Wednesday, 22 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Ismat Usama
  4. Pegham e Pakistan, Ulema o Mashaikh Conference Aur Afwaj e Pakistan

Pegham e Pakistan, Ulema o Mashaikh Conference Aur Afwaj e Pakistan

پیغامِ پاکستان، علماء و مشائخ کانفرنس اور افواجِ پاکستان

عصرِ حاضر میں قوم و وطن کا دفاع جس طرح جنگ کے میدانوں میں کیا جاتا ہے اسی طرح اس کی نظریاتی حدود کی حفاظت علم و ابلاغ کے میدانوں میں کرنا بھی ضروری ہے۔ معرکہء حق میں افواجِ پاکستان نے دشمن کے خلاف ایک طرف عسکری معرکے میں کامیابی حاصل کی، دوسری طرف ابلاغ اور بیانیے کی جنگ میں بھی اپنا موقف واضح کیا اور عالمی رائے عامہ کو ہمنوا بنایا جس سے عالمی سطح پر قوم کا وقار بلند ہوا۔ چند روزہ پاک بھارت جنگ کے دوران نوجوان نسل کو مطالعہء پاکستان اور تحفظِ آزادی کی جدوجہد کا خود مشاہدہ کرنے کا موقع بھی ملا۔

پاکستان ایک اسلامی نظریاتی ریاست ہے جس کی بنیاد میں کلمہء طیبہ اور لاکھوں شہیدوں کا خون شامل ہے۔ عصرِ حاضر میں وطنِ عزیز کے دشمنوں نے ریاستِ پاکستان، قومی اداروں بشمول افواجِ پاکستان کے خلاف کئی محاذ کھول رکھے ہیں جن کے ذریعے سے مسلح دہشت گرد حملہ آور ہوکے سپاہیوں اور شہریوں کو یکساں طور پر نشانہ بناتے ہیں۔ بعض مقامات پر مساجد اور سکولوں پر خود کش حملے کیے جاتے ہیں۔ ان حالات میں ریاستِ پاکستان کی جانب سے علماء اور مشائخ کو اعتماد میں لینے کا اہتمام کیا گیا۔

علماء و مشائخ کانفرنس منعقدہ دسمبر 2025 سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے زور دیا کہ جنگ میں کامیابی کے لئے ملک کا معاشی طور پر مضبوط ہونا اور دہشت گردی سے محفوظ ہونا اشد ضروری ہے۔ ملکی ترقی اور استحکام کے لئے اتحاد و یک جہتی ناگزیر ہے، اس کے بغیر ملک ترقی نہیں کرسکتا۔ انھوں نے پاک فوج کے جوانوں کی شان دار کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنی اس فوج کا دفاع کریں جس نے ہمارے دفاع کے لیے اپنے لہو سے تاریخ رقم کی!

چیف آف ڈیفنس سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ریاستِ طیبہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کی مثال ایک نظریاتی ریاست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستِ مدینہ کا ماڈل عدل، علم، مساوات اور برداشت پر قائم تھا اور آج بھی یہ اصول کسی بھی قوم کی ترقی اور وقار کی بنیاد بن سکتے ہیں۔ چیف آف ڈیفنس سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قومی علماء و مشائخ کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ریاستِ طیبہ اور پاکستان کے درمیان ایک گہرا تاریخی تعلق موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مسلم ممالک میں سے "پاکستان" کو "محافظینِ حرمین" کا شرف عطا کیا ہے۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے زور دیا کہ جس قوم نے علم اور قلم کو چھوڑا، وہاں انتشار اور فساد نے جگہ لی اور حقیقی عزت و طاقت تقسیم سے نہیں بلکہ محنت اور علم سے حاصل کی جاتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی پاکستان کا مسئلہ نہیں بلکہ ہندوستان کا وطیرہ ہے اور ہم دشمن کو چھپ کر نہیں، بلکہ للکار کر شکست دیتے ہیں۔

چیف آف ڈیفنس سٹاف نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلامی ریاست میں ریاست کے علاوہ کسی کو جہاد کے حکم دینے کا اختیار نہیں ہے۔ معرکہء حق میں اللہ کی نصرت سے کامیابی ملی۔ انہوں نے علماء سے اپیل کی کہ قوم کو متحد رکھیں اور عوام میں بصیرت اور وسعت پیدا کریں۔

