Masroofiat
مصروفیت

ہم سب مصروف ہیں۔ ہمارے پاس فرصت نہیں۔ ہم کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں۔ ہم خاموش اور تنہا ہوں تو بھی کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں۔ کبھی یادیں دہراتے ہیں کبھی مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں۔ تصورات کے ہوائی قلعے تعمیر کرتے ہیں۔ ہم آئینوں میں عکس دیکھنے کے عادی ہیں۔ حقائق کو دیکھنا اتنا دلچسپ نہیں جتنا حقائق کا عکس۔
مصروفیت کا یہ عالم ہے کہ کسی کے پاس کسی کے لیے وقت نہیں۔ ہمیں اپنے لیے وقت میسر نہیں آتا۔ ہم مصروف ہیں۔ ہمارے لیے ہماری مصروفیت ہی ہماری خودگریزی، خود فریبی، خود شکنی اور خود فراموشی کا جواز مہیا کرتی ہے۔ ہمارے پاس بہت سے مقاصد ہیں۔ بڑے منصوبے ہیں۔ طویل پروگرام ہیں۔ کثیر ارادے ہیں۔ بے شمار عزائم ہیں۔ پس ہر شے کی کثرت ہے صرف وقت کی قلت ہے۔ زندگی مختصر ہے اور مصروفیات بے اندازہ۔ ہم کیا کریں، ہم سوچتے ہیں تو ندامت ہوتی ہے اس لیے ہم سوچنے کے بجائے کام میں مصروف ہو جاتے ہیں۔
ہم لوگوں سے آشنائی کرتے ہیں ہر ایک سے دوستی ہر ایک سے رابطہ اور نتیجہ یہ کہ ہم سب کو مایوس کرتے ہیں۔ ہم خود بھی مایوس ہو جاتے ہیں۔ اس لیے کہ ہم اپنے آپ سے جھوٹ نہیں بول سکتے۔ ہم نے اپنے آپ کو فراموش کر دیا۔
اب ہم مشین کا پرزہ بن چکے ہیں۔ فٹا فٹ کھٹا کھٹ چل رہے ہیں۔ کیوں اور کہاں؟ یہ معلوم کرنے کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں۔
اتنا تو معلوم ہے کہ ہم جلدی میں ہیں۔ ہمیں کس بات کی جلدی ہے یہ نہیں معلوم۔
ہم صبح گھر سے نکلتے ہیں، خوشی خوشی جلدی جلدی۔ ہم دفتروں، کارخانوں، کھیتوں کھلیانوں میں جاتے ہیں۔ کام کرتے اور مصروف ہو جاتے ہیں۔ پھر شام کو گھر کی طرف ایسے بھاگتے ہیں جیسے پیاسا کنویں کی طرف اور پھر گھر پہنچتے ہی اور قسم کی مصروفیات میں کھو جاتے ہیں۔ ہم مصروف رہتے ہیں حتٰی کہ نیند کی آغوش میں سب مصروفیات کو فراموش کر دیتے ہیں۔ کائنات کا ذرہ ذرہ مصروف ہے، چرند، پرند، نباتات و جمادات سب مصروف ہیں اور ہم تو افضل ترین ہیں ہم کیوں نہ مصروف ہوں؟ ہم مصروف تو رہیں گے لیکن غور طلب بات صرف یہ ہے کہ ہم اپنی مصروفیات سے کیا حاصل کرتے ہیں؟
ہم مصروفیت کو کمائی بناتے ہیں اور پھر اس کمائی کے استعمال کے لیے الگ مصروف ہو جاتے ہیں۔ زندگی مصروفیت میں گزر جاتی ہے اور پھر اچانک اس حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے کہ اگر مرنا ہی تھا تو مر مر کہ جینا کیوں تھا۔ کتنے ناپ تول کر قدم رکھے تھے، کتنی احتیاط کی تھی۔ کیسے کیسے جتن کیے تھے اور فرصت کے چند لمحات نہ ملے اور جب ملنے لگے تو موت نے مہلت نہ دی۔ پہلے زندگی مہلت نہیں دیتی اور پھر موت آڑے آ جاتی ہے۔ کیا زندگی کا مقصد صرف دنیاوی کاموں میں مصروف رہنا ہی ہے؟ کیا ہم کبھی آزاد نہیں ہو سکتے؟ کیا ہمارے پاس اس خوبصورت کائنات کو دیکھنے کا وقت نہیں ہوگا؟ کیا ہم نکلتے اور ڈوبتے سورج کے مناظر کبھی نہیں دیکھ سکیں گے؟ کیا چاندنی راتیں ہمارے لیے نہیں ہیں؟ کیا ہم تاریک مصروفیت کی اماوس رات میں بھٹکتے رہیں گے؟ کیا انسان افضل تخلیق نہیں ہے؟
