Tuesday, 28 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Hanif
  4. Mehar

Mehar

مہر

قرآن مجید میں مہر کے لئے مختلف الفاظ استعمال ہو ئے ہیں مثلاً صدقہ، اجرٌ اور فریضہٌ البتہ حدیث شریف میں مہر کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ مہر وہ مال ہے جس کے معاوضہ میں مرد کو عورت پر حق زوجیت حاصل ہوتا ہے چنانچہ فقہا کا قول ہے (المہر بدل البضع) مہر بضع عورت کا عوض ہے چنانچہ اس پر سب کا اتفاق ہے کہ نکاح کے موقع پر حق مہر کا تعین لازمی ہے اور اس کے بغیر تعلقات زوجیت قائم کرنا درست نہیں۔

ذات باری تعالیٰ کا فرمان ہے: تم عورتوں کو اپنے مالوں کے عوض شہور رانی کے لئے نہیں بلکہ پارسائی کی خاطر طلب کرو۔ (النساء24)۔

فقہا کے نزدیک مہر مقرر کیا جائے یا نہ مقرر کیا جائے۔ نکاح دونوں صورتوں میں جائز ہوگا اور مہر کا تعین نہ ہونے کی صورت میں عورت مہر مثل کی حق دار ہوگی۔

مختلف فقہا کے نزدیک کم از کم مقدار مختلف ہے۔ امام ابوحنیفہ کے ہاں یہ دس درہم ہے البتہ شریعت اسلامی میں اس کی کوئی آخری حد مقرر نہیں کی گئی۔ مشہور واقعہ ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمرؓ نے اپنے عہد خلافت میں اس کے لئے انتہائی حد مقرر کرنا چاہی مگر ایک عورت نے انہیں ٹوک کر کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے کوئی حد مقرر نہیں کی اور ساتھ ہی ارشاد باری تعالیٰ کی ذکر کر دیا۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے: اگر تم اس بیوی کو ڈھیروں مال دے چکے ہو تو اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لو۔ (النساء 20)

احادیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مہر کی زیادتی میں مبالغہ کرنا اور مرد کی قوت برداشت سے زیادہ مہر مقرر کرنا ایک نا پسندیدہ فعل ہے جیساکہ فرمان نبوی ﷺہے: عورتوں کو مردوں کے پلے باندھنے کی کوشش کرو اور مہروں میں حد سے نہ بڑھو۔

حضرت عمرؓ کا قول ہے مہر مقرر کرنے میں حد سے نہ بڑھو۔ کیونکہ اگر دنیا میں یہ کوئی عزت اور آخرت میں تقویٰ کی بات ہوتی تو تم سے زیادہ رسول اللہ ﷺ اس کو اختیار فرماتے۔

ہمارے ہاں آجکل یہ رواج ہوگیا ہے کہ مہر بہت زیادہ لکھ لیتے ہے اور کہتے ہیں کہ یہ کون لیتا اور کون دیتا ہے گویا ابتدا ہی سے ادا کرنے کی نیت نہیں ہوتی حالانکہ اس نیت سے جو نکاح قائم ہوگا وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک فاسد ہوگا چنانچہ ارشاد نبوی ﷺ ہے: جس نے مہر کے عوض کسی عورت سے نکاح کی اور نیت یہ رکھی کہ وہ اس مہر کو ادا نہیں کرے گا وہ دراصل زانی ہے۔

بہر صورت مہر کی رقم کا تعین کرتے وقت انتہائی احتیاط سے کام لینا ضروری ہے ہر شخص کو اپنی مالی حیثیت کے مطابق یہ رقم مقرر کرنی چاہیے کیونکہ نکاح کے وقت عورت اور مرد کے درمیان مہر کی قرارداد ایک دفعہ طے ہو چکے تو اس کا پورا کرنا مرد پر لازم ہوجاتا ہے اگر وہ اس قرار داد کو پورا کرنے سے انکار کرے تو عورت کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس مرد سے روک لے عورت سے مہر کی رقم چھین لینا گناہ ہے۔ یہ حق نہ اس کے والدین کو حاصل ہے اور نہ ہی خاوند کو۔ مہر کی رقم دراصل بیوی کا قرضہ ہے جس کے لئے عورت مرد کو یا تو مہلت دے یا اس پر احسان کرکے برضا رغبت اپنے حق سے دستبردار ہو جائے اور اسکی ناداری کا لحاظ کرتے ہوئے اسے معاف کر دے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے: اور تم اپنی بیویوں کو ان کے مہر خوش دلی سے دے دیا کرو لیکن اگر وہ خوش دلی سے تمہارے لئے اس میں سے کچھ چھوڑ دیں تو تم اسے مزیدار اور خوشگوار سمجھ کر کھاؤ۔ (النساء 4)

نکاح کے موقع پر فریقین کے درمیان حق مہر کی رقم کا تعین ہو جائے لیکن بعد میں زندگی کے کسی مرحلے پر اگر وہ باہمی رضامندی سے کم و بیش کرنا چاہیں تو ایسا کرنا جائز ہوگا جیسا کہ ارشاد ربانی ہے: اور تم پر اس مقدار کے بارے میں جس پر تم لوگ مہر کے مقرر ہو جانے کے بعد باہم رضا مند ہو جا و۔ کوئی گناہ نہیں (النساء 24)۔

طلاق کی صورت میں مختلف عورتوں کے لئے شریعت نے مہر کی مقراریں مقرر کر رکھی ہیں جن کا ذکر درج ذیل ہے۔

