Monday, 03 October 2022
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Khurram Masood

Social Media Jangju Ya Dajjali Quwaton Ke Aala e Kar

دجال کے خروج کے وقت معاشرے میں جھوٹ کی کثرت ہو گی، وہ جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ منٹوں میں بنا کر پیش کرے گا، اور جھوٹ سچ کو مکس کر دے گا کہ سچ اور جھوٹ میں پہچان باقی نہ رہے۔ دجال کے خروج سے پہلے دجال کے ایجنٹ اس کے آنے سے پہلے اس کیلئے راہ ہموار کریں گے۔ فتنوں کے اس عروج پر ہونے کے باوجود بھی مومن مسلمانوں پر اللہ کا فضل ہو گا، وہ دجال کو پہچان جائیں گے۔

کتابوں میں موجود ہے۔ وہ فتنوں کا ایسا دور ہو گا کہ اگر کوئی شخص یہ دیکھنا چاہے گا کہ کھڑکی سے باہر ہو کیا رہا ہے۔ تو وہ فتنہ اسے بھی اپنی طرف اچک لے گا۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال میڈیا اور موبائیل ہے۔ بس ایک منٹ کے لیے آپ اس کے اندر ان ہوتے ہیں اور گھنٹوں آپ کو اندازاہ ہی نہیں رہتا کہ وقت ہاتھ سے کیسے نکل گیا نہ دین کا فائدہ ہوتا ہے نہ ہی دنیا کا بس وقت کا ضیا، جس دور میں ہم پہنچ چکے ہیں۔

وہ میڈیا کا دور کہلایا جاتا ہے۔ جس میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم کا استعمال دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ جو ایک بے لگام گھوڑے کی مانند ہوتا جا رہا ہے۔ آزادی رائے کی آڑ میں طوفان بد تمیزی برپا ہے۔ جہاں بڑے چھوٹے کی تمیز کا کوئی فرق نہیں رہا رشتوں کے تقدس کو پوسٹ کے ذریعے پامال کیا جاتا سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کو سوچنا ہوگا کہ ان کی سمت کس جانب ہے۔

حدیث شریف جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہیں کرے اور بڑوں کی عزت نہ کرے اور علماء کرام کی قدر نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ بحیثیت مسلمان اور پاکستانی شہری ہونے کے ناطے ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنے ضمیر کو جگانے جھنجوڑنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ایک تہذیب یافتہ معاشرے اور روایات کا پاس رکھا جائے۔ ہمارا معاشرہ تیزی سے تہزییبی اخلاقی اور اپنی روایات کھو رہا ہے۔

ان حالات کو مد نظر رکھتے ہوے ہم اپنے معاشرے کو دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے۔ بحیثیت معاشرہ اپنی اقدار تیزی سے کھوتے جا رہے ہیں۔ اسی تناظر میں اگر ہم پاکستانی معاشرے کی بات کریں تو سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال سے انتہائی برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ خصوصاً جب سے سیاسی جماعتوں نے اپنے سوشل میڈیا سیل بنائیں ہیں۔

ہر جماعت کے سوشل میڈیا جنگجو اور وروکرز کو کھلی چھوٹ ہے کہ مخالفین کے خلاف جو چاہے لکھے بولے پوسٹ کرے یا شئیر کرے کوئی انھیں اخلاق اور روایات کے بارے میں بتانے والا نہیں ہے۔ بلکہ سیاسی پارٹی کے لیڈرز ورکرز کو مخالفین کی تذلیل کرنے کی ترغیب دیتے اور اکساتے ہیں۔ بلکہ جو ورکر زیادہ چرب زبان اور بد اخلاق ہو گا، اس کی ترقی اتنی ہی جلد پارٹی میں ہو گی۔

سوشل میڈیا جنگجووں کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کیا سچ ہے کیا جھوٹ کون بڑا ہے کون چھوٹا بس بغیر تصدیق کئے اخلاق اور ادب کا لحاظ رکھے بغیر طوفان بد تمیزی برپا کی جاتی ہے۔ جبکہ جھوٹ بولنا جھوٹ لکھنا، جعلی خبریں اور افواہیں پھیلانا مسلمانوں کو دھوکا دینا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا " مسلمان وہ ہے۔ جس کی زبان اور ہاتھ سے دیگر مسلمان محفوظ رہیں۔

