Aurat Ki Surat e Haal Ka Zimmedar Kon?
عورت کی صورت حال کا ذمہ دار کون؟
برصغیر کی خواتین کو دو چیزوں نے ٹھیک ٹھاک مس گائیڈ کیا ہے نمبر ایک اسلامی فیمینسٹ رائٹرز، نمبر دو چیٹ جی پی ٹی۔ کس طرح؟ بتاتی ہوں۔۔
رائٹرز کا نام نہیں بتاوں گی۔۔ میری مصنفاوں سے کوئی دشمنی نہیں۔۔ لیکن انہوں نے اپنے ناولز کے زریعے خواتین کی "ون وومین آرمی" متعارف کرائی۔ lucy ٹائپ کی۔۔
انہوں نے اسلام کا تڑکا لگا کر خواتین کو بڑی توپ چیز ظاہر کیا بلکہ پورا پورا تاثر دیا کہ ایک عورت کو کسی بھی بات پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیے۔۔ سب کچھ خود منیج کرنا چاہیے۔۔ آپ کر سکتی ہیں۔۔ آپ کو کسی مرد کی نہ تو ضرورت ہے نہ سہارا ڈھونڈیں۔ اپنے ناولز کے زریعے انہوں نے خواتین کا ایک بڑا دھانسو امیج قائم کیا۔۔ ایک انوکھی خودداری سکھائی کہ اپنے ارد گرد موجود مردوں سے مدد مانگنا توہین ہے۔۔ سب کچھ خود کرو۔۔
خواتین کا ایک بڑا طبقہ گھر بیٹھے سینگوں کو تیل مل کر بیٹھ گیا۔۔
بھئی ہماری رائٹر نے بتایا ہے عورت کے یہ یہ حقوق ہیں۔۔ فرائض نہ ہماری رائٹر نے بتائے نہ ہمیں جاننے میں دلچسپی ہے۔۔ ہمیں بس اپنے حقوق سے غرض ہے۔
گوکہ ان کی پیاری رائٹر بھی انکے جتنی ہی بے بس ہے۔۔ دربدر ہے۔۔ ان کو بھی وہی مسائل لاحق ہیں جو عام عورتوں کو ہوتے۔۔
اسکے بعد شروع ہوا مقابلہ اور تماشہ۔۔
اصل پِسا ہوا طبقہ آج بھی سروائیو کر رہا۔۔ ان کے مسائل نہ پہلے حل ہوئے تھے نہ آج ہو رہے۔۔ شور صرف انہوں نے ڈالا ہوا جن کو آل ریڈی حقوق ملے ہوئے۔۔
اللہ نے آپکا نگہبان مرد کو مقرر کیا ہے۔۔ تو ظاہر ہے آپ کے فائدے کے لیے کیا ہے۔۔ کئی معاملات میں محرم رشتوں پر ڈپینڈ کیا ہے تو آپکی حساسیت اور نازک پن کو دیکھ کر کیا ہے۔۔ مردوں کو کفیل بنایا ہے تاکہ آپ بھاری ذمے داریاں اٹھاتے ہوے تھک نہ جائیں۔۔ لیکن آپ نے مرد کو ٹھیک ٹھاک کما کر دکھایا۔۔ خوب محنت کرکے دکھائی۔۔ ثابت کیا کہ میں تمہارے بغیر بھی گھر چلا سکتی ہوں۔۔ نتیجتاََ اسے خود سے لاپروا کر دیا۔۔ کہ جب یہ سب کر سکتی ہے تو مجھے محنت کرنے کی کیا ضرورت ہے؟
ان کو بتایا گیا اکیلی رہ سکتی ہو۔۔ مرد کی کیا ضرورت۔۔ گراونڈ رئیلٹی سے نہ تو مصنفہ واقف تھی نہ بتایا۔۔
نتیجہ یہ نکلا کہ خواتین کی ایک بڑی تعداد نے اچھی پڑھائیاں کیں۔۔ نوکریاں کرکے سکون سے رہنے لگیں۔۔ لیکن چند سالوں میں ہی انہیں اندازہ ہوگیا۔۔ کہ جس ٹرک کی بتی کے پیچھے ہمیں لگایا گیا تھا وہ ٹرک کھائی میں جا رہا ہے۔۔
