Pardes Ki Chakki
پردیس کی چکی
ارسلان گجرات کا لڑکا تھا۔ عمر زیادہ نہیں تھی لیکن چہرہ وقت سے پہلے بوڑھا ہو چکا تھا۔ گھر میں باپ بیمار، ماں کی دوائیں، ایک بہن کی شادی، دو چھوٹے بھائی اور اوپر سے وہ قرض جو شروع میں چند ہزار ہوتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ آدمی کی گردن میں پھندا بن جاتا ہے۔ ارسلان بھی انہی لڑکوں میں سے ایک تھا جو پاکستان سے صرف روزگار کی تلاش میں نہیں نکلتے، وہ دراصل گھر کی ٹوٹی ہوئی چھت اپنے کندھوں پر اٹھا کر نکلتے ہیں۔
وہ اسپین پہنچا۔ کاغذات نہیں تھے۔ زبان نہیں آتی تھی۔ شہر اجنبی تھا۔ سڑکیں صاف تھیں مگر زندگی دھندلی تھی۔ ایسے وقت میں اگر کوئی اپنا مل جائے تو انسان اسے اللہ کی رحمت سمجھتا ہے۔ ارسلان کو بھی ایک اپنا مل گیا۔ سب اسے ڈینی صاحب کہتے تھے۔ وہ برسوں سے اسپین میں تھے۔ نئے آنے والوں کو کام بھی دلواتے تھے۔ رہائش بھی دیتے تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ اردو میں بات کرتے تھے۔ اجنبی ملک میں اپنی زبان سننا بھی بعض اوقات آدھی پناہ کے برابر ہوتا ہے۔
ڈینی صاحب نے ارسلان سے کہا، فکر نہ کرو، تم میرے ساتھ رہو۔ کام بھی مل جائے گا، رہنے کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا اور تمہارے کاغذات بنانے میں معاونت بھی کروں گا۔ ارسلان نے اس ایک جملے میں مستقبل دیکھ لیا۔ لیکن اسے معلوم نہیں تھا کہ کچھ دروازے کھلتے نہیں، صرف سامنے لٹکائے جاتے ہیں تاکہ آدمی ساری عمر ان کی طرف چلتا رہے۔
میں اسے بریڈ کرمب تھیوری کہتا ہوں۔ یہ وہ طریقہ ہے جس میں استحصال کرنے والا شکار کو ایک ساتھ سب کچھ نہیں دیتا۔ وہ صرف اتنا دیتا ہے کہ امید زندہ رہے، اتنا نہیں دیتا کہ آدمی آزاد ہو جائے۔ پہلے ایک سہارا، پھر ایک وعدہ، پھر آدھی تنخواہ، پھر کاغذات کا لالچ۔ شکار ہر بار سمجھتا ہے اب کی بار منزل مل جائے گی۔ لیکن اسے ہر بار صرف روٹی کا ایک ٹکڑا ملتا ہے، پوری روٹی کبھی نہیں ملتی۔ جال نظر نہیں آتا کیونکہ وہ لوہے سے نہیں، امید سے بنا ہوتا ہے۔
ارسلان کے ساتھ بھی یہی ہوا۔
پہلا ٹکڑا رہائش تھی۔ ڈینی صاحب نے کہا، تم مفت رہو، جب تک سنبھل نہ جاؤ۔ وہاں جا کر پتا چلا ایک کمرے میں آٹھ آدمی تھے۔ ایک ہفتے بعد اسے بتایا گیا کہ مفت کچھ نہیں، تمہارے حساب میں ڈیڑھ سو یورو ماہانہ کرایہ لکھا جا رہا ہے۔ اس نے پوچھا تو جواب ملا، یورپ ہے، سب کچھ مہنگا ہے، ہم تو تمہیں اپنا آدمی سمجھ کر رکھ رہے ہیں۔
دوسرا ٹکڑا تنخواہ تھی۔ کہا گیا تھا آٹھ سو یورو ملیں گے۔ پہلے مہینے تین سو پچاس یورو ملے۔ اس نے پوچھا باقی؟ جواب ملا، کھانے کا خرچ کٹ گیا، آنے جانے کا خرچ کٹ گیا، رہائش کا خرچ کٹ گیا اور پھر وہ جملہ جو استحصال کا سب سے پرانا ہتھیار ہے: اگر تمہیں پسند نہیں تو اور بھی بہت لوگ کھڑے ہیں۔
