Tarjeeh e Awal
ترجیحِ اول

اگر ﻗﺎﺭﻭﻥ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺁﭘﮑﯽ ﺟﯿﺐ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﺍﮮ ﭨﯽ ﺍﯾﻢ ﮐﺎﺭﮈ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺧﺰﺍﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﻥ ﭼﺎﺑﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﮩﺘﺮ ہے ﺟﻨﮩﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﻃﺎﻗﺘﻮﺭ ﺗﺮﯾﻦ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﻋﺎﺟﺰ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﻗﺎﺭﻭﻥ ﭘﺮ ﮐﯿﺎ ﺑﯿﺘﮯ ﮔﯽ؟
ﺍﮔﺮ ﮐﺴﺮﯼٰ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﮭﮏ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﺎ ﺻﻮﻓﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺗﺨﺖ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺁﺭﺍﻡ ﺩﮦ ہے ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻝ ﭘﺮ ﮐﯿﺎ ﮔﺰﺭﮮ ﮔﯽ؟
ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﻗﯿﺼﺮِ ﺭﻭﻡ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻏﻼﻡ ﺷﺘﺮ ﻣﺮﻍ ﮐﮯ ﭘﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﻨﮯ ﺟﻦ ﭘﻨﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﮨﻮﺍ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﭘﻨﮑﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮮ ﺳﯽ ﮐﮯ ﮨﺰﺍﺭﻭﯾﮟ ﺣﺼﮯ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﮐﯿﺴﺎ ﻟﮕﮯ ﮔﺎ؟
ﺁﭖ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﮐﺎﺭ لے کر ﮨﻼﮐﻮ ﺧﺎن ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻓﺮﺍﭨﮯ ﺑﮭﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﺋﯿﮯ۔۔ ﮐﯿﺎ ﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐو ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﻮﮌﻭﮞ ﭘﺮ ﻏﺮﻭﺭ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﻤﻨﮉ ﮨﻮﮔﺎ؟
ﮨﺮﻗﻞ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺧﺎﺹ ﻣﭩﯽ ﺳﮯ ﺑﻨﯽ ﺻﺮﺍﺣﯽ ﺳﮯ ﭨﮭﻨﮉﺍ ﭘﺎﻧﯽ ﻟﯿﮑﺮ ﭘﯿﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍِﺱ ﺁﺳﺎﺋﺶ ﭘﺮ ﺣﺴﺪ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯽ۔۔ ﺗﻮ ﺍﮔﺮ ﺍﺳﮯ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﮯ ﻓﺮﺝ ﮐﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﮐﯿﺎ ﺳﻮﭼﮯ ﮔﺎ؟
ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻣﻨﺼﻮﺭ ﮐﮯ ﻏﻼﻡ ﺍﺱ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﭨﮭﻨﮉﮮ ﺍﻭﺭ ﮔﺮﻡ ﭘﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﻣﻼ ﮐﺮ ﻏﺴﻞ ﮐﺎ ﺍﮨﺘﻤﺎﻡ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻮﻻ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺎﯾﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔۔ ﮐﯿﺴﺎ ﻟﮕﮯ ﮔﺎ ﺍﺳﮯ ﺍﮔﺮ ﻭﮦ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ کا ہیٹر یا گیزر ﺩﯾﮑﮫ ﻟﮯ ﺗﻮ؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ قارون کے پاس جتنی دولت تھی اسکا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ قیصر و کسریٰ، ہرقل روم خلیفہ منصور اپنی تمام دولت اور آسائشوں کو لیے بغیر ہی دنیا سے رخصت ہو گئے، کچھ ساتھ نہیں لے جا سکے۔ فرعون 48 سال سے زائد عرصہ حکومت کرنے کے باوجود موسیؑ کی پرورش کو نہ روک سکا اور بِل آخر جابرانہ دور حکومت کے بعد جب ڈوبا تو اسکی لاش کو نہ پانی نے قبول کیا نہ مٹی نے۔
