Danish School Se Zila Murree Kyun Mehroom?
دانش اسکول سے ضلع مری کیوں محروم؟

مری کے ہمسایہ ضلع ہری پور میں دسمبر کے تیسرے ہفتے میں وزیرِ اعظم شہباز شریف نے دانش اسکول کے قیام کا اعلان کیا۔ پنجاب بھر میں اب ان اسکولوں کی تعداد تیس سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ کشمیر، اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں بھی دانش اسکولوں کے قیام کا عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔ ایسے میں یہ سوال شدت سے ابھرتا ہے: کیا ضلع مری دانش اسکول کا حق دار نہیں؟
پنجاب کی مقتدر خواتین و حضرات سے مودبانہ گزارش ہے کہ تہواروں اور تقریبات کی گہماگہمی سے کچھ لمحے نکال کر مری کی طرف بھی نگاہِ التفات فرمائیں۔ ہم آپ سے ایچی سن کالج نہیں مانگتے، ہم صرف وہ چاہتے ہیں جو ہمارے ہی ٹیکس کے پیسوں سے ہم پر واجب ہے: معیاری اور مساوی تعلیم کا حق۔
ہری پور میں دانش اسکول کے اعلان کے ساتھ ہی مجھے اپنے عزیز دوست، مرحوم حافظ سعید کی یاد شدت سے آئی، جو گزشتہ برس ہم سے بچھڑ گئے۔ وہ مری کی ایک نابغۂ شخصیت تھے۔ رسمی تعلیمی مواقع میسر نہ ہونے کے باوجود ان کا شعور، بصیرت اور فکری افق حیران کن تھا۔ کچھ لوگ ڈگریوں سے بڑے ہوتے ہیں اور کچھ اپنی فکر سے۔ حافظ سعید ان لوگوں میں سے تھے جن کی سوچ اپنے عہد سے بہت آگے تھی۔ دل کو یہ خیال آج بھی چیر دیتا ہے کہ اگر انہیں ایک اچھا اسکول، ایک کالج یا یونیورسٹی میسر آ جاتی تو شاید ان کی تحقیقات اور تخلیقات عالمی اذہان کے ہم پلہ ہوتیں۔ میری یہ گزارش اسی کرب سے جنم لیتی ہے کہ مری کی سرزمین پر کوئی اور حافظ سعید وسائل کی کمی کے باعث تعلیم سے محروم نہ رہ جائے۔ اگر کوئی غیر معمولی ذہن یہاں جنم لے تو دانش اسکول جیسے ادارے اسے اپنی آغوش میں لے کر اس کی صلاحیتوں کو جلا بخشیں اور اسے دنیا کے سامنے آنے کا موقع دیں۔
ضلع مری تو بنا دیا گیا، مگر کیا اس نئے ضلع کو درپیش تعلیمی چیلنجز کے حل کے لیے کوئی مربوط منصوبہ بندی کی گئی؟ بادی النظر میں ایسا محسوس نہیں ہوتا۔ کوہسار یونیورسٹی کے قیام کو پانچ برس بیت چکے ہیں، مگر ابھی تک ایک باقاعدہ کانووکیشن تک منعقد نہ ہو سکا جس میں پہلے بیچ کو ڈگریاں دی جا سکیں۔ یہ تاخیر کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔
آج بھی مری کی تقریباً ساٹھ فیصد آبادی بہتر تعلیم کی تلاش میں اسلام آباد اور راولپنڈی کی طرف ہجرت پر مجبور ہے۔ اس ہجرت کا بوجھ پھر بڑے شہر برداشت کرتے ہیں۔ مری میں انگریز دور کے چند معیاری تعلیمی ادارے جیسے کانوینٹ اسکول، سینٹ ڈینیز اور لارنس کالج موجود تو ہیں، مگر وہاں تعلیم صرف صاحبِ حیثیت طبقات تک محدود ہے۔ سرکاری اسکولوں اور کالجوں کی حالت بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ 1958 سے قائم واحد ڈگری کالج بھی اب کوہسار یونیورسٹی میں ضم ہو چکا ہے۔ ہری پور کے عوامی نمائندے داد کے مستحق ہیں کہ چودہ کالجوں کی موجودگی کے باوجود وہ دانش اسکول کا اعلان اپنے ضلع کے لیے حاصل کر لے گئے، جبکہ ضلع مری جو سابق اور موجودہ وزرائے اعظم کا دوسرا گھر سمجھا جاتا ہے، اب تک اس سہولت سے محروم ہے۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ دانش اسکولوں میں میرٹ پر منتخب غریب مگر غیر معمولی ذہین بچوں کو سیکنڈری سطح تک مفت بورڈنگ، لاجنگ تعلیم اور کھانا تک فراہم کیاجاتا ہے۔ پہاڑ کے بچے فطری طور پر ذہین اور محنتی ہوتے ہیں۔ انہیں بے سہارا نہ چھوڑیں، ان کی سرپرستی کریں تاکہ وہ مجبوری کے ہاتھوں ویٹر، ہاکر یا کلینر بننے کی بجائے کارآمد شہری بن سکیں۔ ایک دانش اسکول کا قیام آپ کے لیے شاید ایک انتظامی فیصلہ ہو، مگر ممکن ہے اس فیصلے سے کوئی اور حافظ سعید، ڈاکٹر حافظ سعید بن کر ابھرے۔
ادھر پاکستان میں دی سٹیزنز فاؤنڈیشن (TCF) بھی موجود ہے، جس کے ملک بھر میں ہزاروں فلاحی اسکول کام کر رہے ہیں۔ اس کی ویب سائٹ https: //www.tcf.org.pk پہ تفصیلات موجود ہیں۔ یہ ادارہ تربیت یافتہ اساتذہ کے ذریعے بین الاقوامی معیار کی ثانوی تعلیم فراہم کرتا ہے، نہایت معمولی فیس لیتا ہے اور ضرورت مند طلبہ کو بڑی حد (95٪) تک وظائف دیتا ہے۔ حکومتی ترجیحات کی سست رفتاری کو دیکھتے ہوئے بہرحال میں نے اسلام آباد میں اپنے چند بااثر دوستوں سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ TCF سے رابطہ کریں تاکہ مری میں بھی ایسے اسکول قائم ہو سکیں۔
سوال مگر صرف ایک اسکول کا نہیں، ایک پورے مستقبل کا ہے۔ اگر ریاست اپنے دور افتادہ علاقوں کے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہے تو وہ دراصل اپنی ہی آنے والی نسلوں سے انصاف نہیں کر رہی۔ مری کے بچے بھی اسی وطن کے بیٹے ہیں، ان کی آنکھوں میں بھی وہی خواب بستے ہیں جو آپ کے بچوں کی آنکھوں میں چمکتے ہیں۔

