Wednesday, 18 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mubashir Ali Zaidi
  4. Waraq e Zeest

Waraq e Zeest

ورقِ زیست

وہ ایک زیر تعمیر مکان تھا جو ادھورا چھوڑ دیا گیا تھا۔ ایک سو بیس گز کے پلاٹ پر چھت تھی، آگے پیچھے کی گلیوں کی طرف دروازے ضرور تھے لیکن کمروں کی دیواروں میں کوئی دروازہ نہیں تھا۔ باتھ روم تک میں نہیں۔ اس پر پردہ پڑا رہتا تھا۔ باقی سب کچھ چوپٹ کھلا تھا۔ چھت یا دیواروں پر رنگ و روغن دور کی بات، سیمنٹ کا لیپ تک نہیں تھا۔

وہ ہمارے چھوٹے ماموں کا گھر تھا۔ ہم 1985 میں خانیوال سے کراچی آئے تو اس گھر میں اترے۔

بابا اور بڑے ماموں کی طرح چھوٹے ماموں بھی نیشنل بینک کے ملازم تھے۔ صرف میٹرک کیا تھا لیکن بے حد ذہین اور وسیع حلقہ احباب رکھتے تھے۔ انگریزی بہت عمدہ لکھتے تھے۔ بینک کی یونین میں بھی نام پیدا کیا۔ ضیا الحق دور میں انھیں نوکری سے نکال دیا گیا اور وہ دس سال بیروزگار رہے۔

یہ چھوٹے ماموں کا وہی سختی کا زمانہ تھا۔ امی بابا کراچی جانے پر مجبور ہوئے کیونکہ خانیوال سے ایک ایک کرکے سارے رشتے دار راولپنڈی یا کراچی منتقل ہوچکے تھے۔ بابا کا ٹرانسفر کچھ عرصے بعد ہوا لیکن ہم اسکول کا سال ختم ہونے پر کراچی آگئے۔ چھوٹے ماموں ہی لینے آئے تھے کیونکہ نانی اماں بھی ہمارے ساتھ تھیں۔

میں بارہ سال کا تھا اور اچھا یا برا، چھوٹا یا بڑا مکان ہونے سے کچھ فرق نہیں پڑتا تھا۔ میں اسی پر خوش تھا کہ بہت سے کزنز اور دوسرے رشتے داروں سے ملنے بلکہ ساتھ رہنے کا موقع مل گیا ہے۔

آج آپ ویسا مکان دیکھیں گے تو بھوت بنگلہ سمجھیں گے۔ لیکن تب اس میں بڑی رونق تھی۔ اس رونق کی وجہ ہماری چھوٹی ممانی تھیں۔ برجیس خاتون ان کا نام تھا۔ وہ بہت خوبصورت تھیں اور ان سے زیادہ ان کی ہنسی خوبصورت تھی۔ مزے مزے کی باتیں کرکے خوب قہقہے لگاتی تھیں۔ بڑی نند یعنی ہماری خالا سے ان کی نہیں بنتی تھی لیکن چھوٹی نند یعنی ہماری امی سے بہت محبت کرتی تھیں۔ امی بھی بہن سے زیادہ چھوٹی بھابھی سے قریب تھیں۔

یاد آرہا ہے کہ امی چھوٹے ماموں کو چُھٹ بھائی اور چھوٹی ممانی کو چُھٹ بھابھی کہتی تھیں۔ بڑے ماموں کو ہمیشہ بھائی جان پکارا۔

کراچی کے گھروں میں زیر زمین ٹینک ہوتا ہے جس کا پانی موٹر کھینچ کر چھت کی ٹنکی تک پہنچاتی ہے۔ اس گھر میں موٹر نہیں تھی۔ کبھی چھوٹی ممانی، کبھی کوئی بہن، کبھی عارف بھائی ٹینک کا ڈھکنا اٹھاکر ڈول نما بالٹی اس میں پھینکتے۔ پھر پانی سے بھر کر کھینچ لیتے۔ وہ پانی ایک ٹنکی میں بھرا جاتا جس سے سارا دن ہاتھ منہ دھلتا تھا۔ اسی سے صراحی بھری جاتی تھی۔ اسی سے کچن میں چائے بنتی تھی۔

ماموں کے گھر میں چائے ہر وقت ہی بنتی رہتی تھی۔ کیتلی نہیں، بڑی دیگچی میں بنائی جاتی تھی۔ حالانکہ دیگ ہونی چاہیے تھی۔ ماموں خود چائے کے شوقین تھے۔ لیکن مہمانوں کا آنا جانا بھی لگا رہتا تھا۔ ماموں کے بہن بھائی اور ان کے بچے۔ ممانی کے بہن بھائی اور ان کے بچے۔ امی اور ماموں کے کزنز اور ان کے بچے۔ پھر اماں کے کراچی آنے کا سن کر دور دور کے رشتے دار آئے۔ بعض ایسے بزرگ دیکھنے کو ملے جن سے اماں کی آخری ملاقات پاکستان بننے سے پہلے امروہے میں ہوئی تھی۔

