Gilgit Baltistan Qudrati Husn
گلگت بلتستان قدرتی حسن

برف پوش پہاڑوں اور بہتے دریاؤں کی سرزمین ہے۔ یہاں کے نالوں اور چشموں کا شفاف پانی دیکھ کر یہ یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہی پانی کسی دن انسانی صحت کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں بہنے والا شیشے کی طرح چمکتا پانی آج خاموش زہر میں تبدیل ہو چکا ہے اور اس کے اثرات آہستہ آہستہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔
حالیہ برسوں میں سامنے آنے والی تحقیقی رپورٹس نے اس خوش فہمی کو توڑ دیا ہے کہ صاف نظر آنے والا پانی لازماً محفوظ بھی ہوتا ہے۔ پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز (PCRWR) اور دیگر تحقیقی اداروں کی رپورٹس کے مطابق گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع سے حاصل کیے گئے پانی کے نمونوں میں بڑی تعداد مائیکروبیل آلودگی پر مشتمل پائی گئی۔ بعض علاقوں میں جانچے گئے نمونوں کا بڑا حصہ پینے کے لیے غیر موزوں قرار دیا گیا، جو ایک سنگین اور تشویشناک صورتِ حال کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔
گلگت بلتستان میں عوام کی اکثریت دریاؤں، ندی نالوں اور قدرتی چشموں کے پانی پر انحصار کرتی ہے۔ یہ پانی بظاہر شفاف اور ٹھنڈا ضرور ہوتا ہے، مگر سائنسی تجزیے بتاتے ہیں کہ اس میں خطرناک جراثیم، بیکٹیریا اور بعض مقامات پر کیمیائی عناصر موجود ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس خطے میں پیٹ کی بیماریاں، اسہال، ٹائیفائیڈ، یرقان اور معدے کے دیگر امراض عام ہوتے جا رہے ہیں۔
خصوصی طور پر اپنڈکس کی بیماری کا بڑھتا ہوا رجحان ایک اہم سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ مقامی ڈاکٹرز اور طبی ماہرین کے مطابق آلودہ پانی اور ناقص صفائی کے نظام کا اس بیماری کے پھیلاؤ میں نمایاں کردار ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ یہاں بیماریوں کے اسباب پر سنجیدہ تحقیق کے بجائے محض وقتی علاج پر اکتفا کیا جاتا ہے، جس کے باعث مسئلہ جوں کا توں برقرار رہتا ہے۔
ایک اور المیہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے شہری آج بھی صاف پینے کے پانی کی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ کئی علاقوں میں پانی کی شدید قلت پائی جاتی ہے، جبکہ جہاں پانی دستیاب ہے وہاں اس کے معیار پر کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی۔ بعض علاقوں میں پانی کی عدم دستیابی یا ناقص فراہمی پر عوام کو احتجاج کا سہارا لینا پڑتا ہے، مگر ان احتجاجوں کا انجام عموماً وقتی تسلیوں اور وعدوں تک محدود رہتا ہے۔
یہ صورتِ حال حکومتی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر گلگت بلتستان جیسے قدرتی وسائل سے مالا مال خطے میں بھی عوام کو صاف پانی میسر نہیں، تو ترقیاتی منصوبوں اور دعوؤں کی حقیقت کیا ہے؟ اربوں روپے کے منصوبے کاغذوں میں ضرور مکمل دکھائی دیتے ہیں، مگر عوام کے گھروں تک صاف اور محفوظ پانی پہنچانے میں ناکامی بدستور برقرار ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے، غیر منصوبہ بند آبادی اور ناقص سیوریج نظام نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ گندے نالوں کا دریاؤں میں شامل ہونا، کوڑا کرکٹ کا غیر سائنسی انداز میں ٹھکانا اور واٹر ٹریٹمنٹ کے مؤثر نظام کا فقدان پانی کی آلودگی میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔ اگر یہی روش جاری رہی تو آنے والے برسوں میں صحت کے مسائل کئی گنا بڑھ سکتے ہیں۔
اس سنگین صورتحال کے حل کے لیے محض بیانات اور وعدے کافی نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے ٹھوس، عملی اور پائیدار اقدامات کریں۔ جدید واٹر فلٹریشن پلانٹس کا قیام، باقاعدہ واٹر ٹیسٹنگ لیبارٹریز، محفوظ پائپ لائن سسٹم اور دیہی علاقوں تک صاف پانی کی فراہمی کو ترجیح دی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوام میں یہ شعور بیدار کرنا بھی ناگزیر ہے کہ ہر شفاف نظر آنے والا پانی پینے کے قابل نہیں ہوتا۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ صاف پینے کا پانی کوئی سہولت نہیں بلکہ بنیادی انسانی حق ہے۔ اگر گلگت بلتستان کے عوام کو اس حق سے مسلسل محروم رکھا گیا تو بیماریوں کا پھیلاؤ، صحت کے بڑھتے اخراجات اور انسانی المیے ہماری اجتماعی ناکامی کا واضح ثبوت ہوں گے۔ شیشے کی طرح چمکتے پانی کے فریب سے نکل کر ہمیں حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا، ورنہ تاریخ ہمیں اس سنگین غفلت پر معاف نہیں کرے گی