کسی بھی خبر یا پیغام کو شیئر کرنے میں جلد بازی سے بچنا چاہئے، کیونکہ اللہ تعالٰی کا فرمان ہے" اے ایمان والو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو، ایسا نہ ہو کہ تم نادانستہ کسی قوم کا نقصان کر بیٹھو پھر تمہیں اپنے کئے پر نادم ہونا پڑے" عقل و شعور اور صبر و تحمل اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ سیاسی سوشل میڈیا جنگجوں کو اس بات کو مدنظر رکھنا چاہئیے کہ وہ لیڈر کی کس بات پر محاز کھولنے کو تیار ہیں۔

انھیں عقل و شعور کا استعمال کرنا چاہیےکہ کہیں جھوٹ اور سچ میں تفریق کیے بغیر دجال کے ایجنٹوں کے پھیلاے ہوے جال میں تو نہیں پھنس رہے، بغیر سوچے سمجھے جھوٹ کے پھیلانے میں اپنا حصہ تو نہیں ڈال رہے کسی بات کی تصدیق کیے بغیر کسی کو نقصان تو نہیں پہنچا رہے۔ جھوٹ کو پھیلانا بھی دجالی آلہ کار بننے کے مترادف ہے۔

اس ضمن میں اگر پاکستان تحریک انصاف کی حالیہ منظم مہم کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا کہ کیسے تحریک انصاف کے سوشل میڈیا جنگجووں نے اپنے لیڈر کے کہنے پر جھوٹ اور سچ میں تفریق کیے بغیر اخلاق و روایات کی دھچیاں اڑائی ہیں۔ ایک منظم طریقے سے اداروں کے خلاف اور انکے سربرہان کے خلاف کہرام برپا کروایا، جس پر دشمن ملک انڈیا کو کہنا پڑا کے پاکستان کے بیانئے کو ہم نے 0 7 سالوں میں اتنا نقصان نہں پہنچایا۔

جتنا تحریک انصاف کی اداروں کے خلاف مہم نے پہنچایا۔ سیاسی پارٹیوں کے سوشل میڈیا جنگجووں کو اپنے لیڈر کی بات ضرور سنی چاہئے پر ایک قوم اور شہری ہونے کے ناطے قومی سلامتی کے معاملے کو اول ترجیح دینی چاہیے، سوشل میڈیا جنگجووں کو اس بات کا ادراک ہی نہیں نہ ہی اندازہ ہے کہ پاکستان آرمی کس کس محاز پر دشمنوں کا مقابلا کررہی ہے۔

اور ویسے بھی سیاسی سوشل میڈیا جنگجو آرام دہ کمروں میں بیٹھ کر کیا جانیں کے فوج کے سپاہی اور افسران کس بہادری سے بارڈر پر دشمنوں کو روکے ہوے ہیں۔ سوشل میڈیا سیل چلانے والوں نے فیک اکاؤنٹس بنا رکھے ہیں۔ جو ملک میں منظم مہم چلا رہے ہیں تا کہ انتشار اور بے چینی پھیلائی جائے، قوم کوتقسیم کیا جائے اور محاذ آرائی کی طرف دھکیل دیا جائے۔

یہ لوگ دانستہ یا نادانستہ طو پر قومی سلامتی سے کھیل رہے ہیں۔ نوجوانوں کی برین واشنگ کر کے اپنے سوشل میڈیا سیل میں بھرتی کرنا اور ان کی صلاحیتوں کوجھوٹ پھیلانے کے لئے استعمال کرنا سراسر پاکستان کے مفاد کے خلاف خود کو سوشل میڈیا جنگجو کہنے والوں کو اور ریاست کے مفاد کے مہم چلانے والوں کو سوچنا چاہیے کہ انہیں ایک اہم ایٹمی مسلم ریاست کا محافظ بننا ہے یا دجالی قوتوں کا آلہ کار جن کو پاکستان ایک آنکھ نہیں بھاتا۔

Check Also

Zaheer Uddin Babar (1)

By Malik Usman Uttra