خانیوال سے ہم کچھ زیادہ سامان نہیں لائے تھے۔ لیکن اماں کا تخت ریل گاڑی میں ساتھ آیا۔ وہ اتنا چھوٹا تھا کہ اس پر بمشکل ایک مصلی بچھ سکتا تھا۔ اماں اس پر بیٹھ کر نماز پڑھتی تھیں۔ ماموں کے گھر میں اسے پہلی بار جس جگہ رکھا گیا، اگلے پندرہ سال، اماں کے انتقال تک وہیں موجود رہا۔ اسی کے ساتھ اماں کی چارپائی تھی جس کے اوپر ان کا پاندان اور نیچے اگال دان رکھا رہتا تھا۔ ہر آنے جانے والا اماں کو سلام کرنے حاضر ہوتا تو اسی تخت پر بیٹھتا۔

اس گھر میں ڈرائنگ روم کے نام پر جو کمرا تھا، اسے باقی گھر سے علاحدہ کرنے کی دیواریں نہیں تھی۔ بڑی چادروں کو پردہ بناکر دیوار بنادی گئی تھی۔ کبھی کبھار ماموں کا کوئی دوست آتا تو وہاں بیٹھتا۔ ورنہ خاندان کے لوگ اندر آجاتے تھے اور وہیں محفل جمتی تھی۔ تقریباََ ہر شام کو جمعہ بازار کا ماحول ہوتا تھا۔

ہم اس گھر میں دو مہینے رہے۔ خیال تھا کہ بابا کا ٹرانسفر ہوگا تو الگ مکان لیں گے۔ لیکن اس میں تاخیر ہورہی تھی۔ آخر امی نے کرائے کے مکان کی تلاش شروع کی اور میدان پار کاکا پتھی کے مکان کے اوپر والے چوبارے پر جا براجے۔ اس کا حال میں پہلے لکھ چکا ہوں۔

ہم نے اپنے گھر میں کم اور ماموں کے ہاں بہت فلمیں دیکھیں۔ بابا نے ٹرانسفر ہونے کے بعد گھر کو سامان سے بھر دیا تھا۔ ڈاولینس کا فریج، سونی کا اکیس انچ کا رنگین ٹی وی اور وی سی آر بھی خریدا۔ مجھے ماڈل کا نام یاد ہے، این وی 380۔ لیکن اپنے گھر میں فلم دیکھنے کا مزہ نہیں آتا تھا۔ ویک اینڈ پر میں یا کوئی کزن وی سی آر اٹھاکر ماموں کے ہاں لے جاتا۔ ماموں کے داماد مظفر بھائی کے گھر سے ٹی وی لایا جاتا۔ عارف بھائی اور ان کے ہم عمر کزن این کے ویڈیوز یا شہنائی ویڈیوز سے کرائے پر فلموں کے کیسٹ لاتے۔ پہلی فلم ذوق و شوق سے دیکھی جاتی۔ دوسری ختم ہونے تک بیشتر لوگ انٹاغفیل ہوچکے ہوتے۔

ممانی اپنے گھر کے بارے میں کئی قصے سناتی تھیں۔ عام ضعیف الاعتقاد عورتوں والے قصے۔ مثلاََ یہ کہ اقبال صاحب نے بتایا ہے کہ اس گھر میں آسیب ہے۔ کسی مردے کی کھوپڑی یا ہڈی دفن ہے، اس لیے ہم مشکل میں ہیں۔ یا یہ کہ مجھے ایک بار سڑک پر ایک چھوٹی سی خوبصورت ہنڈیا نظر آئی تو اٹھاکر لے آئی۔ اقبال صاحب نے بتایا کہ اس ہنڈیا میں کچھ ایسا تھا جس نے ہمارے حالات بگاڑ دیے۔ کبھی کہتیں، اقبال صاحب نے انھیں [یعنی چھوٹے ماموں کو] دیکھ کر کہا، آپ ابھی تک زندہ ہیں؟ آپ پر تو کسی نے بہت سخت عمل کیا ہے۔

اقبال صاحب انچولی کے مشہور عامل تھے۔ عباس صاحب کی طرح معلوم نہیں ان کے قبضے میں جن تھے یا نہیں، لیکن شہرت کافی تھی۔ جب ان کا انتقال ہوا تو کسی نے اڑادی کہ ایک جن نے اقبال صاحب سے ناراض ہوکر ان کی گردن مروڑ دی۔ انچولی والے ایسی ہی بلیک کامیڈی کرتے ہیں۔

