Thursday, 20 June 2024
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Saqib
  4. Karachi Bacha Jail Mein Aik Din

Karachi Bacha Jail Mein Aik Din

کراچی بچہ جیل میں ایک دن

پچھلے دنوں کراچی سنٹرل جیل میں بچوں کے لیے مختص ایریا جسے بچہ جیل کہا جاتا ہے کا دورہ کرنے کا موقع ملا۔ انرجی سے بھرپور جیل کی واحد لیڈی ڈاکٹر حمیرہ ہماری میزبان تھی اپنی ذات میں نایاب شخصیت۔

یہ وزٹ ہر لحاظ شاندار تھا جس نے سوچ کے نئے دریچوں کو کھول دیا جیل انتظامیہ نے بتایا کہ زیادہ تر بچے چوری اور منشیات فروشی کے جرم میں گرفتار ہو کر یہاں آتے ہیں۔

اپنی مائنڈ سائنسز کی طالب علمانہ صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے ان کے چہروں کو پڑھنے کی کوشش کی تو زیادہ تر بچوں کی انرجی مثبت نظر آئی۔

ان کے Aura میں سفید رنگ کا نظر آنا ان کی معصومیت کے برقرار رہنے اور روحانیت سے ان کی وابستگی کو ظاہر کرتا تھا، جو کہ ایک حیران کن چیز تھی۔

جیل کے وزٹ کے دوران قیدی بچوں کو مہیا کی جانے والی سہولیات حیران کن ہیں۔ بچوں کی تربیت کے لیے سب سے پہلا شعبہ ٹیلرنگ کا ہے۔ ایک درویش اللہ کا ولی ذاکر حسین نامی شخص پچھلے 26 سال سے جیل کے اندر یہ چھوٹی سی دکان چلا رہا ہے۔ اور وہ کراچی جیل کے ہزاروں قیدی بچوں کو درزی کا کام سکھا کر کاریگر بنا چکے ہیں ماسٹر ذاکر حسین کو اب یہ بھی یاد نہیں کہ وہ کتنے ہزار بچوں کو درزی کا کام سکھا چکے ہیں۔ ان کے بےشمار شاگرد اپنی درزی کی دوکان بنا چکے ہیں اور بےشمار نے اس ہنر کو اپنا ذریعہ معاش بنا لیا ہے بلکہ پاکستان میں ہی نہیں مڈل ایسٹ اور سعودی عربیہ میں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

ذاکر حسین کہتے ہیں کہ ان کے لیے یہ اعزاز بہت بڑا ہے کہ وہ جرائم اور کرائم میں ملوث لوگوں کو باعزت روزگار کے لیے ہنر بانٹنے کا موقع فراہم کر رہے ہیں آنکھوں میں موجود طمانیت ہی ان کی کمائی ہے۔ ڈاکٹر حمیرہ اور معاون عملے کا بچوں کے ساتھ سلوک مثالی تھااور بچوں کی آنکھوں میں ان کے لیے محبت واضح طور پر نظر آرہی تھی۔

محبت کی بولی ہر جگہ اپنا رنگ دکھاتی ہے۔

یہ سبھی زمین کا حسن ہیں

سبھی اپنے ہیں

یہ گنہگار، یہ پاک باز

سدا رہیں۔

ٹیلرنگ کے شعبے کے بعد کارپینٹر روم، آرٹس کلاسز، کمپیوٹر کلاسز، لائبریری، جم، گیم روم، باربر روم، ہاسپٹل اور مسجد کا وزٹ کیا گویا کمال ہی ہوگیا۔ ہر شعبے میں بچے انہماک کے ساتھ مختلف فن سیکھتے ہوئے نظر آئے۔

ہماری پولیس کے احسن طریقے سے کیے ہوئے کاموں میں یقینا بچہ جیل کا نظم و نسق اعلی حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے۔ خواتین جیل میں تمام چھوٹے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے جاتے ہیں اور 100 فیصد بچوں کو پولیو ویکسینیشن مہیا کی جاتی ہے۔