1۔ اگر نکاح کرتے وقت مہر مقرر کیا جائے اور خلوت صحیحہ سے قبل ہی طلاق دے دی جائے تو ایسی صورت میں عورت کو صرف متعہ (فائدہ) دیا جائے گا۔ فقہا نے اس سے عام طور پر تین کپڑوں کا جوڑا مراد لیا ہے۔ جو طلاق دینے والے کی مالی حیثیت کے مطابق ہونا چاہیے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے: تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم ان عورتوں کو طلاق دے دو جنہیں تم نے ہاتھ نہ لگایا ہو اور نہ ہی تم نے ان کے لئے مہر مقرر کیا ہو اور ان کو فائدہ پہنچاوء۔ تونگر پر اس کی حیثیت کے مطابق اور تنگدست پر اس کی حیثیت کے مطابق۔ (البقرہ236)

2۔ نکاح کرتے وقت مہر مقرر کیا ہو مگر خلوت صحیحہ کی نو بت نہ آئے ایسی صورت میں عورت کو حق مہر کا نصف ملے گا ہاں البتہ عورت اپنی رضامندی سے نصف حق مہر سے دست بردار ہو سکتی ہے یا خاوند اگر نصف کی بجائے پورا حق مہر ادا کر نا چاہے تو ایسا کر سکتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: اور اگر تم انہیں ہاتھ لگانے سے قبل طلاق دے دو اور تم ان کے لئے حق مہر مقرر کر چکے ہو تو مقرر کردہ حق مہر کا نصف ادا کرنا واجب ہوگا سوائے اس کے کہ وہ عورتیں خود معاف کر دیں یا وہ شخص اپنا حق مہر معاف کر دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے (اس سے مراد طلاق دینے والا شخص نصف کی بجائے پورا ادا کر دے)۔ (البقرہ 237)

3۔ اگر حق مہر مقرر کی گیا ہو اور خلوت صحیحہ بھی ہو چکی ہو تو اس وصورت میں مقرر کردا حق مہر پورا ادا کرنا ہوگا ہاں اگر عوت اپنی مرضی سے اپنے حق سے دستبردا ہو جائے تو الگ بات ہے۔ چنانچہ ارشاد ربانی ہے: اور تم بیویوں کو ان کے مہر خوش دلی سے دے دو لیکن اگر وہ از خود تمہارے لئے اس میں سے کچھ چھوڑ دیں تو اسے مزیدار اور خوشگوا سمجھ کر کھاو۔ (النساء 4)

4۔ حق مہر مقرر نہ کی ہو خلوت کے بعد طلاق دی گئی ہو اس صورت میں مہر مثل ادا کر نا ہوگا۔ یعنی وہ حق مہر جو عام طور پر عورت کے خاندان میں رائج ہے چنانچہ اس سلسلے میں اس کی حقیقی بہنوں چچا زاد بہنوں پھوپھیوں پھوپھویوں کی بیٹیوں وغیرہ کا حق مہر معتبر تسلیم کی جائے گا لیکن ساتھ ہی ان کی ہم عمری حسن و جمال مال و دولت عقل و دین اور ہم عصری کو بھی نظر انداز نہ کی جائیگا۔

شرعی لحاظ سے مہر کی چند اقسام ہیں جن کا مختصر سا ذکر کیا جاتا ہے۔

1۔ مہر معجل: ایسا مہر جس کی ادائیگی خلوت سے پہلے ضروری ہو۔ شرعی طور پر عورت حق ہے کہ مہر معجل کی عدم ادائیگی کی صورت میں شوہر سے اپنے نفس کو روک لے۔

2۔ مہر مؤجل مہر مؤجل اس مہر کو کہتے ہیں جس کی ادائیگی کی میعاد مقرر ہو ائمہ اربعہ کا اس پر اتفاق ہے کہ مہر مؤجل کی عدم ادائیگی کی صورت میں عورت کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ اپنے آپ کو خاوند سے روکے رکھے کیونکہ عورت نے اپنا حق خود معیاد دینے سے ساقط کی ہے۔

3۔ مہر مطلق: مہر مطلق وہ جو نہ موعجل ہو اور نہ ہی مؤجل۔ زوجین کی باہمی رضامندی سے شوہر جب چاہے کر سکتا ہے اس طرح کے مہر کی وصولی کے لئے عورت شرعی طور پر مجاز نہیں کہ وہ اپنے نفس کو شوہر سے روک لے۔

4۔ مہر منجم: ایسا مہر جس کے متعلق زجین میں طے پا جائے کہ اس کی ادائیگی یک مشت نہیں بلکہ قسط بار ہوگی۔

5۔ مہر مثل: اگر نکاح کے موقعہ پر مہر مقرر نہ کی جائے یا مقدار مہر کے تعین میں زوجین کے درمیان اختلاف ہو جائے یا مہر کے بدلے کسی ایسی چیز کا نام لیا جائے جسے اسلام مال تصور نہیں کرتا۔ مثلاً کوئی حرام چیز جیسے شراب یا سور وغیرہ تو ان تمام صورتوں میں عورت کو مہر مثل ملے گا۔ مہر مثل کی تفصیل اس مضمون میں گزر چکی ہے۔

6۔ مہر مسمی: اگر مہر کا تعین نقدی میں نہ ہو بلکہ اور کسی ایسی چیز میں ہو جس میں مال بننے کی صلاحیت ہو۔ مثلاً مکان، باغ اور جانور، وغیرہ تو یہ مہر مسمی کہلا تا ہے۔

Check Also

Pani Ka Imtihan

By Rao Ghulam Mustafa