قومی علماء و مشائخ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے پاکستانی قوم، ریاستی اداروں اور مذہبی قیادت کو ایک متفقہ پیغام دیا کہ "پاکستان ایک نظریے کی بنیاد پر وجود میں آیا تھا اور اسی نظریے کے ذریعے مضبوط بھی ہوگا۔ علم، کردار، محنت اور قومی وحدت وہ ستون ہیں جو ملکوں کو مضبوط کرتے ہیں اور یہی اصول پاکستان کی کامیابی کا ضامن ہیں"۔

دشمن نے دیکھ لیا کہ پاک افواج کو میدان میں ہرانا مشکل ہے تو دہشت گردی کی خفیہ کارروائیوں سے نقصان پہنچانے کے لئے پراکسی وار شروع کردی۔ ریاستِ پاکستان کو موجودہ دور میں "فتنہ الخوارج اور فتنہء ہندوستان" سے مسلسل لڑنا پڑتا ہے۔ اندرونی اور بیرونی ہر طرح کے خطرات سے وطنِ عزیز کو محفوظ کرنے کے لیے 2017ء میں تمام مکاتبِ فکرکے علمائے کرام نے "پیغامِ پاکستان" کے نام سے متفقہ فتویٰ جاری کیا تھا جس میں واضح کیا گیا تھا کہ آئین کی رو سے پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور اس کی افواج آئینِ پاکستان کی پابند ہیں، ان پر جن تنظیموں کی جانب سے شریعت کا نام لے کر بیرونی طاقتوں کے ایماء پر مسلح حملے کئے جاتے ہیں وہ جائز نہیں ہیں۔

قرآنِ پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ کا غضب ہوگا اور اس کی لعنت اور اس کے لئے اللہ نے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے " (سورہء النساء: 93)۔

"پیغامِ پاکستان" کی متفقہ دستاویز کی تیاری میں "وفاق المدارس العربیہ، تنظیم المدارس اہلسنت، وفاق المدارس السلفیہ، وفاق المدارس الشیعیہ، رابطۃ المدارس پاکستان، دارالعلوم کراچی، دارالعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف، جامعہ بنوریہ کراچی، جامعۃ المنتظر لاہور، جامعہ اشرفیہ لاہور، جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک، جامعہ محمدیہ اسلام آباد اور جامعہ فریدیہ اسلام آباد کے اساتذہ کرام، جید علماء اور مفتی حضرات نے حصہ لیا تھا۔ " پیغام پاکستان کی دستاویز کے متن کا ایک اہم حصہ درج ذیل ہے:

National Narrative Against Terrorism: Paigham-e-Pakistan [Pakistan Message] دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیہ تاریخی فتویٰ -پیغام پاکستان

Paigham-e-Pakistan۔

متفقہ فتویٰ

(26؍ مئی 2017ء)

متفقہ فتویٰ (جوابِ استفتاء)

بسم اللہ الر حمٰن الر حیم

الجواب حامداً و مصلّیاً۔

1– اسلامی جمہوریہ پاکستان یقیناً اپنے دستور و آئین کے لحا ظ سے ایک اسلامی ریا ست ہے، جس کے دستور کا آغاز ہی قرار دادِ مقاصد کے اس جملے سے ہوتا ہے کہ:

"اللہ تعالیٰ ہی کل کائنات کا بلا شرکت غیر ے حاکم مطلق ہے اور پاکستان کے جمہور کو جو اختیار و اقتدار اس کی مقرر کر دہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہوگا، وہ ایک مقدس اما نت ہے"۔

یہ قرار دادِ مقاصد ملک کی تمام دینی اور سیاسی جما عتو ں کے اتفاق سے دستور کا حصہ بنا ئی گئی اور 1956ء سے لے کر 1973ء تک ہر دستور میں موجود رہی اور آج بھی موجود ہے۔ اس کے علاوہ دستور کی دفعہ 31 میں مسلمانوں کو اسلامی طرز زندگی اپنانے کے لیے مختلف پالیسی کے اصول وضاحت کے ساتھ درج ہیں، نیز دفعہ 227 میں اقرار کیا گیا ہے کہ تمام مو جودہ قوانین کو قرآن و سنت کے تحت اسلامی احکام کے مطا بق بنایا جائے گا اور کوئی ایسا قانون نہیں بنایا جائے گا جو اسلامی احکام کے خلاف ہو اس اصول پر عمل کروانے کے لیے دستور کے تحت وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کی شریعت بینچ کا راستہ کھلا ہوا ہے، جس کے تحت ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ قرآن و سنت کے خلا ف قوانین کو عدالت میں چیلنج کرکے انہیں تبدیل کروائے۔

