Sunday, 25 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Idrees Abbasi
  4. Murree Ki Siasi Ashrafia Aur Gen Z Ki Baghawat

Murree Ki Siasi Ashrafia Aur Gen Z Ki Baghawat

مری کی سیاسی اشرافیہ اور جین زی کی بغاوت

ہم اسی مٹی کے بیٹے اور پیشہ ور مہندسین (انجینئرز) ہونے کے ناتے، مری کی سرزمین پر قدم رکھنے والے ہر اس سیاح سے تہہِ دل سے معذرت خواہ ہیں جسے یہاں مہمان نوازی کے بجائے بدتمیزی اور تلخ کلامی کا سامنا کرنا پڑا۔ ہم ان خاندانوں سے، جنہیں ہراساں کیا گیا، ان مسافروں سے، جنہیں ٹرانسپورٹرز نے لوٹا اور ان سیاحوں سے، جنہوں نے برف باری کے ایام میں "مافیا" جیسے جارحانہ رویے جھیلے، اپنے دل کی گہرائیوں سے معافی کے طلبگار ہیں۔ تاہم، یہ سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ یہ بدسلوکی پہاڑی لوگوں کا اصل خاصہ یا فطرت نہیں ہے، بلکہ یہ اس سوچی سمجھی، منظم اور مجرمانہ جہالت کا ایک بھیانک شاخسانہ ہے جس کا بیج طویل عرصہ تک مری اور این اے-51 پر راج کرنے اور کروانے والی سیاسی اشرافیہ نے بویا۔ یہ شعوری طور پر ذہنوں کو بانجھ رکھنے کی وہ حکمتِ عملی تھی جس پرمری کی اشرافیہ نے بڑی بے رحمی سے عمل کیا۔

عالمی برادری اور بین الاقوامی قانون کی نظر میں مری میں جو کچھ ہوا وہ محض پالیسی کی ناکامی نہیں، بلکہ انسانیت کے خلاف ایک ایسا جرم ہے جو "جنگی جرائم" کی سرحدوں کو چھوتا ہے۔ جہاں پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 25-اے بچوں کے لیے مفت اور لازمی تعلیم کا حکم دیتا ہے، وہاں حکمرانوں کے ہاتھوں اس خطے کے علمی مستقبل کی منظم تباہی ایک "تعلیمی نسل کشی" (Pedagogical Genocide) کے مترادف ہے۔ بین الاقوامی قانون کے تحت تعلیم سے محروم رکھنا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔ مخصوص حالات میں، بالخصوص جب ایک مقتدر طبقہ اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے جان بوجھ کر اور منظم طریقے سے نظامِ تعلیم کو مفلوج کرے، تو اسے سویلین آبادی کے مستقبل کے خلاف "جنگی جرم" کے زمرے میں لایا جاسکتا ہے۔

المیہ تو یہ ہے کہ مری میں وہ تمام اجزاء موجود ہیں جو اسے عالمی سطح کا تعلیمی مرکز بنا سکتے تھے۔ لیکن چار دہائیوں سے زائد عرصہ سے مسلط اشرافیہ نے سرکاری سکولوں کو سڑنے کے لیے چھوڑ دیا اور اپنے لیے پرتعیش ولاز بنائے یا ایئر لائنز کھڑی کیں۔ انہوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ مقامی آبادی ڈاکٹر، انجینئر یا سکالر بننے کے بجائے محض "قلی"، ٹرانسپورٹر، پراپرٹی ڈیلر یا غیر تربیت یافتہ ٹھیکیدار بن کر ان کی اور سیاحوں کی خدمت کرتی رہے۔ 1958 میں یہاں ایک کالج قائم ہوا تھا، اس کے بعد سے 67 سال تک یہاں کے نوجوانوں کے لیے وقت جیسے تھم گیا، جبکہ باقی دنیا آسمانوں تک پہنچ گئی۔ انڈسٹری اور ٹیکنالوجی نہ ہونے کے سبب نوجوان اپنی آبائی زمینیں فروخت کرنے لگ پڑے۔ یہ ایک شارٹ کٹ تھا، جو مری کومواقع کی عدم فراہمی کے باعث عطا کر دیا گیا۔ آج خطرہ یہ ہے کہ مری میں کچھ عرصہ بعد مقامی افراد فلسطینیوں کی طرح " اجنبی" ہو جائیں گے اور ہجرت پہ مجبور کر دئیے جائیں گے۔