خواتین کو اوئیرنیس کے نام پر آزمائش میں ڈال دیا۔۔ کیونکہ کوئی بھی رُول سب پر پرفیکٹ نہیں بیٹھتا۔۔ حالات و واقعات دیکھنے پڑتے۔۔ غیر ملکی رائٹرز کہتی ہیں اکیلے رہ لو۔۔ کما رہی ہو مزے کرو۔۔ جبکہ پاکستان اور ترقی یافتہ ممالک کے مسائل میں زمین آسمان کا فرق ہے۔۔ یہ خواتین نہیں جانتی ہیں کہ اس ماحول میں اکیلا رہنا آسان نہیں ہے۔۔ بالکل بھی نہیں ہے۔
ہمارے معاشرے میں کسی بھی تنہا عورت پر بد چلنی کا الزام لگوا کر مار ڈالنا نہایت آسان ہے۔ اکیلی عورت خطرناک حد تک غیر محفوظ ہے۔۔ گاجر مولی کی طرح پورے برصغیر میں لوگ کاٹ دیے جاتے ہیں۔۔ جس خطے میں اربوں انسان بستے ہوں۔۔ درجنوں لوگ روز مار دیے جائیں کیا فرق پڑتا ہے؟
یہاں پسماندہ خطوں کی خواتین اتنی حاسد ہیں کہ کہ مرد کیا عورتیں بھی عورتوں کو مار دیتی ہیں۔۔ یا باپ بھائیوں سے مروا دیتی ہیں اور آپ ایسے معاشرے میں خواتین کو تنہا رہنے کی ترغیب دیتی ہیں؟
بھائی سے حصہ لے لو۔۔ شادی نہیں ہو رہی تو مزے سے رہو۔۔
یہ نہیں جانتی ہیں کہ یہاں چند فٹ کے تنازعے پر دس دس بندے قتل کر دیے جاتے ہیں۔۔
خدا خوفی رکھنے والا بھائی خود حصہ دے دے گا۔۔ لیکن جو نہیں دینا چاہتا وہ آپ کی جان لے لے گا حصہ نہیں دے گا اور پاکستان میں اسی سے نوے فی صد لوگ بیٹیوں بہنوں کو حصہ نہیں دینا چاہتے۔۔
ہمارا ملک عورتوں کے لیے غیر محفوظ معاشروں میں سر فہرست ممالک میں شامل ہے اور آپ اس معاشرے میں عورتوں کو اکیلے رہنے کے لیے رنگ برنگی کہانیاں تو تخلیق کر لیتی ہیں۔۔ لیکن انکو مزید مصیبت میں ڈال رہی ہیں۔۔ پہلے ہی یہاں کی خواتین مشکل زندگی گزار رہی ہیں۔۔ یہاں غیرت کے نام پر قتل فیورٹ کام ہے۔۔ کسی صورت نہیں بخشی جائیں گی۔ جس مرضی کونے میں جا چھپیں۔۔ جب ملیں گی۔ مار دی جائیں گی۔۔ الزام لگانا انتہائی آسان ہے۔۔
کہیں دولت کے لالچ میں مار دی جاتی ہیں۔ تو کہیں اپنی بے وقوفی سے سب ڈیل کرنے کی خوش فہمی میں مار دی جاتی ہیں۔۔ اپنی استطاعت سے زیادہ محنت کر رہی ہیں۔۔ زلیل ہو رہی ہیں۔۔ انہیں ایسی اوئیرنیس نہ دیں جو انکی جان لے کر راضی ہوتی ہے۔۔
ایسے معاشرے میں مرد کے بِنا سروائیول سخت مشکل ہوتا ہے۔۔ آپکا محرم ہی اس خونخوار معاشرے کے مصائب سے آپکو بچاے گا۔۔ اللہ ہماری بچیوں کو خوفِ خدا رکھنے والا محرم نصیب کرے۔