ان امور کے پیشِ نظر پاکستان کسی شک و شبہ کے بغیر ایک اسلامی ریاست ہے اور کسی قسم کی عملی خامیوں کی بنا پر اسے، اس کی حکومت یا افواج کو غیر مسلم قرار دینا ہرگز جا ئز نہیں، بلکہ گناہ ہے۔

2– چونکہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور پاکستان کی حکومت اور افواج دستورِ پاکستان کے پابند اور اس کے مطابق حلف اٹھاتے ہیں اس لیے پاکستان کی حکومت یا افواج کے خلاف مسلح کارروائیاں یقیناً "بغاوت" کے زمر ے میں آتی ہیں، جو شرعاً بالکل حرام ہیں۔ دستور پاکستان کی اسلامی دفعات کو مکمل طور پر نافذ کرنا بلاشبہ حکومت کی اوّلین ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کو ادا کرنے کے لیے پُر امن اور آئینی جدوجہد بیشک مسلمانوں کا اہم فریضہ ہے، لیکن اس مقصد کے لیے ہتھیار اٹھانا فساد فی الارض ہے اور رسول کریم ﷺ کی واضح احادیث میں اس کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے اور جو لوگ اس مسلح بغاوت میں شریک یا اس کی کسی بھی طرح مدد یا حمایت کرتے ہیں، وہ آنحضرت ﷺکے ارشادات کی کھلی نافرمانی کر رہے ہیں۔ سرکارِ دو عالم ﷺ کا ارشاد ہے:

"أَلا مَنُ وَلِيَ عَلَيُهِ وَالٍ، فَرَآهُ يَأُتِي شَيُئًا مِنُ مَعُصِيَةِ اللهِ، فَلُيَكُرَهُ مَا يَأُتِي مِنُ مَعُصِيَةِ اللهِ، وَلا يَنُزِعَنُ يَدًا مِنُ طَاعَةٍ"۔

(خوب سن لو کہ جس شخص پر کوئی حاکم بن جائے اور وہ اسے گناہ کرتے دیکھے تو جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی وہ کر رہا ہے، اسے برا سمجھے، لیکن اطاعت سے ہرگز ہاتھ نہ کھینچے۔) (صحیح مسلم، کتاب الا مارۃ، حدیث نمبر 4768)

تقریباً متواتر احادیث میں یہ مضمون وارد ہوا ہے کہ کسی مسلمان حکومت کے خلاف مسلح کارروائی اور خونریزی بدترین گناہ ہے۔

3– اسلام میں خود کُشی بد ترین گناہ ہے۔ قرآن کر یم کا ارشاد ہے:

﴿لَا تَقُتُلُوُٓا اَنُفُسَکُمُ﴾ (سورۃ نساء: آیت نمبر 29) (تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔)

اور بہت سی احادیث میں خودکُشی کو بد ترین عذاب کا موجب قرار دیا گیا ہے۔ ایک حدیث میں ارشاد ہے:

"مَنُ قَتَلَ نَفُسَهُ بِحَدِيدَةٍ فَحَدِيدَتُهُ فِي يَدِهِ يَتَوَجَّأُ بِهَا فِي بَطُنِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِيهَا أَبَدًا"

(جو شخص کسی لو ہے کے ہتھیار سے خود کُشی کر ے، تو جہنم کی آگ میں اس کا ہتھیا ر اس کے ہاتھ میں ہوگا جس سے وہ اپنے پیٹ میں ضرب لگا رہا ہوگا اور اس آگ میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔)

(جامع الاصول بحوالہ بخاری و مسلم)

نیز جن لوگوں کے بارے میں آنحضرت ﷺکو بتایا گیا کہ انہوں نے خود کُشی کی ہے، ان کے بارے میں آپ ﷺنے سخت وعید ارشاد فرمائی اور ایک ایسے شخص کی آپ نے نما ز جنازہ بھی نہیں پڑھی۔ (ابوداؤد، حدیث: 1395)