قانونی ڈھانچہ بالکل واضح ہے: انسانی حقوق کا عالمی منشور (آرٹیکل 26) یہ طے کرتا ہے کہ تعلیم حاصل کرنا ہر فرد کا بنیادی حق ہے۔ بچوں کے حقوق کا کنونشن (CRC) ریاستوں کو اس بات کا پابند کرتا ہے کہ وہ بچوں کو ایسے معاشی استحصال سے بچائیں جو ان کی تعلیم میں رکاوٹ بنے۔ مزید برآں، تعلیم میں امتیازی سلوک کے خلاف 1960 کا کنونشن، رسائی سے محرومی یا تعلیم کو پست معیار تک محدود کرنے کو "تعصب اور جرم" قرار دیتا ہے۔ ان معیارات کی رو سے، مری کے حکمران نہ صرف اپنے عوام کے سامنے ناکام ہوئے، بلکہ انہوں نے ایک پوری نسل کو پست معیارِ زندگی تک محدود کرکے غفلت اور کوتاہ نظری کے مرتکب ہوئے۔ وہ پہاڑی لوگ جو کبھی اپنی شرافت اور مہمان نوازی کے لیے مشہور تھے، آج ایک ایسی تصویر بن چکے ہیں جہاں بے بسی اور محرومی "مافیا" جیسے رویوں کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے، جس کا رونا اکثر سیاح روتے ہیں۔

کیا مری کی سیاسی اشرافیہ نے اس خطرناک سچائی کو بھانپ لیا تھا کہ ایک تعلیم یافتہ معاشرہ ان کے اقتدار کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہوتا ہے یا محض اپنی کوتاہ نظری اور نا اہلیت کے سبب نوجوانوں کو معیاری تعلیم اور فنی تربیت اور مواقع سے دور رکھا اور ایک ایسا ووٹر طبقہ تیار کر دیا جو ہمیشہ ان کا محتاج رہے اور ایک ایسی لیبر فورس بنا دی جو اشرافیہ کی جی حضوری اور نچلے درجے کی ملازمتوں تک محدود رہے؟

اس "شعوری یا غیر شعوری کوشش" نے بہرحال علم کے اس گلشن کو ویرانے میں بدل دیا جہاں کبھی ذہانت کے پھول کھلنے تھے۔

تعلیم کی اس خشک سالی کے نتائج 2025 کے انٹرمیڈیٹ (گیارہویں جماعت) کے سالانہ امتحانات کے لرزہ خیز اعداد و شمار میں واضح نظر آتے ہیں۔ 8 لاکھ 53 ہزار سے زائد آبادی اور 6 لاکھ 81 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز والے حلقے میں اعلیٰ ثانوی تعلیم میں شرکت کی شرح ایک عظیم المیہ ہے۔ راولپنڈی تعلیمی بورڈ کے مطابق، پورے ضلع مری سے ان اہم امتحانات میں صرف 1,998 طلبہ شریک ہوئے۔ اسے تناسب میں دیکھا جائے تو یہ کل آبادی کا محض 0.23 فیصد بنتا ہے جو اعلیٰ تعلیم کے حصول کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ دلدوز حقیقت امتحانات میں کامیابی کی شرح ہے: صرف 623 طلبہ پاس ہوئے، جو محض 31 فیصد بنتی ہے۔ ان کامیاب طلبہ کی اکثریت بھی "D" گریڈ (40 سے 49 فیصد نمبر) تک محدود رہی، جو خطے کے سرکاری کالجوں میں تعلیمی ڈھانچے کی مکمل تباہی کا بین ثبوت ہے۔

2025 کے گزٹ میں گورنمنٹ ڈگری کالج مری کے نتائج اس علاقائی ناکامی کا عکس ہیں۔ سائنس، جنرل، پری میڈیکل اور ہیومینیٹیز، ہر شعبے میں طلبہ کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی اور وہ محض "D" گریڈ تک ہی پہنچ سکے۔ جب کسی ضلع کے نوجوان مسلسل کم ترین سطح پر کارکردگی دکھا رہے ہوں، تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اساتذہ غیر تربیت یافتہ ہیں، سہولیات ناپید ہیں اور معاشرے سے آگے بڑھنے کی لگن ختم کر دی گئی ہے۔ ایک لولی لنگڑی یونیورسٹی پھر کسی طور بن گئی، لیکن شائید سیاسی رقابت تھی یا کچھ اور، اسے آزاد چھوڑ دیا گیا اور اس کی فنڈنگ کا گلا مکمل گھونٹ دیا گیا۔ ستم ظریفی یہ رہی کہ اس کے پہلے کوتاہ نظر وائس چانسلر کی ناقص کارکردگی کی بناء طلباء کی تعداد گھٹ کے محض چند سو رہ گئی۔

یہ مجموعی تعلیمی ناکامی بہرحال اس سماجی و معاشی تناؤ کا بنیادی سبب ہے جو آج مری کی پہچان بن چکا ہے۔ سیاح اکثر یہاں بدتمیزی اور کھلے عام لوٹ مار کی شکایت کرتے ہیں۔ 2022 کے برفانی طوفان سے لے کر، جہاں ہوٹلوں نے آفت میں پھنسے خاندانوں سے ایک رات کے 20 سے 70 ہزار روپے تک وصول کیے، روزانہ کی بنیاد پر بھاری پارکنگ فیسیں لینے والے "پارکنگ مافیا" تک، مقامی لوگوں کا رویہ اب ایک قومی شکایت بن چکا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ہوٹل ایجنٹس اور دکاندار سیاحوں کے ساتھ انتہائی نازیبا سلوک کرتے ہیں اور بعض صورتوں میں تو زائد فیس نہ دینے پر گاڑیوں تک کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔

سوشل میڈیا پر اکثر مقامی لوگوں کے "اخلاق" کو نشانہ بنایا جاتا ہے، لیکن گہرا عمرانی تجزیہ اس کی جڑیں تعلیم کی محرومی میں دکھاتا ہے۔ تعلیم معاشی ترقی کا انجن، غربت کا علاج اور سماجی ترقی کی ضامن ہوتی ہے۔ یہ انسان کو تنقیدی سوچ اور قلیل مدتی لالچ کے بجائے طویل مدتی فوائد دیکھنے کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔ جب ایک آبادی کو جدید معیشت، چاہے وہ ٹیکنالوجی ہو یا ہوٹل مینجمنٹ میں شامل ہونے کے ہنر سے محروم کر دیا جائے، تو وہ سڑکوں پر "بقاء کی جنگ" لڑنے والی معیشت اور چھینا جھپٹی پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ مقامی پولیس اور انتظامیہ کی عدم توجہی اس بات کی غماز ہے کہ یہ "ہوٹل مافیا" جیسے ہتھکنڈے اس نظر انداز کیے گئے معاشرے کا ایک حصہ بن چکے ہیں۔

یہ ایک عظیم تاریخی المیہ ہے۔ برطانوی دور میں مری کے لوگ اپنی شرافت اور بے مثال مہمان نوازی کے لیے جانے جاتے تھے اور یہاں شرحِ جرم پورے جنوبی ایشیا میں سب سے کم تھی۔ مزاج میں یہ تلخی اور تبدیلی دراصل دیوار سے لگائے جانے کا نتیجہ ہے۔ سائنسی اور ماحولیاتی نظریات، جیسے "کولڈ ونٹرز تھیوری"، یہ بتاتے ہیں کہ سخت موسم انسان کو ذہنی طور پر زیادہ بیدار اور ذہین بناتے ہیں۔ مری کے پہاڑی لوگ قدرتی طور پر اعلیٰ آئی کیو (IQ) اور لچکدار طبیعت کے مالک ہیں، جنہیں پاکستان کی ترقی کا ہراول دستہ ہونا چاہیے تھا۔ لیکن ان کی صلاحیتوں کا گلا گھونٹ دیا گیا تاکہ وہ اس سیاسی جمود کو للکار نہ سکیں جس نے 40 سال تک اس خطے پر راج کیا۔

لیکن اب این اے-51 کی نسلِ نو (Gen Z اور Gen Alfha) ایک ذہنی انقلاب کی قیادت کر رہی ہے۔ یہ نسل اب جاگ چکی ہے اور دیکھ رہی ہے کہ کس طرح ان کے مستقبل کا سودا ان کے حکمرانوں کے ولاز اور ایئر لائنز کے لیے کیا گیا۔ وہ اب یہ دردناک سوال پوچھ رہے ہیں: "جنہوں نے منظم طریقے سے ہماری ذہانت کو کچلا اور ہمارا مستقبل برباد کیا، انہیں دوبارہ ہم پر مسلط ہونے کا حق کیسے دیا جا سکتا ہے؟" ان کی یہ جدوجہد محض سیاسی نہیں، بلکہ جینے اور سیکھنے کے بنیادی حق کی ایک تڑپ ہے۔

ان پہاڑوں پر چھائی اداسی آج سردیوں کی دھند سے بھی زیادہ گہری ہے۔ مگر کچھ بدل چکا ہے۔ جنریشن زی اب باغی ہو چکی ہے، وہ سمجھتی ہے کہ درد مند قیادت ہوتی تو ہنزہ کی طرح اٹھانوے فیصد لٹریسی ریٹ ہوتا۔

نسلِ نو کا یہ انقلاب اس مٹی کی آواز ہے، جو مطالبہ کر رہا ہے کہ تعلیم کے ان مجرموں کو عالمی انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔ یہ نسل اب مزید شاہدولے کے چوہے بننے کے لئے تیار نہیں، وہ "لوہے کے خود" اب اسی قیادت کو جوابا" پہنائیں گے، جو چار دہائیوں بعد آ کے کہہ رہی ہے، اب پاکستان کا نظام درست کریں گے۔ زی اور الفا کا ان سیاسی پنڈتوں سے یہ مطالبہ ہے، آپ اپنے منجن اب کہیں اور جا کے بیچیں، ہم اپنا مستقبل خود سنوار لیں گے۔

About Muhammad Idrees Abbasi

Engineer Muhammad Idrees Abbasi is former advisor world bank and writes on politics and social topics.

Check Also

T20 Worldcup, ICC Aur Taqat Ka Naya Bayania

By Asif Masood