع ہو جاتی ہے وہاں احتساب مشکل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اتنا بڑا اسکینڈل سامنے آنے کے باوجود چند دن کے شور کے سوا کچھ نہیں ہوا۔ نام بہت بڑے تھے، مفادات بہت گہرے تھے اور نظام شاید اتنا مضبوط نہیں تھا جتنا بتایا جاتا ہے۔

یہ خاموشی ان لوگوں کے منہ پر بھی طمانچہ ہے جو ہر بحث میں امریکا اور یورپ کے نظامِ انصاف کی مثالیں دیتے نہیں تھکتے۔ ایپسٹین کیس نے دکھا دیا کہ طاقت جہاں بھی ہو، وہ انصاف کو موڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

سب سے زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس پوری بحث میں متاثرین کا ذکر سب سے آخر میں آتا ہے۔ وہ بچیاں جن کے زخم شاید کبھی نہیں بھر سکیں گے، وہ صرف ایک فٹ نوٹ بن کر رہ گئیں اور یہی انسانی المیہ ہمیں ہر بار یاد دلاتا ہے کہ انصاف کے بغیر معاشرہ ادھورا رہ جاتا ہے۔

ایپسٹین کیس ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہر بڑا انکشاف سچ نہیں ہوتا، مگر ہر سوال غلط بھی نہیں ہوتا۔ اصل ذمہ داری یہ ہے کہ سوال پوچھتے وقت ثبوت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے اور خاموشی کو معمول نہ بننے دیا جائے۔

واٹرگیٹ اس لیے یاد رکھا جاتا ہے کہ وہاں احتساب ہوا تھا۔

ایپسٹین کیس اس لیے یاد رکھا جائے گا کہ وہاں خاموشی ہوئی۔

آخر میں سوال یہ ہے کہ اگر سینکڑوں بچیوں کے ساتھ ظلم ہوا، تو نظام کہاں تھا؟

یہ سوال امریکا اور یورپ کے نام نہاد انصاف کے دروازے پر بھی دستک دے رہا ہے۔

یہ سوال انسانی حقوق کی علمبرداری کے دعووں کو بھی بے نقاب کر رہا ہے۔

اور یہ سوال ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انصاف کا معیار جغرافیہ سے نہیں، کردار سے ناپا جاتا ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ اتنا بڑا انسانی المیہ چند دن کے شور کے بعد خاموش ہوگیا۔

کیونکہ جب مجرم طاقتور ہوں۔

تو خاموشی بھی ایک پالیسی بن جاتی ہے۔

اور ایپسٹین کے بعد دنیا نے ایک تلخ سبق سیکھا:

طاقت بے نقاب ہو بھی جائے۔

تو لازمی نہیں کہ جواب دہ بھی ہو۔

Check Also

Wo Waqia Jo Kitab Mein Nahi

By Javed Chaudhry