چھوٹی ممانی کو ڈکاریں بہت آتی تھیں۔ رات کو بہت دیر ٹہلتی رہتیں، پیٹ دباتی رہتیں اور ہنس ہنس کر اماں اور امی سے باتیں کرتی رہتیں۔ بعض اوقات حیرت ہوتی۔ کبھی ان کے ساتھ ہم بھی ہنس پڑتے۔ وہ رات کو دیر تک جاگتی تھیں اور فجر کے وقت اٹھ جاتیں۔ کبھی میری آنکھ کھل جاتی تو انھیں مصلے پر بیٹھا دیکھتا۔ نہ جانے کون کون سی دعائیں اور وظیفے پڑھتی رہتی تھیں۔ مقصد بس یہ تھا کہ کسی طرح میاں کی ملازمت بحال ہوجائے۔ وہ کہتی تھیں کہ میں نے اس گھر کو پاک کرنے اور رکھنے کے لیے کونے کونے میں نمازیں پڑھی ہیں۔

ضیا مردود سے قوم کی جان چھٹی تو الیکشن ہوئے اور پیپلز پارٹی کی حکومت آئی۔ چھوٹے ماموں بینظیر سے ملے اور ان کی ملازمت بحال ہوگئی۔ اماں اور ممانی سجدے میں گرگئیں۔ منتیں پوری کی گئیں۔ ہم سب نے جشن منایا۔

ادھر ماموں کی ملازمت بحال ہوئی، ادھر ممانی کی طبیعت بگڑنے لگی۔ بینک سے میڈیکل ملنے لگا تو ڈاکٹروں کو دکھایا۔ انھوں نے بتایا کہ پتے میں مسئلہ ہے۔ سرجری کرکے نکالنا پڑے گا۔ یہ ہمارے خاندان میں معمول کی بات تھی۔ نانی اماں کا پتا نکالا جاچکا تھا۔ خالا کا پتا نکالا گیا۔ برسوں بعد میری بیوی کا پتا بھی نکالا گیا۔ یعنی خاندانی یا امروہوی مسئلہ ہے۔

ان دنوں میڈیکل ٹیکنالوجی اتنی ایڈوانس نہیں تھی۔ یا ممانی کے اسپتال میں نہیں ہوگی کہ اندر کا حال بتاسکتی۔ ان کا آپریشن ہوا اور سرجن کا کہنا تھا کہ پیٹ کھولتے ہی بند کردیا۔ اندر کینسر تھا جو جگر تک سرایت کرگیا تھا۔

میں امی کے ساتھ ممانی کو دیکھنے ضیا الدین اسپتال ناظم آباد گیا۔ جن خاتون کو ہمیشہ ہنستے مسکراتے، قہقہے لگاتے دیکھا تھا، وہ آدھے گھنٹے میں ایک لفظ بھی نہ بولیں۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ وہ جان چکی تھی کہ لوگ آخری بار دیکھنے کو آرہے ہیں۔

لوگوں نے کہا، ممانی نے میاں کی ملازمت کے لیے کوئی سخت وظیفہ پڑھ دیا۔ ایسے وظیفوں سے کام ہوجاتا ہے لیکن کسی کی جان لے کر ٹلتا ہے۔

اس کے بعد ممانی ایک ڈیڑھ ہفتے زندہ رہیں۔ ان کی آخری خواہش تھی کہ انھیں واپس ان کے اسی گھر لے جایا جائے، جو ٹوٹا پھوٹا تھا، آسیب زدہ لگتا تھا، لیکن جس کے ایک ایک کونے میں انھوں نے نماز پڑھی تھی۔ انھوں نے آخری سانس اسپتال میں لیا۔ اہل تشیع اپنی میتوں کو اسپتال سے غسل کفن کے لیے سیدھے امام بارگاہ کے مردہ خانے لے جاتے ہیں۔ لیکن ممانی کی خواہش پوری کرنے کے لیے ان کی میت کو پہلے گھر لایا گیا۔ لوگوں نے محاورہ سنا ہے کہ کہرام مچتا ہے۔ میں نے اس دن کہرام مچتے دیکھا۔

ممانی کے بعد ان کے بچوں کی شادیاں ہوئیں۔ اس گھر میں خوشی کے بہت سے موقع آئے۔ لیکن ویسی رونق نہیں آئی جیسی ان کے دم سے تھی۔

Check Also

Meri Apni Kahani (2)

By Muhammad Idrees Abbasi