یہ تو عام خود کُشی کا حکم ہے اور اگر یہ خو د کُشی کسی دوسرے مسلمان کو مارنے کے لیے کی جائے تو یہ دوہرے گناہ کا سبب ہے، ایک خود کُشی کا گناہ اور دوسرے کسی مسلمان کی جان لینا، جس کے بارے میں قرآن کریم کا ارشاد ہے:

﴿وَمَنُ یَّقُتُلُ مُؤُمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَا۬ؤُھ۫ جَھَنَّمُ خٰلِدًا فِیُھَا وَغَضِبَ اللہُ عَلَیُھِ وَلَعَنَھ۫ وَاَعَدَّ لَھ۫ عَذَابًا عَظِیُمًا﴾ (سورۃالنساء: 93)

(جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے اس کی سزا جہنم ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ کا غضب ہوگا اور وہ اس پر لعنت کر ے گا اور اس کے لیے اللہ نے زبر دست عذاب تیار کر رکھا ہے۔)

نیز جو غیر مسلم لوگ، اسلامی ریاست میں امن کے ساتھ رہتے ہیں، انہیں قتل کرنے کے بارے میں نبی کریمﷺ نے یہ سخت وعید بیان فرمائی ہے:

"مَنُ قَتَلَ نَفُسًا مُعَاهِدًا لَهُ ذِمَّةُ اللهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ فَقَدُ أَخُفَرَ بِذِمَّةِ اللَّهِ فَلَا يُرَحُ رَائِحَةَ الُجَنَّةِ"۔ (جامع ترمذی، حدیث: 1403)

(جو شخص کسی غیر مسلم کو جس کے ساتھ (اسلامی حکومت کا) معاہدہ ہے، اس کی جان کے تحفظ کا ذمہ اللہ اور اس کے رسول نے لیا ہے۔ اب جو شخص اللہ کے ذمہ کی بے حرمتی کرے، وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں سونگھے گا۔)

پاکستان میں جو خود کُش حملے کیے جا رہے ہیں وہ تین طرح کے شدید گناہوں کا مجموعہ ہیں، ایک خود کُشی، دوسرا کسی بےگناہ کو قتل کرنا، تیسرا مسلمان حکومت کے خلاف بغاوت۔ لہٰذا یہ خودکُش حملے کسی بھی تأویل سے جائز نہیں ہو سکتے اور ان کی حمایت کر نا گناہوں کے مجموعے کی حمایت کرنا ہے۔

4– پچھلے تین نکات سے یہ واضح ہے کہ جو لوگ شریعت کے نام پر یا قومیت کے نام پر حکومت کے خلاف مسلح کارروائیاں کر رہے ہیں، وہ شرعاً مسلمان ریاست کے خلاف کھلی بغاوت ہے اور ایسی صورت میں قرآن کریم کا واضح حکم ہے کہ:

﴿فَقَاتِلُوا الَّتِیُ تَبُغِیُ حَتّٰی تَفِیُ۬ ئَ اِلٰٓی اَمُرِ اللہِ﴾ (الحجرات: 9)

(جو گروہ بغاوت کر رہا ہے اس سے اس وقت تک لڑو جب تک وہ اللہ کے حکم کی طرف واپس نہ آ جائے۔)

لہٰذا حکومتِ پاکستان یا افواجِ پاکستان کا شرعی حدود میں رہتے ہوئے ان باغیوں کے خلاف لڑنا جائز ہی نہیں بلکہ قرآنی حکم کے تحت واجب ہے اور اس سلسلے میں ریاستی کوششوں کے تحت جو آپریشن کیے جا رہے ہیں اس میں افواجِ پا کستان کی حمایت اور بقدرِ استطاعت مدد کرنا تمام مسلمانوں پر واجب ہے۔

5– مختلف مسلکوں کا نظریاتی اختلاف ایک حقیقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن اس اختلاف کو علمی اور نظریاتی حدود میں رکھنا واجب ہے۔ اس سلسلے میں انبیاء کرام، صحابہ کرامؓ، ازواج مطہرات رضی اللہ عنھن اور اہل بیت کے تقدس کو ملحوظ رکھنا ایک فریضہ ہے اور آپس میں ایک دوسرے کے خلاف سبّ و شتم، اشتعال انگیزی اور نفرت پھیلانے کا کوئی جواز نہیں اور اس اختلاف کی بنا پر قتل و غارت گری، اپنے نظریا ت کو دوسروں پر جبر کے ذریعے مسلط کرنا یا ایک دوسرے کی جان کے درپے ہونا با لکل حرام ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔

توثیق متفقہ فتویٰ مع اضافی نوٹ

(جامعہ نعیمیہ، کراچی)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

حَامِداً وَّمُصَلِّیاً وَّمُسَلِّماً

جو شخص جملہ اوا مرونواہی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ اور اس کے رسول مکرمﷺ کے بیان کردہ احکام کا علی الاطلاق انکار کرے اور انہیں رد کرے، وہ یقیناً اجماعاً کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے لیکن جو شخص توحید و رسالت اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو اور قرآن کریم میں بیان کردہ بنیادی عقائد و ایمانیات اور جملہ ضروریات دین کا اقرار کرتا ہو، لیکن بشری کمزوری، غفلت یا بے عملی کے سبب اس کے خلاف عمل کرے تو اسے کافر نہیں قرار دیا جاسکتا۔

پاکستان کے مسلم حکمران اور مسلح افواج کی قیادت یقیناً توحید ور سالت اور قرآنی احکامات اور ضروریات دین کو تسلیم کرتے ہیں، اس لیے اَلُعِیَاذُ بِالله! انہیں کافر قرار دے کر ان کے خلاف مسلّح جدوجہد جہاد نہیں بلکہ "فساد فی الارض اور بغاوت" ہے۔ ایسے گروہ جو توحید و رسالت پر ایمان رکھنے والے مسلم حکمرانوں یا افواج کی کسی بشری کوتاہی کی بنا پر انہیں کافر قرار دینا شروع کر دیتے ہیں ان کا حکم قرآن وحدیث اور فقہ اسلامی میں موجود ہے، ایسے گروہوں کو خارجی کہا گیا ہے۔ اب ائمہ حرمین طیبین کے ائمہ کرام اور وہاں کے سرکردہ علماء بھی ایسے افراد اور گروہوں کو تکفیری اور خارجی قرار دے رہے ہیں۔

خوارج کی گمراہی اور زمین میں فسادوخون ریزی امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے عہدِ خلافت کی تاریخ کے حوالے سے کتابوں میں ثبت ہے۔ سوال میں ذکر کردہ دہشت گردوں کی دلیل بعینہٖ وہی ہے جو خوارج پیش کرتے تھے۔ لہٰذا اُن کا حکم بھی وہی ہے جو حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے اپنے عہد کے خوارج کی بابت دیا تھا اور ان کے خلاف جہاد کرکے ان کی سرکوبی کی تھی۔ پس ریاست اور عامّۃ المسلمین کے خلاف دور حاضر کی دہشت گردی قرآن کی رو سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مکرم ﷺ کے خلاف اعلان جنگ اور فساد فی الارض ہے، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

﴿اِنَّمَا جَزٰ۬ؤُا الَّذِیُنَ یُحَارِبُوُنَ اللہَ وَرَسُوُلَھ۫ وَیَسُعَوُنَ فِی الُاَرُضِ فَسَادًا اَنُ یُّقَتَّلُوُٓا اَوُ یُصَلَّبُوُٓا اَوُ تُقَطَّعَ اَیُدِیُھِمُ وَاَرُجُلُھُمُ مِّنُ خِلَافٍ اَوُ یُنُفَوُا مِنَ الُاَرُضِﺚ ذٰلِکَ لَھُمُ خِزُیٌ فِی الدُّنُیَا وَلَھُمُ فِی الُاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیُمٌﭰﺫ اِلَّا الَّذِیُنَ تَابُوُا مِنُ قَبُلِ اَنُ تَقُدِرُوُا عَلَیُھِمُﺆ فَاعُلَمُوُٓا اَنَّ اللہَ غَفُوُرٌ رَّحِیُمٌ﴾ (المائدہ: 33-34)

(جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کرتے ہیں اور زمین میں دہشت گردی کرتے ہیں، ان کی سزا یہی ہے کہ ان کو چُن چُن کر قتل کیا جائے یا ان کو سولی پر چڑھایا جائے یا ان کے ہاتھ اور پیر مخالف سَمت سے کاٹ دیئے جائیں یا ان کو سرزمینِ وطن سے نکال دیا جائے، یہ ان کی دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے، سوائے اس کے کہ جو (دورانِ جنگ) مسلمانوں کے اُن پر قابو پانے سے پہلے توبہ کرلیں (تو وہ اس سزا سے مستثنیٰ ہوں گے)، جان لو! بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔)