القرآن "آج ہم تیری لاش کو اترا دیں (باقی رکھیں) گے تاکہ تو اپنے پچھلوں کے لیے نشانی ہو اور بے شک لوگ ہماری آیتوں سے غافل ہیں" سورہ یونس آیت 91۔
آج اگر ہر اعتبار سے جائزہ لیا جائے تو ہماری ترجیح اول مال و دولت ہی نظر آئے گی کیونکہ ہماری ہر منزل کا دارومدار دولت پر ہے اور اس دور ترقی میں کوئی اسکا انکار کر ہی نہیں سکتا کیونکہ تمام دنیاوی مقاصد کا حصول دولت کے بغیر ممکن نہیں آج کے دور میں نیکی کرنے کے لیے بھی دولت کی ضرورت پڑتی ہے لیکن اس تمام میں ہم نے اپنی ترجیح اول ہی دولت کو بنا لیا حالانکہ ایک وقت تھا جب دولت تھی ہی نہیں تب بھی لوگ دنیاوی مقاصد حاصل کرتے تھے پھر بارٹر سسٹم یعنی اشیا کے بدلے اشیا کے تحت تجارت کی جانے لگی اور مقاصد حاصل کیے جاتے پھر خزانے سے سکے بنائے گئے پہلے سونا، چاندی پتل اور اب کاغذ کے ٹکڑے حصول مقاصد بلکہ انسان کے ماضی حال مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں، محض کاغذ کے ٹکڑے۔
دور جدید نے کرنسی کی مادی شکل کو بھی ختم کر دیا اب لین دین میں تدبری طریق رائج ہوگیا ہے۔ یعنی دولت کی اصل شکل کا وجود ہی ختم ہو رہا لیکن پھر بھی ہم اسکے عکس کے پیچھے بھاگے جا رہے ہیں۔
جب انڈے سے چوزہ نکلتا ہے تو اسکی ترجیح اول خوراک نہیں بلکہ وہ مرغی ہوتی ہے جو اسکے سامنے ہوتی اور ہونی بھی چاہیے کیونکہ وہ اسکی خوراک، اسکی حفاظت اور پرورش کی ذمہ دار ہے موجب یہ کہ اس نے اسکو پیدا کیا ہے پر حقیقت میں دیکھا گیا جب وہ چوزہ ایک تندرست مرغا بن جاتا ہے تو پھر اسکو ماں کی کوئی پرواہ نہیں رہتی، وہ اب ایک نئے خاندان کا سربراہ ہوتا ہے اور خود کو سلطنت کا راجہ سمجھتا ہے اسکی ترجیحات بدل جاتی ہیں پھر جب وقت گزرتا ہے وہ بوڑھا ہونے لگتا یا کوئی بیماری آن پکڑتی ہے تو سارا جاہ و جلال فُق ہو جاتا ہے پھر سے اسے سہارے کی ضرورت پڑتی ہے لیکن اسکو ناکارہ سمجھ کر یا ذبح کر دیا جاتا یا مرنے کے لیے بے سروپا چھوڑ دیا جاتا ہے۔
ایک اسکول کے طالب علم کی ترجیح اوّل جماعت میں نمایاں پوزیشن لینا ہوسکتی ہے۔
مدرسے کے طالب علم کی ترجیح اوّل مولانا یا عالم بننا اور ایک مولوی کی ترجیح مفتی بننا ہو سکتی ہے۔
کسی فیکٹری یا دفاتر کے ملازم کی ترجیح اوّل مقام میں ترقی اور تنخواہ میں اضافہ ہو سکتی ہے۔
ایک بزنس مین کی ترجیح ایک سے درجنوں کاروبار کا مالک بننا ہو سکتی ہے۔
کسی موضی مرض میں مبتلا شخص کی ترجیح اوّل جلد سے جلد شفا یاب ہونا۔ کنوارے کی ترجیح جلد شادی ہونا اور جو شادی شدہ ہیں انکی ترجیح بچے پیدا کرنا، اولاد والے اچھے طرز زندگی کے خواہاں ہو سکتے۔
جو غریب ہیں انکو دولت کی طلب اور جن کے پاس مال و دولت کی فراوانی ہے وہ سکون کے متلاشی ہو سکتے ہیں عرض یہ کہ زندگی کے ہر شعبہ میں ہر کسی کی ترجیحات اس کے حالات کے مطابق تبدیل ہوتی ہیں اور ہر کسی کو اسکی خواہش کے مطابق عطا نہیں کیا جاتا اگر ایسا ہو جاتا تو زندگی کی دور رُک جاتی سب کو ایک جیسا عطا ہو جائے تو اچھے بُرے میں فرق ختم ہو جائے، زندہ رہنے کے لیے یہ دور لازم ہے خواہشات کی تکمیل کے لیے انسان جُستجو کرتا رہے اور آگے بڑھتا رہے لیکن خواہشات کی اس جُستجو میں ہم اس قدر غافل ہو گئے ہیں کہ مقصد کو بھول چکے۔
