Aag, Rakh Aur Satra Saala Behissi
آگ، راکھ اور سترہ سالہ بے حسی

2017ء میں لندن کے گرین فیل ٹاور میں آگ لگی۔ 72 سے زائد انسان چند گھنٹوں میں راکھ بن گئے۔ یہ سانحہ صرف ایک عمارت کا نہیں تھا، یہ ایک ریاست کے ضمیر کا امتحان تھا۔ برطانیہ نے تسلیم کیا کہ یہ ناکامی تھی۔ خطرناک کلیڈنگ اتروائی گئی، قوانین بدلے گئے، ہزاروں عمارتوں کا فائر سیفٹی آڈٹ ہوا اور ذمہ داروں کو نشانِ عبرت بنایا گیا۔ وہاں آگ کو حادثہ نہیں کہا گیا، وہاں اسے ریاستی جرم سمجھا گیا۔
2014ء میں آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں لاکروز ٹاور آگ کی لپیٹ میں آیا۔ عمارت مکمل طور پر جل گئی، مگر ایک انسان بھی نہ مرا۔ وجہ یہ نہیں تھی کہ آگ کمزور تھی، وجہ یہ تھی کہ ریاست مضبوط تھی۔ فائر الارم بجے، اسپرنکلر چلے، ایمرجنسی پلان فعال ہوا، لوگ زندہ نکل آئے۔ اس کے باوجود قوانین مزید سخت کیے گئے، کیونکہ وہاں ایک واقعہ بھی نظام کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے۔
2018ء میں جاپان کے شہر اوساکا میں ایک کمرشل عمارت میں آگ لگی، جانیں ضائع ہوئیں۔ جاپان نے اسے قسمت کا لکھا نہیں کہا۔ اس نے پورے نظام کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔ ملک بھر میں کمرشل عمارتوں کی فائر سیفٹی جانچ ہوئی، خاموشی سے، مگر پوری شدت کے ساتھ۔
اور کراچی 17 جنوری 2026ء کی صبح کراچی کے مرکزی اعصابی مقام ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں آگ لگی۔ بارہ سو دکانوں پر مشتمل یہ عمارت صرف ایک مارکیٹ نہیں تھی، یہ ہزاروں گھروں کی روزی، ہزاروں خوابوں کی چھت اور ہزاروں امیدوں کی پناہ گاہ تھی۔ یہاں کپڑے تھے، جوتے تھے، پلاسٹک تھا، کیمیکل تھا اور سب سے بڑھ کر مصنوعی پھول تھے، انتہائی آتش گیر، خطرناک اور بے قابو۔
یہ آگ شارٹ سرکٹ سے نہیں لگی۔ یہ آگ ایک مصنوعی پھولوں کی دکان میں اس وقت بھڑکی جب بچے لائیٹر یا ماچس سے کھیل رہے تھے۔ ایک معمولی سی چنگاری، جسے بروقت بجھایا جا سکتا تھا، چند لمحوں میں جہنم بن گئی۔ پلاسٹک، فوم اور کیمیکل نے آگ کو پھیلنے نہیں، دوڑنے کا موقع دیا۔
ستر سے زائد انسان اس آگ میں جل کر مر گئے۔ کئی لاشیں اس حد تک جل چکی تھیں کہ پہچان ممکن نہ رہی۔ کئی خاندانوں کو صرف جلی ہوئی ہڈیاں ملیں، کئی کو بند تھیلے اور کئی کو مکمل خاموشی۔ اس دن گل پلازہ میں صرف انسان نہیں جلے، شناختیں جلی، رشتے جلے اور مستقبل راکھ ہوگیا۔
عمارت میں نہ فائر الارم تھا، نہ اسپرنکلر سسٹم، نہ واضح ایمرجنسی راستے۔ لوگوں نے کھڑکیوں سے چھلانگیں لگائیں۔ کسی نے پانی کی پائپ پکڑی، کسی نے بجلی کی تار۔ کئی نیچے گر کر مر گئے، کئی دھوئیں سے بے ہوش ہو کر سیڑھیوں میں دم توڑ گئے۔ کچھ باتھ رومز میں چھپے رہے، کچھ بند دروازے پیٹتے رہے اور کچھ اندھیرے میں خاموش ہو گئے۔
فائر بریگیڈ پہنچی، مگر شہر کی طرح وہ بھی ناتواں تھی۔ گاڑیاں کم تھیں، پانی کا دباؤ ناکافی تھا اور آگ درندہ بن چکی تھی۔ چھتیس گھنٹے بعد جا کر شعلوں پر قابو پایا گیا۔ چھتیس گھنٹوں میں عمارت مکمل راکھ بن گئی اور ریاست مکمل طور پر بے نقاب ہوگئی۔ یہ صرف ایک عمارت کی آگ نہیں تھی۔ یہ اس نظام کا پوسٹ مارٹم تھا جو برسوں سے فائلوں میں زندہ اور زمین پر مردہ ہے۔
اس سانحے پر پیپلز پارٹی کی رہنما اور قومی اسمبلی کی رکن شہلا رضا کا بیان سامنے آیا کہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی آگ لگتی ہے، امریکہ اور آسٹریلیا میں بھی ایسے واقعات ہوتے ہیں۔ اس بیان پر کافی تنقید بھی ہوئی۔ یہ الفاظ تسلی نہیں تھے، یہ ذمہ داری سے فرار کا اعلان تھے۔ مسئلہ آگ لگنے کا نہیں ہوتا، مسئلہ آگ کے بعد ریاست کے رویے کا ہوتا ہے۔
امریکہ میں 2021ء میں نیویارک کے برونکس علاقے میں آگ لگی، سترہ افراد جان سے گئے۔ اس کے بعد ہزاروں عمارتوں کا فائر آڈٹ ہوا، قوانین سخت کیے گئے اور خلاف ورزی پر عمارتیں بند کر دی گئیں۔ وہاں حادثہ دلیل نہیں بنتا، وہاں حادثہ اصلاح کا نقطۂ آغاز بنتا ہے۔
سندھ میں پیپلز پارٹی کو مسلسل سترہ سال اقتدار میں ہو چکے ہیں۔ سترہ سال میں اگر ایک ایسی عمارت، جس میں بارہ سو دکانیں تھیں، بنیادی فائر سیفٹی نظام سے محروم رہی، اگر فائر بریگیڈ جدید نہ بن سکی، تو یہ ایک دن کی غفلت نہیں، یہ سترہ سالہ بے حسی کا نتیجہ ہے۔
گل پلازہ میں مرنے والے افراد آگ سے نہیں مرے۔ وہ نگرانی کے فقدان سے مرے۔ وہ عملدرآمد کی کمی سے مرے۔ وہ اس سوچ سے مرے جس میں حکمرانی کا مطلب صرف اقتدار ہوتا ہے، ذمہ داری نہیں۔
چند دن بعد یہ سانحہ فائلوں میں دفن ہو جائے گا، تصاویر دھندلی پڑ جائیں گی اور نام یادداشت سے مٹ جائیں گے، مگر گل پلازہ کی راکھ میں ایک سچ ہمیشہ سلگتا رہے گا: جب ریاست حادثے کے بعد خود کو بدلنے کے بجائے خود کو بچانے میں لگ جائے، تو آگ صرف عمارتیں نہیں جلاتی، پورے معاشرے کو راکھ بنا دیتی ہے۔

