Pachtawa
پچھتاوا
Regrets یعنی افسوس، پچھتاوا، حسرت، وغیرہ وغیرہ۔
دنیا بھر کے آباد اور برباد انسانوں میں ہر کوئی کسی نہ کسی حسرت، افسوس اور پچھتاوے کا شکار ہوا ہے یا رہتا ہے۔
کسی کی تعلیم، کسی کا دولت، کسی کا عزت، کسی کی ذلت، کسی کا شکست اور کسی کی فتح، غرض طرح طرح کی صورتیں ہیں اور ایک ہے بنی اُمیہ کا Regret، افسوس اور پچھتاوا۔
ایسا progressive اور constructive پچھتاوا کہ جس نے تاریخ کو مکمل طور سے بدل دیا، global maps بدل گیا اور ایسی بہترین civilizations اور cultures کو پیدائش کیا، جس کے تحریر اور بیان نے کتنے ہی لوگوں کو شہرت، عزت اور خوش حالی دی ہے۔
جی ہاں وہی بنی اُمیہ Ummyads جن کو جنوبی ایشیا اسلام کے تمام فرقوں کے مسلمان یکساں طور سے اپنی کتابوں، تقریر اور باتوں میں لعن اور طعن کرتے ہیں۔
افسوس - Regret # 1:
صلح حدیبیہ کے بعد کا پہلا سال ہے، مکہ کے دو جوان بھر پور غور اور فکر، سوچ اور بچار کے بعد، علیحدہ علیحدہ مدینہ کے سفر کا ارادہ کرتے ہیں۔ ایک ہے بنو امیہ کا حارث ابن ہشامؓ، دوسرا ہے بنو مخزوم (بنو امیہ کے قریب ترین حلیف) خالد ابنِ ولیدؓ۔
مکہ سے نکلنے کے کئی میل کے بعد ایک دوسرے سے interaction ہوتا ہے اور دونوں ہی ایک دوسرے کے اسلام قبول کرنے کا ارادہ معلوم کرکے ہمسفر ہو جاتے ہیں۔ سولہویں دن ظہر کی نماز کے بعد مسجد نبوی ﷺ پہنچے اور ابھی اپنے گھوڑے باندھ ہی رہے تھے، کہ عمرؓ کو خبر پہنچی اور وہ حسب معمول نبی کریم ﷺ کی حفاظت کے ارادے سے سونتی تلوار کے ساتھ پہنچا، اتنی دیر میں دونوں جوان نبی کریم ﷺ سے گفتگو شروع کر چکے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے عمرؓ کو بتایا کہ دونوں جوان اسلام قبول کے لیے آئے ہیں اور مسرت سے فرمایا کہ مکہ نے اپنے بیٹے ہمیں دے دیے ہیں۔
یہاں خالد ابنِ ولیدؓ نے Regrets کے ساتھ عرض کیا، "جو کچھ میں نے ماضی میں کیا اس کا Regret ہے، کیسے بدل ہو سکتا ہے؟" رحمۃ للعالمین ﷺ نے فرمایا، "آپ کا ایمان سب کچھ کیا مٹا دیتا ہے"۔ دونوں جوان بہت خوش ہوئے، دل میں جذبہ بن گیا، غزوۂ مؤتہ کا موقع آتا ہے، خالد ابنِ ولیدؓ کے ہاتھوں 9 یا 10 یا 11 تلواریں ٹوٹ جاتی ہیں، رحمۃ للعالمین ﷺ "سیف اللہ" کہ کر پکارتے ہیں اور تاریخ لکھی گئی۔
اور کتنے ہی علماء، فقہاء اور صلحاء - یہاں تک کہ 21st century میں مولوی طارق جمیل (peace be upon him) کی عزت اور شہرت کا وجہ بن جاتا ہے۔
افسوس - Regret # 2:
