Thursday, 18 April 2024
  1.  Home/
  2. Blog/
  3. Dr. Ijaz Ahmad/
  4. Nahusat Ke Saye

Nahusat Ke Saye

نحوست کے سائے

ایکسپو سینٹر لاہور میں دو دن کے لئے ڈیری فارمرز کے لئے نمائش کا اہتمام کیا گیا تھا جو کہ ایک اچھی کاوش تھی۔ لیکن مجموعی طور پر رسپانس اور اسٹالز کی تعداد متاثر کن نہ تھی۔ ملک کی مجموعی آبادی کے تناسب سے دودھ اور گوشت کی پیداوار کے حوالے سے دیکھا جائے تو مارکیٹ میں پوٹینشل بہت زیادہ ہے۔ یہ ایک بہت بڑی انڈسٹری بن سکتی ہے۔ اگر ہمارے ادارے دل سے اس انڈسٹری کو پروان چڑھانا چاہے تب۔

دودھ سے منسلک ملٹی نیشنل اداروں کے اسٹالز موجود نہ تھے۔ جو کہ ایک اچنبھے کی بات تھی۔

بچپن میں گاؤں میں دھونی دینے والے آتے تھے۔ جو گھر کی مائیں ذرا دقیانوسی ہوتی یہ لوگ گھاک ہوتے تھے۔ ویسے ہی بول دینا کہ آپ کے جانور کا دودھ کسی نے بند کروا دیا ہے یا آپ کے گھر نحوست کے اثرات ہیں۔ اس کا ٹونہ کروا لیں۔ مائیں ڈر جاتی تھیں اور ان سے ٹونہ کے بدلے گندم وغیرہ دے دیتی تھیں۔ دودھ تو کیا زیادہ ہونا ہوتا تھا البتہ ٹونہ کرنے والے کے گھر گندم زیادہ ہو جاتی تھی۔

سائنسی توجیح سے پرکھا جائے تو دودھ کی پیداوار میں اضافہ جانور کی نسل، اس کی خوراک، اسکی صحت، سب عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔ تب جا کر آپ ایک آئیڈیل رزلٹ لے سکتے ہیں۔

اس نمائش میں وہ سب اسٹالز سائنسی ٹونہ کرنے والے تھے۔ جس سے دودھ گوشت کی پیداوار میں اضافہ ممکن بنایا جا سکتا تھا۔

شروع شروع میں تمام بڑے شہروں میں کیمیکل دودھ کی بازگشت سنتے تھے۔ لیکن اب یہ کینسر چھوٹے قصبوں میں بھی سرایت کر گیا ہے۔ دیہاتوں میں بھی خالص دودھ ناپید ہو چکا ہے۔ آنے والا وقت مزید الارمنگ ہے۔ اگر آبادی کا جن اسی طرح بے قابو رہا تو دودھ کا دو نمبر کام کرنے والوں کی چاندی میں مزید اضافہ ہوتا جائے گا۔ دودھ کی کمی سے ایسا ہی لگتا کہ ہمارے ملک میں نحوست کے سائے منڈلا رہے ہیں یا ہمارے ملک میں دودھ کی پیداوار پر کسی نے جادو کر دیا ہے۔

ان سب چیزوں کا توڑ کرنے کے لئے ہمیں ایک ہمہ جہت پالیسی کی ضرورت ہے۔ ملکی ضروریات کے ساتھ ساتھ ہمیں ڈیری پروڈکٹ دوسرے ممالک تک پہنچانے کے لئے اقدامات کرنا ہوں گے۔ اس انڈسٹری سے ہم اپنے ملکی خزانے میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ اگر ہم چیدہ چیدہ باتوں پر عمل کریں۔

کسان بھائیوں کو بھینس کی بجائے گائے وہ بھی اعلیٰ نسل کی چاہے کراس ہو یا امپورٹڈ وہ پالنی چاہئے۔

حکومت کو مویشی پال اسکیم میں وسعت آسانی پیدا کرنی چاہئے۔

زراعت، ڈیری، حلال گوشت کے حصول کی ایجوکیشن عام کرنی چاہئے۔ فارغ التحصیل نوجوانوں کو بغیر سود کے قرضے دئیے جائیں۔

ان کو تمام بڑے شہروں کے ارد گرد آبادی کی ضرورت کے مطابق بڑے بڑے شیڈ گورنمنٹ کرائے پر بنا کر دے۔ وہیں سے ہر شہر کو دودھ کی سپلائی دی جائے جو دودھ کے کاروبار سے منسلک ان کو پابند کیا جائے کہ وہ حکومت کے نرخوں پر ان کو فروخت کریں۔

ان کے پاس جدید ٹیسٹنگ لیب ہونی چاہئے وہ ہر گوالے کے دودھ کے معیار کو چیک کریں اس کی درجہ بندی کریں۔ ہائی جین کا خیال رکھتے ہوئے پیکیٹس میں دودھ فروخت کیا جائے۔ جیسے دوسرے ممالک میں دودھ کی درجہ بندی کے پیکٹس مل جاتے کہ کس دودھ میں کتنا فیٹ اور پروٹین موجود ہے سب تفصیل لکھی ہوتی ہے۔ ہر بندہ اپنی چوائس سے وہ پیکٹس خرید کرتا ہے۔

ہمیں ان ممالک کی سٹڈی کرنا چاہئے کہ کیسے وہ جانوروں سے اضافی دودھ کی پیداوار لیتے ہیں۔

ان ممالک سے جانوروں کی امپورٹ کرنی چاہئے اس پر زیرو ٹیکس ہونا چاہئے۔

اگر وہ جانور ہمارے موسم سے مطابقت نہیں رکھتے تو ہمارے ویٹرنری سائنس دانوں کو یہ ٹاسک سونپ دینا چاہئے کہ وہ کچھ ایسا کریں کہ ہم اس جیسی یا ان سے بہتر کوئی نسل تیار کر سکیں۔

دودھ اور گوشت کی پیداوار میں استعمال ہونے والی اشیاء کو سستا کیا جائے۔ تمام ٹیکس ختم کئےجائیں۔ جب ہم دودھ اور گوشت کی اضافی پیداوار والے ممالک میں شامل ہو جائیں تب حکومت کو ریونیو کا سوچنا چاہئے۔

دودھ کو رب کے نور سے تشبیح دی جاتی ہے۔ ہمیں اس نور میں ملاوٹ نہیں کرنی چاہئے۔ کہیں یہ جو نحوست کے سائے ہمارے ملک میں منڈلا رہے ہیں اسی ملاوٹ کا شاخسانہ تو نہیں۔ ہم اپنے بچوں کے قاتل خود ہیں ان کو دودھ کی جگہ زہر بھر بھر کے پلا رہے ہیں۔ ذرا سوچئے!

Check Also

Ye Ik Shajar Ke Jis Pe Na Kanta Na Phool Hai

By Saadia Bashir