Monday, 02 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mubashir Ali Zaidi
  4. Colors Of The Flower Moon

Colors Of The Flower Moon

کلرز آف دا فلاور مون

ارنیسٹ بک ہارٹ 1892 میں ٹیکساس کے ایک غریب کاشتکار کے گھر پیدا ہوا۔ وہ انیس سال کا تھا جب کام کی تلاش میں اپنے چچا کے پاس اوکلاہوما پہنچا۔ اس کا چچا فئیرفیکس میں رہتا تھا جہاں وہ اپنی اور مقامی امریکی قبائلیوں کی اراضی کی دیکھ بھال کرتا تھا، مویشی پالتا تھا اور رفتہ رفتہ بعض دوسرے کاروبار بھی کرنے لگا تھا۔ مقامی انتظامیہ میں بھی عمل دخل تھا۔

اس علاقے میں کچھ عرصہ قبل تیل نکل آیا تھا اور مقامی امریکی قبائلی اس کے مالک تھے۔ دولت ان پر برس رہی تھی۔ بہت سے سفید فام امریکی کام کی تلاش میں وہاں آرہے تھے اور بعض نے مقامی لڑکیوں سے شادیاں بھی کرلی تھیں۔

ارنیسٹ چھوٹے موٹے کام کرتا رہا لیکن پھر اس نے بھی ایک لڑکی پھانس لی۔ وہ لڑکی مولی کائل ایک دولت مند خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔

چند سال بعد مقامی امریکی قبائلیوں کی اس کاونٹی میں سلسلے وار قتل ہونے لگے۔ ریکارڈ پر 60 سے زیادہ قتل ہیں لیکن بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ممکنہ طور پر سیکڑوں افراد کی جان لی گئی۔ بیشتر کو گولی ماری گئی اور کچھ کو زہر دیا گیا۔ ظاہر ہے کہ اس کا مقصد ان کی دولت ہتھیانا تھا۔

ارنیسٹ کی بیوی مولی کے خاندان میں بھی کئی افراد قتل ہوئے۔ ان میں اس کی بہنیں اور کزن شامل تھے۔ ان سب کی موت کے بعد خاندان کی تمام دولت کی وارث مولی تھی۔ لیکن مولی خود بھی بیمار رہتی تھی اور اس کا شوہر اسے باقاعدگی سے وہ دوا دے رہا تھا، جو اس کے چچا کے ڈاکٹروں نے تجویز کی تھی۔ ان کے تین بچے تھے۔

1920 کی دہائی میں سلسلے وار قتل کی وارداتوں پر امریکی قبائلیوں میں غم و غصہ اور عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوا۔ ان کا ایک وفد واشنگٹن پہنچا اور صدر کیلون کولیج سے ملاقات کی۔ اس وقت تک ایف بی آئی قائم ہوچکی تھی لیکن فراڈ جیسے معاملات دیکھتی تھی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ اسے قتل کی وارداتوں کی ذمے داری سونپی گئی۔

ایف بی آئی کے ایجنٹ اوکلاہوما پہنچے اور تحقیقات کے بعد ارنیسٹ اور اس کے چچا ولیم کنگ ہیل کو گرفتار کرلیا۔ معلوم ہوا کہ ہیل انشورنس فراڈ میں بھی ملوث تھا اور قاتلوں کے گروہ کا سرغنہ تھا۔ ارنیسٹ نے بھی کئی قتل کیے تھے اور بیوی کو دوا میں زہر ملاکر دے رہا تھا تاکہ اس کی موت کے بعد دولت اسے مل جائے۔

اوسیج کاونٹی مرڈرز ایف بی آئی کا پہلا بڑا کیس تھا جسے اس نے کامیابی سے حل کرلیا۔ لیکن قاتل کچھ سال قید کے بعد رہا ہوگئے۔

مولی نے ارنیسٹ کو طلاق دے دی اور کچھ عرصے بعد دوسری شادی کرلی۔ اس کا انتقال 1937 میں 50 سال کی عمر میں ہوا۔ اسی سال ارنیسٹ کو پیرول پر رہائی ملی لیکن تین سال بعد مولی کے ایک رشتے دار کے گھر ڈکیتی کے الزام میں دوبارہ جیل بھیج دیا گیا۔ اس بار 1959 میں رہا کیا گیا۔ ارنیسٹ کا انتقال 1986 میں ہوا۔ ارنیسٹ کے چچا کو 1947 میں رہا کردیا گیا تھا۔ اس کا انتقال 1962 میں ہوا۔

امریکی صحافی ڈیوڈ گرین نے یہ سنسنی خیز سچی کہانی اپنی کتاب کلرز آف دا فلاور مون، دا اوسیج مرڈرز اینڈ دا برتھ آف ایف بی آئی میں تفصیل سے بیان کی۔ ہالی ووڈ پروڈیوسر مارٹن سکورسیسی نے 2023 میں اس پر تین گھنٹے سے زیادہ طویل فلم بنائی جس میں رابرٹ ڈی نیرو نے ولیم کنگ ہیل، لیونارڈو ڈی کیپریو نے ارنیسٹ اور للی گلیڈسٹون نے مولی کا کردار ادا کیا۔ یہ فلم دس آسکر ایوارڈز کے لیے نامزد ہوئی۔

Check Also

Colors Of The Flower Moon

By Mubashir Ali Zaidi