میں نے اعلی پولیس آفیسر سے پوچھا، جرم کے پیچھے سب سے بڑا محرک کون سا ہے؟

جواب دیا، شارٹ کٹ کی تلاش۔

اسی شارٹ کٹ کے چکر میں جیلیں بھری ہوئی ہیں اپنی سزا پوری کرنے کے بعد جب یہ بچے واپس اپنے گھروں کو جاتے ہیں تو معاشرہ انہیں قبول نہیں کرتا اور دوبارہ انہی جرائم پیشہ لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا شروع کر دیتے ہیں۔ ان کے والدین کو چاہیے کہ ہجرت کریں شہر تبدیل کریں یا دوسرے گھروں میں رہائش رکھیں۔

تھوڑا کہے کو حقیر نہ جانا جائے۔

شیخ سعدی کی حکائت یاد آگئی۔۔

بارش کا ننھا سا قطرہ بادل سے ٹپکا۔ جب اس نے سمندرکی چوڑائی دیکھی تو شرمندہ ہوا اور دل میں کہا کہ سمندر کے سامنے میری حیثیت کیا ہے اس کے ہوتے ہوئے تو میں نہ ہونے کے برابر ہوں جب اس نے اپنے آپ کو حقارت سے دیکھا تو ایک سیپی(صدف) نے اس کو اپنے منہ میں لے لیا اور دل و جان سے اس کی پرورش کی تھوڑے ہی دنوں میں یہ قطرہ ایک قیمتی موتی بن گیا اور بادشاہ کے تاج کی زینت بنا۔

بے وقوفوں کی صحبت سے بچا جائے۔

پھر سے شیخ سعدی کی کہی ہوئی بات

زمین پر آسمان سے پانی برستا ہے اور زمین سے آسمان پر غبار جاتا ہے۔ یعنی ہر برتن سے وہی ٹپکتا ہے جو اس میں بھرا ہو۔

ڈاکٹر حمیرہ نے کووڈ کے سخت دنوں میں بھی اپنی ڈیوٹی بخوبی نبھائی اور خود ان کو دو دفعہ کورونا کا مرض ہوا لیکن کمٹمنٹ میں فرق نہیں آیا۔

خود سے ہی جیتنے کی ضد ہے
مجھے خود کو ہی ہرانا ہے

ڈاکٹر صاحبہ ایک سنگل پیرنٹ ہیں اور ہر روز جیل جیسی مشکل جگہ پر آکر پرفارم کرنے کے لیے فولادی اعصاب چاہیئں خود میں نے زندگی میں پہلی بار جیل کا وزٹ کیا اور اس دورے کے بعد میری انرجی میں کمی واقع ہوگئی تھی۔

ڈاکٹر صاحبہ نے اپنی دادی کو یاد کیا جو سوات کی پٹھان فیملی سے تعلق رکھتی تھیں کہتی ہیں برداشت اور دور اندیشی میں نے اپنی دادی سے سیکھی اپنی نانی کے بارے میں آنکھوں میں ہلکی سی نمی کے ساتھ بتایا کہ وہ وائٹ کلر کا ملتانی دوپٹہ پہنتی تھیں وسیع القلب اور مہمان نواز۔

کامیابی کا سادہ سا فارمولا بتایا کہ پانچ سال تک جم کے محنت کر لی جائے اور پھر کامیابی آپ کی منتظر ہے۔

ڈاکٹر صاحبہ اور پولیس افسران کی ٹیم کے ساتھ گزارا ہوا وقت اور چائے کی پیالی پر خیالات کا تبادلہ اور پوری ٹیم کا خلوص ہمیشہ میری یادوں میں جگمگاتا رہے گا۔ گویا پوری ٹیم اپنے عمل سے یہ پیغام دے رہی ہو۔

رات پر فتح تو پانا نہیں لیکن یہ چراغ
کم سے کم رات کا نقصان بہت کرتا ہے

(عرفان صدیقی)

About Muhammad Saqib

Muhammad Saqib is a mental health consultant who has been working in the fields of hypnotherapy, leadership building, mindfulness and emotional intelligence for over ten years. Apart from being a corporate trainer, he is involved in research and compilation and documenting the success stories of Pakistani personalities in the light of Mindscience. Well-known columnist and host Javed Chaudhry is also a part of the trainers team.

Check Also

Europe Walo, Aqal Ko Azaad Karo

By Rizwan Akram