Saturday, 10 June 2023

Important Notice

Our facebook page was hacked by some hacker. Now they are posting in-appropriate content over there. We have no control over that page. You are requested to un-follow that page (DailyUrduColumns) and like & follow our new page on (DailyUrduColumnsOfficial).

  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Dr. Ijaz Ahmad

Online Kharidari

بچپن میں ایک چھوٹی سی خریداری آن لائن کی تھی اس کی جزیات ابھی تک ذہن میں تازہ ہیں۔ نئی نسل شاید جنتری کے لفظ سے نابلد ہوگی۔ اسی کی دہائی تک جنتری کو ایک خاص مقام حاصل تھا۔ بسوں وغیرہ میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی چیز جنتری ہوتی تھی۔ اس میں عیسوی کیلنڈر، اسلامی کیلنڈر، اور دیسی مہینوں کے بارے میں معلومات درج ہوتی تھیں۔ لوگ شادی بیاہ یا کوئی بھی ایونٹ رکھنے سے پہلے جنتری سے استفادہ کرتے تھے۔

اس جنتری کے آخری صفحات پر کچھ پروڈکٹس کی مشہوری بھی شائع کی ہوتی تھی۔ بچپن میں شاید ہی کوئی بچہ ہو جس کو پستول کھلونا خریدنے کا اشتیاق نہ ہو۔ میں شاید تیسری کلاس کا طالب علم ہوں گا اردو نئی نئی پڑھنی لکھنی شروع کی تھی میری نظر جنتری کے ایک صفحے پر پڑی جس پر جلی حروف میں لکھا تھا اصلی کی مانند نقلی پستول بیک وقت چھ کے چھ فائر کریں اپنے شوق کے ہاتھوں مجبور ہو کر مطلوبہ ایڈریس پر بغیر سوچے سمجھے خط لکھ دیا اس وقت اس کی قیمت انہوں نے ایک سو پچاس لکھی تھی جو کہ اس وقت کے حساب سے اچھی خاصی تھی۔

میرے والد ایک گورنمنٹ ملازم تھے ڈاکیا ذاتی طور پر والد صاحب کو جانتا تھا جب وہ پارسل آیا تو والد صاحب نے قیمت دیکر رکھ لیا اور کھول کے بھی دیکھا کی سپوت نے کیا آرڈر کیا تھا۔ شام کو گھر آئے تو مجھے آواز دے کر بلایا کہ لو بھئی تمہاری چیز آ گئی ہے۔ میرے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے کہ اب خیر نہیں خوشی اور ڈر کے ملے جلے احساس کے ساتھ جب وہ لکڑی کا بکس کھولا تو عام ریڑھیوں پر بکنے والا پستول جو شاید اس وقت پانچ روپے میں ملتا تھا وہ نکلا اور ساتھ کاغذ پر لگا ہوا مصالہ جو بطور ٹھاہ ٹھاہ کرنے کے لئے ساتھ تھا۔

اس وقت سے توبہ کی کہ آئندہ ایسی غلطی زندگی میں نہیں کرنی۔ لیکن حالات میں تبدیلی آئی اب زیادہ تر خریداری سب آن لائن ہوگئی ہے ڈاک کے ذریعے آرڈر کرنے کی بجائے نت نئی ایپس موجود ایک کلک کی دوری پر سب موجود لیکن دکھ اس بات کا لوگ فراڈ کرنے سے باز نہیں آتے۔ ایک کے فراڈ کرنے سے جو صحیح کام کرنے والے ان پر بھی شک کا اظہار کیا جاتا ہے۔ ہمارے لوگ خاص کر جو چیز دیکھاتے وہ نکلتی نہیں اور اس پر کوئی ایسا نظام موجود نہیں جو فوری اس پر ایکشن لے سکے اور خریدار کی داد رسی ہو سکے۔

ہمیں نئے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسی قانون سازی کرنی چاہئے جس سے ایسے لوگوں کا قلع قمع کیا جا سکے جو لوگوں کی جمع پونجی سمیٹ کر رفو چکر ہو جاتے ہیں۔ موجودہ دور میں شاید ہی کوئی شخص بچا ہوگا جس نے آن لائن خریداری سے سبق حاصل نہ کیا ہو۔ میری نظر میں اس کا آسان حل ایک آن لائن پورٹل موجود ہو اس پورٹل میں اس آن لائن کام کرنے والےکا ڈیٹا موجود ہو مطلب وہ اس گورنمنٹ پورٹل میں پہلے رجسٹر ہونا لازمی قرار دیا جائے۔

اس کا سی این سی نمبر ہی اس کا کوڈ ہو پہلی بار اس کے خلاف شکایت پر اس کو وارننگ دی جائے، دوسری بار غلطی پر اس کو جرمانہ اور خریدار کی داد رسی کی جائے، تیسری شکایت پر اس کو آن لائن کام سے روک دیا جائے یعنی بلاک کر دیا جائے۔ اس طرح صرف وہی لوگ کام کریں گے جو اپنے کام کو اچھے سے کرنا چاہتے ہیں۔ یہ جو شتر بے مہار جس کے پاس موبائل چیز خرید بیچ رہے اس میں خریدار کے ساتھ دھوکہ دہی ہو رہی لیکن اس کی فوری داد رسی کا کوئی میکانزم موجود نہیں۔

روایتی طریقے تفتیش کے خوف سے آنلائن فراڈ سے ڈسا ہوا شخص اپنی عزت سادات بچانے کے چکر میں خاموشی میں ہی عافیت جانتا ہے۔ لیکن اگر کوئی فوری ایکشن پر ریلیف ملنے کا پلیٹ فارم موجود ہو تو اس آن لائن بزنس میں مزید بہتری آ سکتی ہے۔ آن لائن خریدار کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اس پر مزید سخت قانون سازی اور عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔

ایک چھوٹی سی گزارش ان یوٹیوبر بھائیوں کو بھی کہ وہ اپنی ریٹنگ کے چکر میں یہ نہ بولا کریں کہ وہ جس شخص کو متعارف کروانے جا رہے ہیں اس کی کاروباری ساکھ کیسی ہے۔ لوگ آپ کی ویڈیوز دیکھ کر ایسے شاطر دو نمبر لوگوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ جدھر سوائے ملال کے کچھ نہیں ملتا۔ اپنے چینل کی ساکھ کا خاص خیال رکھا کریں۔

Check Also

Multanion Ke Darmian Multan Ki Baaten

By Haider Javed Syed