عمر ابن ہشام (ابو جہل) کا بیٹے، عکرمہؓ - سنہ آٹھ ہجری میں، مکہ کی فتح کے بعد اپنی زوجہ ام حکیمؓ کو دی گئی نبی کریم ﷺ کا اجازت امن سے یمن سے واپس آئے، اسلام قبول کیا اور اچھا مسلمان بنے۔ لیکن دل میں Regrets رہا، پرورش پاتا رہا، یہاں تک کہ عمر ابن الخطابؓ کے خلافت کے دوسرے سال Yarmuk کا غزوۂ ہؤا، یہ یرموک (Yarmuk)، Golan Heights سے 10 Km شام کے اندر ہے۔ سخت جنگ ہوئی، Romans Armies کا مقابلہ تھا، آخری دن فیصلہ کن، یہ دوپہر سے ذرا پہلے تلوار لہرا کر ڈٹ گئے، اعلان کیا، "کون ہے جو میری اس تلوار پر موت کی بیعت کرتا ہے"۔ تمام Historians نے لکھا ہے، کل 400 اصحاب رسولؓ اور لوگوں نے اس بات کی بیعت کی ہے اور اس آخری دن ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں رہا، سب ہی شہید ہوگئے۔ یہی وہ دن ہے، جس پر علامہ اقبالؒ کو شہادت کے وقت پانی کے ایثار کا واقعہ کہنے کی توفیق ہوئی، جس کے کردار عکرمہ ؓ، حارث ابن ہشامؓ اور حکیم ابن حارثؓ، تینوں ہی خالصتاً بنی اُمیہ کے بہادر سپوت تھے۔ کیا بنی اُمیہ کے بغیر یہ تاریخ ہوتی؟ ہرگز نہیں۔
افسوس - Regret # 3:
سنہ ننانوے ہجری کا زمانہ ہے، معزز اور جوان اموی خلیفہ سلیمان ابن عبد الملکؒ بیمار ہوتے ہیں، اپنے قریبی مشیر، فقیہہ، صالح اور وزیر، معزز رجاء ابن حیاۃ رحمۃاللہ علیہ سے دلی افسوس - Regrets کا اظہار کرتے ہوئے مشورہ کرتے ہیں، "عمر ابن عبد العزیزؒ کو جانشین مقرر کرنا چاہتا ہوں، کیسے کریں؟"
رجاء ابن حیاۃؒ نے تسلی دی اور کہا، "پہلے عمر ابن عبد العزیزؒ کی جانشینی کا اعلان کریں، پھر کسی اور کو ساتھ ہے next نامزد کر دیں، کوئی بھی پورے مملکت خلافت سے اعتراض نہیں کرے گا، کیوں کہ عمر ابن عبد العزیزؒ کے تقویٰ اور شرافت کو Three Continents کے عوام تسلیم کرتے ہیں۔ جنوبی ایشیائی مسلمانو! وہ Asia، Europe اور Africa ہیں۔
عمر ابن عبد العزیزؒ خلیفہ اور حکمران اور شہنشاہ بن گئے، باقی تمام منافق اور غیر منافق مسلمان انکار نہیں کرسکتے ہیں، ان ڈھائی سال میں درندوں اور اور تمام جانور ایک ہی حوض پر پانی پیا کرتے تھے۔ کیا یہ سب بنو اُمیہ کے افسوس یا پچھتاوا یا Regrets کے بغیر ممکن تھا؟ اس ہی عمر ابن عبد العزیزؒ کی خلافت کے پہلے سال مسلمانوں نے Pyrenees Mountains کو cross کرکے France میں داخل ہوئے اور Norboune کو فتح کیا۔ یہ Norboune ایک Cantonment بنا اور ٹھیک اٹھارہ برس کے بعد Battle of Tours کے لیے ایک expeditiary اور supply headquarters بنا ہے۔
کیا یہ سب بنی اُمیہ اور بنی اُمیہ کے افسوس اور Regrets اور پچھتاوا کے بغیر ممکن تھا؟
ہر گز نہیں!
بنی اُمیہ کی یاد آئی، بنی اُمیہ کے لیے لکھا اور بنی اُمیہ کو ہی Dedicate کرتا ہوں۔