انسان پہاڑوں کی خوبصورت چوٹیاں اور وسیع و عریض میدانوں سے کب لطف اندوز ہوگا؟ ہم کب حق کی تلاش میں جتن کریں گے؟ جب تک انسان مصروفیت کے عقوبت خانے سے آزاد نہ ہو جائے اسے زندگی کا حسن نظر نہیں آسکتا۔ زندگی شکم پروری ہی تو نہیں، تسکین قلب و نظر کا بھی اہتمام ہونا چاہیے۔ زندگی زندگی دینے والے کی رضا کے مطابق گزاری جائے۔ فطرت کا حسن فاطر کائنات کی منشا کے مطابق دیکھا جائے۔ آنکھیں عطا کرنے والے نے آنکھوں کے لیے نظاروں کا اہتمام کیا ہے۔ کانوں کے لیے گلستان مستی میں نغمات کے چشمے بہہ رہے ہیں۔ غور و فکرکے لیے رازہائے سربستہ مُنتظر ہیں۔ روح کے لیے مائدہ تجلیات بِچھا ہے۔
ہم سمجھتے نہیں ہم صرف آسائش و جود کے لیے مصروف ہیں۔ ہم حاصل کرتے ہیں، گنِتے ہیں اور خرچ کرتے رہتے ہیں۔ ہماری زندگی اعلٰی تقاضوں سے محروم ہے۔ ہماری مصروفیت صرف شہرت، مال اور لذتِ وجود کے لیے ہے۔ زندگی غریبوں کے کچے گھروندوں میں بھی سرشار رہ سکتی ہے اور امیروں کے پَکے محلات میں بھی بیمار رہ سکتی ہے۔ کیا زندگی کمانے، پہننے، کھانے، سونے کے سوا اور کچھ نہیں؟ کیا زندگی میں فرصت نہیں؟
ہمارے پاس کسی کے آنسو پونچھنے کا بھی وقت نہیں۔ ہم ہر انسان کو اپنی ضرورت اور افادیت کے حوالے سے جانتے ہیں۔ وہ کون لوگ تھے جو خود پیاس سے مر جاتے تھے اور پانی دوسرے پیاسے بھائی کو دے جاتے تھے۔ کیا ہماری مصروفیت کسی بانصیب کاہل کو معاف نہیں کر سکتی؟ کیا کاہل بانصیب ہو سکتا ہے؟ کیوں نہیں۔ با نصیب کی اپنی مصروفیات ہیں۔ دل کی مصروفیت، نگاہ کی مصروفیت، روح کی مصروفیت، زندگی کے راز پانے والے، سراغ حیات دریافت کرنے والے دفاتر، کارخانوں، کھیتوں کھلیانوں میں مصروف نہیں ہوتے۔۔ وہ صرف آشنائی کے رموزکی گردہ کشائی میں مصروف ہوتے ہیں۔
ان کی نگاہوں میں کچھ اور ہی جلوے ہوتے ہیں۔ وہ کچھ نہیں کرتے۔۔ وہ سب کچھ کرتے ہیں۔ ان کے کام۔ ان کے کیا کام۔ ان کا صرف ایک ہی کام۔ ذرے کے دل کی دھڑکنیں سننا اور کتاب ہستی کی ورق گردانیاں کرنا۔ وہ خود کسی فنکار کا انوکھا کام ہیں۔ ان لوگوں کی فرصت زمانے والوں کی مصروفیت سے ہزار درجے بہتر ہے۔ یہی لوگ زمانے کا مستقبل ہوتے ہیں۔ زمانے کی بھاگ دور کے معمولات بھی یہی سمبھالتے ہیں۔ یہ زمانے کے اُفق ذہن پر تابناک سورج کی طرح طلوع ہوتے ہیں اور ان کی بے مصرف مصروفیت کی تیرہ شہی کی دھجیاں اڑا دیتے ہیں۔
یہ لوگ ہیں افکار کے چہرے سے پردہ اٹھانے والے۔ ان لوگوں کو فرصت کا راز مل چکا ہے۔ فرصت میں بھی خدمت خلق کے لیے ہمہ وقت موجود رہتے ہیں۔ یہی لوگ ہی صحیح مصروفیت کے مفہوم سے آشنا ہیں۔ جو شے چلنے سے حاصل نہیں ہوتی وہ ٹھہرنے سے ہو جاتی ہے۔ جو راز پیسے جمع کرنے میں نہ پایا جائے وہ خرچ کرنے میں پایا جائے گا۔ جسے سونے والا دریافت نہ کر سکے اسے جاگنے والا ضرور دریافت کر لے گا۔ انسان کے گرد مصروفیت نے جو جال بُن رکھا ہے اسے فرصت توڑ دیتی ہے۔ مصروفیت غلامی ہے اور فرصت آزادی۔ اس سے پہلے ہم سے سب کچھ چھِن جائے، ہم خود ہی کیوں نہیں چھوڑ دیتے۔
نہ من انجام و نے آغاز جویم
ہمہ رازم جھان راز جویم
گر از روی حقیقت پردہ گیرند
ھَمان بُوک و مگر را باز جویم