ALLAH IS LIFETIME TOP PRIORITY OF INTELLECT CUROSITY
یہ بات سب ماننے کے لیے تیار ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اللہ کو ترجیح اوّل کیسے بنایا جائے؟
واپس بچے اور ماں کی مثال پر نظر دوڑائیے اگر بچہ اپنی دنیاوی، جسمانی ضروریات کو چھوڑ کر خود کو ماں کے سپرد کر دے تو اسے کسی بھی حاجت کی فکر کرنے کی قطعا ضرورت نہیں پڑے گی اور ایسا ہی ہوتا ہے خواہ پرندے ہوں، جانور، انسانوں میں یہ رشتہ ایسا ہے کہ ماں بچوں کی تمام تر ضروریات کا حیال رکھتی ہے۔ یہ اولاد کا توکل ہی ہے جو جوان ہونے تک والدین کے سہارے عمر گزار دیتے ہیں۔
یہ ان ہستیوں کی حالت محافظت ہے جو محض دنیا میں دو چار اجناس کو پیدا کرنے کا سبب بنے تو اس کریم ذات کا عالم کیا ہوگا جس نے پورے عالم کو پیدا کیا اور اپنے بندوں کے ساتھ ستر ماوں سے زیادہ محبت کا دعوہ بھی کرتا ہے۔ وہ ذات جس کے سب دعوے، سب وعدے سچے ہیں۔
آج ہر انسان اس دور میں لگا ہوا ہے کہ ڈھیر سارا مال و دولت اکھٹا کیا جائے جس سے بہترین طرز زندگی حاصل ہو سکے۔ تمام تر سہولیات میسر ہوں اور پھر نسلوں کے لیے وافر سرمایا چھوڑ کہ جایا جائے خواہ انکو سب دیکھنا نصیب ہو یا نہ ہو۔ توکل ختم ہو چکا، شاید ہم توکل کرنا ہی نہیں چاہتے ہمیں اپنی زورِ بازو پہ بھروسہ ہے بے شک ہم ہر ہر سانس کے مہتاج ہیں۔ رات کو سوتے تو یہ تک نہیں معلوم کہ صبح آنکھ کھلے نہ کھلے۔ راستے میں چلتے چلتے دھڑکن قلب بند ہوئی ستر کلو کا بھاری بھرکم منصوبہ ساز چل بسا۔ چار دن افسوس رونا دھونا پھر پیچھے نام لینے والے بھی نہیں رہتے۔ بس وہی نام زندہ رہے جنکو اللہ نے عزت بخشی۔ صدیاں گزر جانے کے باوجود بھی انہی کا زکر کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی زندگیاں اللہ کہ راہ میں وقف کر دی۔ خود اللہ نے فرما دیا۔ مفہوم: تم میرا زکر کرو میں تمہارا زکر کروں گا۔
مفہوم: تم میری طرف ایک قدم بڑھاو میں دس قدم بڑھاوں گا۔
ہم نے کبھی قدم بڑھایا ہی نہیں، ہم نے توکل کیا ہی نہیں، ہم پہ خالق کا زکر بھاری ہے تو نتیجہ یہ نکلا کہ ہم خوار ہوئے۔ دنیا و آخرت کی زلت ہمارا مقدر بنی۔
مسلمان ممالک کے بیشتر سرائے، دکانوں اور دفاتر میں یہ آیت لکھی نظر آتی ہے کہ" وَاللہُ خَیرُ الرَّازِقِین"، بے شک اللہ بہترین رزق دینے والا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں محض اس آیت کے لکھنے سے ہی روضی میں برکت پڑ جاتی ہے لیکن عملاً ہمیں اس پہ توکلّ ہو جائے تو ہماری ترجیح رزق کے بجائے رزق دینے والا ہو جائے۔
ترجیح اوّل بنانے کا مطلب ک خالق سے اس طرح محبت کی جائے جس طرح محبت کرنے کا حق ہے۔ اللہ پاک خود قرآن مجید میں فرماتے ہیں "اے محبوب فرما دیجیے کہ کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری تعبداری کرو خود اللہ تعالی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ معاف فرما دے گا اور اللہ تعالی بڑا بخشنے والا مہربان ہے"۔
ہمیں اس ذات کا تعارف کرانے والے جناب محمد مصطفیٰﷺ ہیں گویا حضورﷺ سے محبت ہی اللہ کی محبت ہے اور اسی میں ہماری بخشش ہے۔
علامہ اقبال نے خوب فرمایا تھا:
ادائے دید سراپا نیاز تھی تیری
کسی کو دیکھتے رہنا نماز تھی تیری
ازاں ازل سے تیرے عشق کا ترانہ بنی
نماز اُس کے نظارے کا اِک بہانہ بنی