اسی حکم کو سورہ حجرات: 9میں بیان کیا گیا ہے: "پس باغی گروہ سے لڑو تاوقتیکہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئیں"۔

ہر پاکستانی کی شرعی ذمے داری ہے کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے حکومت اور مسلّح افواج کا ساتھ دے۔ مزید یہ کہ نظامِ مصطفی ﷺیعنی نفاذِ شریعت کے لیے آئین وقانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پرامن جدوجہد کرنا مسلمانوں کی ذمے داری ہے اور اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ فقط: وَاللهُ تَعَالیٰ اَعُلَمُ بِالصَّوَاب۔

نوٹ: ہم مندرجہ بالا تفصیلات کے ساتھ اس فتویٰ کی تصدیق و تصویب کرتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہرقسم کی دہشت گردی اور فتنہ وفساد سے محفوظ فرمائے اور سیاسی حکمرانوں کواپنی آئینی ذمے داری یعنی اسلامی احکامات مکمل طور پر پاکستان میں نافذ کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

متفقہ فتویٰ – اہم نکات

یہ تحریر اس دہشت گردی او ر خودکش حملوں سے متعلق ہے جن سے پاکستان اور اہلِ پاکستان سخت بے چین اور لہولہان ہورہے ہیں اور جن سے ہمارے دشمن فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ آیات قرآنی اوراحادیث مبارکہ کی روشنی میں ہم متفقہ طور پر تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء اور مفتیان حضرات یہ فتویٰ دیتے ہیں کہ:

اسلامی جمہوریہ پاکستان آئینی و دستوری لحاظ سے ایک اسلامی ریاست ہے، جس کے دستور کا آغاز اس قومی و ملی میثاق قراردادِ مقاصد سے ہوتا ہے: اللہ تبارک و تعالیٰ ہی کل کائنات کا بلاشرکت غیرے حاکم ہے اور پاکستان کے جمہور کو جو اختیار و اقتدار اس کی مقرر کردہ حدود کے اندر استعمال کرنے کا حق ہے، وہ ایک مقدس امانت ہے۔ نیز دستور میں اس بات کا اقرار بھی موجود ہے کہ اس ملک میں قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا اور موجودہ قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالا جائے گا۔

ہم متفقہ طور پر اسلام اور برداشت کے نام پر انتہا پسندانہ سوچ اور شدت پسندی کو مسترد کرتے ہیں۔ یہ شدت پسند سوچ جس جگہ بھی ہو، ہماری دشمن ہے اور اس کے خلاف فکری و انتظامی جدوجہد دینی تقاضا ہے۔

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ فرقہ وارانہ منافرت، مسلح فرقہ وارانہ تصادم اور طاقت کے بل پر اپنے نظریات کو دوسروں پر مسلط کرنے کی روش شریعت کے احکام کے منافی اور فساد فی الارض ہے، نیز اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور و قانون کی روح سے ایک قومی و ملی جرم ہے۔ اس لیے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت کے ادارے ایسی (منفی) سرگرمیوں کے سدِباب کےلئے تمام ممکنہ اقدامات کریں۔

پاکستان میں نفاذِ شریعت کے نام پر طاقت کا استعمال، ریاست کے خلاف مسلح محاذ آرائی، تخریب و فساد اور دہشت گردی کی تمام صورتیں جن کا ہمارے ملک کو سامنا ہے اسلامی شریعت کی رو سے ممنوع اور قطعی حرام ہیں اور بغاوت کے زمرے میں آتی ہیں اور ان کا تمام تر فائدہ اسلام اور ملک دشمن عناصر کو پہنچ رہا ہے۔

ہم پاکستان کے تمام مسلکوں اور مکاتبِ فکرکے نمائندہ علماء شرعی دلائل کی روشنی میں اتفاق رائے سے "خودکش حملوں کو حرام" قرار دیتے ہیں اور ہماری رائے میں خود کش حملے کرنے والے، کروانے والے اور ان حملوں کی ترغیب دینے والے اور ان کے معاون پاکستانی اسلام کی رو سے باغی ہیں اور ریاست پاکستان شرعی طور پر اس قانونی کارروائی کی مجاز ہے جو باغیوں کے خلاف کی جاتی ہے۔