تیسرا ٹکڑا امیگریشن کی مدد تھی۔ ڈینی صاحب نے ایک دن کہا، دیکھو میرے روابط ہیں، میں تمہیں لیگل کروا دوں گا، بس تھوڑا صبر کرو۔ بعد میں پتا چلا یہ بھی ایک کاروبار تھا۔ دس ہزار یورو میں کنٹریکٹ بیچا جاتا تھا۔ اس سے پہلے پدرون (رہائشی سرٹیفیکیٹ) کا الگ ماہانہ خرچا تھا۔ اس سب کے عوض دوبارہ سے خود کو گروی رکھنا تھا۔ غریب آدمی کا خوف، اس کی غیرقانونی حیثیت، اس کی مجبوری، سب منڈی میں رکھا ہوا مال تھا۔
چوتھا ٹکڑا خوف تھا اور یہ سب سے اہم تھا۔ جب ارسلان نے کہا کہ وہ کہیں اور کام ڈھونڈ لے گا تو ڈینی صاحب نے کہا، تم جاؤ گے تو پولیس پکڑ لے گی، تمہیں پتا بھی ہے میں نے تمہیں کتنی دفعہ بچایا ہے؟ استحصال کرنے والا پہلے آدمی کو کمزور کرتا ہے، پھر اسے یقین دلاتا ہے کہ تمہاری حفاظت بھی میں ہی ہوں۔ یوں ظالم خود کو محافظ کے روپ میں پیش کرتا ہے۔
یہاں مسئلہ صرف ایک ڈینی صاحب کا نہیں ہے۔ مسئلہ ایک پورا نظام ہے۔ ہم سمجھتے ہیں لوگ پاکستان سے طبقاتی ظلم اور معاشی استحصال سے بھاگتے ہیں اور یورپ جا کر آزاد ہو جاتے ہیں۔ مگر یہ پوری حقیقت نہیں ہے۔ ہمارے ہاں جو طبقاتی ڈھانچہ ہے، وہ جہاز اور کشتی کے ساتھ سرحدیں پار کر جاتا ہے۔ جاگیردار کا مزاج، مزارعے کی بے بسی، مالک کا لہجہ، مزدور کی خاموشی، سب ساتھ چلے جاتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ گجرات اور لاہور کی جگہ بارسلونا اور میڈرڈ لکھا جاتا ہے۔
ظالم اور مظلوم دونوں کے پاس اپنی کہانی اور موقع سے فائدہ اٹھانے کی وجہ ہوتی ہے۔ بیس سال پہلے ڈینی صاحب نے بھی یہ سب برداشت کرکے اپنا بزنس بنایا ہوتا ہے۔ دونوں ایک ہی ملک سے آئے ہوتے ہیں۔ دونوں ایک ہی زبان بولتے ہیں۔ لیکن ایک کے ہاتھ میں ڈاکومنٹس، رابطہ اور خوف استعمال کرنے کا موقع ہوتا ہے، دوسرے کے ہاتھ میں صرف ضرورت اور امید۔
اور جب یہ چکر مزید تنگ ہوتا ہے تو بعض لوگ غیرقانونی سرگرمیوں یا نشے کی طرف دھکیل دیے جاتے ہیں۔ وہ اپنی مرضی سے مجرم نہیں بنتے، مجبوری انہیں دھکیلتی ہے۔ ہم بعد میں کہتے ہیں فلاں نوجوان بگڑ گیا۔ لیکن ہم یہ نہیں پوچھتے کہ اسے وہاں تک کس نے پہنچایا؟ کس نے اس کے خوف کو منافع میں بدلا؟
شاید دنیا کی سب سے تکلیف دہ قید یہی ہے۔ وہ قید جس کی دیواریں کسی اجنبی نے نہیں، اپنے نے بنائی ہوں۔ وہ جیل جس کے دروازے پر پہرہ دینے والا تمہاری زبان بولتا ہو۔ یورپ سے آنے والے یورو تو سب کو نظر آجاتے ہیں مگر ان کو کمانے والا جس جذباتی کشمکش اور چکی کی قید سے گزرتا ہے شاید ہی وہ کوئی محسوس کرتا ہو۔