دینی شعائر اور نعروں کو نجی عسکری مقاصد اور مسلح طاقت کے حصول کے لیے استعمال کرنا قرآن و سنت کی رو سے درست نہیں۔

جہاد کا وہ پہلو جس میں جنگ اور قتال شامل ہیں کو شروع کرنے کا اختیار صرف" اسلامی ریاست" کا ہے اور کسی شخص یا گروہ کو اس کا اختیار حاصل نہیں۔ کسی بھی فرد یا گروہ کے ایسے اقدامات کو ریاست کی حاکمیت میں دخل اندازی سمجھا جائے گا اور ان کے یہ اقدامات ریاست کے خلاف بغاوت تصور ہوں گے جو اسلامی تعلیمات کی رو سے سنگین اور واجب تعزیر جرم ہے۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے تمام شہری، دستوری و آئینی میثاق کے پابند ہیں، جس کی رو سے ان پر لازم قرار پاتا ہے کہ وہ بہرصورت "حب الوطنی اور ملکی و قومی مفادات کا تحفظ" پہلی ترجیح کے طور پر کریں اور اس پر کسی صورت آنچ نہ آنے دیں، ملک و قوم کے اجتماعی مفادات کو کسی بھی عنوان سے نظر انداز کرنے کی حکمت عملی اسلامی تعلیمات کی رو سے عہد شکنی اور غدر قرار پاتی ہے، جو دینی نقطۂ نظر سے سنگین جرم اور لائق تعزیر ہے۔

ریاست پاکستان میں امن و سکون قائم کرنے اور دشمنان پاکستان کے خلاف جو جدوجہد شروع کی گئی ہے ہم اس کی بھرپور تائید کرتے ہیں۔

6– پیغامِ پاکستان کی تیاری میں شریک محققین اور علمائے کرام کے اسمائے گرامی

پیغامِ پاکستان کا ابتدائی مسودہ محققین ادارہ تحقیقاتِ اسلامی، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، اسلام آباد نے تیار کیا اور بعد ازاں پیغامِ پاکستان کی یہ دستاویز مختلف مکاتبِ فکرکے جید علمائے کرام، مفتیان عظام اور قومی جامعات کے اساتذہ کی مشاورت اور نظر ثانی کے بعد شائع کی گئ۔

قومی علماء و مشائخ کانفرنس (دسمبر 2025ء) میں شریک مختلف مکاتبِ فکرکے اسکالرز نے معرکہء حق میں پاک افواج کی فقید المثال کارکردگی کو سراہا اور قوم و ملت کے مفاد میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی۔ وطن عزیز کی بقا اور سالمیت کے لئے قوم اور اداروں کا متحد ہونا، وطن کے محافظوں کے ساتھ کھڑے ہونا وقت کا تقاضا ہے، اس لئے کہ جنگ صرف فوج نہیں لڑتی بلکہ پوری قوم اس کی پشتیبان بن کر لڑا کرتی ہے۔ عوام الناس کو بھی یہ جاننا ہوگا کہ ملتِ اسلامیہ کے لئے کفار کے لشکروں سے تحفظ کی واحد امید "ریاستِ پاکستان" ہے جو کرہء ارض پر واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے۔ اس پاک وطن کو باہمی انتشار اور جھگڑوں سے کمزور نہ کریں، بین الاقوامی حالات کے چیلنجز کو سمجھیں، یہ وقت اتفاق و اتحاد، ہم آہنگی سے کام لے کر دشمن کی چالوں کو ناکام بنانے کا ہے۔ کہیں اپنی غفلت میں کسی دشمن کا آلہء کار یا ترجمان نہ بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کو تمام اندرونی و بیرونی دشمنوں سے محفوظ رکھے اور اس کے محافظوں کا حامی وناصر ہو آمین۔

وفا کو کس نے نبھایا جفائیں کس نے کیں
یہ فیصلہ بھی کبھی پر اٹھا کے رکھتے ہیں

تبھی ہیں زخم ہتھیلی پہ بےپناہ میرے
تمھاری راہ سے کانٹے ہٹا کے رکھتے ہیں

Check Also

Aur Haspania Jeet Gaya

By Hameed Ullah Bhatti