Jise Allah Rakhe, Usay Kon Chakhe
جسے اللہ رکھے، اُسے کون چکھے

زندگی بعض اوقات ایسے موڑ دکھاتی ہے جہاں انسان کے اپنے فیصلے، اس کی تدبیریں اور اس کی سوچ سب بے معنی محسوس ہونے لگتے ہیں۔ وہ سمجھتا کچھ ہے، کرتا کچھ ہے، مگر ہوتا وہی ہے جو اس کے اختیار میں نہیں ہوتا۔ ہیر و رانجھا کی سرزمین پر محبت کی ایک نئی داستان نے جنم لیا۔ نگاہوں کی چُھپن چُھپائی سے ابتدا ہوئی، آہستہ آہستہ دلوں تک جا پہنچی۔ جب بات بڑھی تو خاندانوں کو بھی راضی کر لیا گیا۔ آخر جب دل مل جائیں تو قاضی کا کیا کام! دونوں کا تعلق معزز اور نامی گرامی گھرانوں سے تھا، لہٰذا رسم و رواج کی پاسداری کرتے ہوئے اس بندھن کو خوب دھوم دھام سے رچایا گیا۔ ہفتوں تک ڈھولکی کی تھاپ گونجتی رہی، خوشیوں کے گیت فضا میں رس گھولتے رہے اور پھر وہ گھڑی آئی جب نکاح کے مقدس رشتے میں بندھ کر دونوں نے ایک نئی زندگی کا آغاز کیا۔
مگر خوشیوں کو جیسے کسی کی نظر لگ گئی۔ ابھی شادی کو چند ماہ ہی گزرے تھے کہ اختلافات نے سر اٹھانا شروع کر دیا۔ جہاں کبھی ایک دوسرے کے بغیر سانس لینا محال تھا، وہاں اب خاموشی نے ڈیرے ڈال لیے۔ قربت کا نور ایک انجانے اندھیرے میں ڈھلنے لگا اور یہ اندھیرا بڑھتے بڑھتے ایک ایسی خلیج بن گیا جسے پاٹنا ممکن نہ رہا۔ بات طلاق تک جا پہنچی۔ عورت اپنے میکے لوٹ آئی۔ مگر وہ تنہا نہ تھی۔ اس کے وجود میں ایک ننھی سی جان پل رہی تھی۔ یہ خبر خوشی کے بجائے خوف اور شرمندگی کا باعث بن گئی۔ ابتدا میں اس نے اس حقیقت کو چھپائے رکھا، مگر وقت کے ساتھ ساتھ جب درد اور اضطراب بڑھا تو آخرکار ماں کو سب کچھ بتانا پڑا۔ سماج کے ڈر اور حالات کے جبر نے ماں بیٹی کو ایک خطرناک راستے پر دھکیل دیا۔
وہ ایک مقامی دائی کے پاس گئیں، جس نے لالچ اور فریب کے جال میں انہیں الجھا کر اسقاطِ حمل کی دوائیں دے دیں۔ مہینوں تک وہ دوائیں استعمال ہوتی رہیں، مگر قدرت کے فیصلے کچھ اور تھے۔ نہ حمل ضائع ہوا بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ پیچیدگیاں بڑھتی گئیں۔ مستند ڈاکٹروں نے اس غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل سے انکار کیا اور یوں وہ در بدر کی ٹھوکریں کھاتی رہیں۔ جب نو ماہ مکمل ہونے کو آئے تو بالآخر ایک مقامی ڈاکٹر سے رجوع کیا گیا۔ ڈاکٹر نے پوری کہانی سنی اور پھر ایک فیصلہ کیا، جو بظاہر مسئلے کا حل تھا۔
نارمل ڈلیوری کروائی گئی، مگر جیسے ہی بچے نے آنکھ کھولی، اُسے خاموشی سے پچھلے دروازے سے نکال کر اپنی سرپرستی میں لے لیا۔ ادھر ماں اور اس کے اہلِ خانہ کو یہی باور کروایا گیا کہ حمل ضائع ہو چکا ہے۔ خوف، مجبوری اور لاعلمی کے عالم میں وہ اس بات کو مان کر خاموشی سے لوٹ گئے اور یوں ایک سچ ہمیشہ کے لیے دفن ہوگیا۔ مسلسل اسقاط کی ادویات کے استعمال کے باعث وہ ننھی جان شدید متاثر ہو چکی تھی۔ پیدائش کے فوراً بعد اسے قریبی بچوں کے ہسپتال میں داخل کروایا گیا، جہاں وہ ایک ہفتے تک زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہا۔ مگر جسے خدا رکھے، اُسے کون چکھے، وہ بچہ بچ گیا۔
ڈاکٹر صاحب نے اُسے اپنے گھر لے جا کر اپنی اولاد ظاہر کیا۔ یہ راز محدود رہا، وقت گزرتا گیا اور یہ راز سینوں میں دفن رہا۔ قدرت کے رنگ بھی نرالے ہوتے ہیں۔
وہی ننھی جان، جسے دنیا میں آنے سے پہلے مٹانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی، اپنے ساتھ برکتوں کا خزانہ لے کر آئی۔ جیسے ہی ہسپتال اس کے نام سے منسوب ہوا، اس کی شہرت چار دانگ عالم میں پھیلنے لگی۔ مریضوں کا تانتا بندھ گیا اور وہ جگہ شفا کا مرکز بن گئی۔ ڈاکٹر صاحب، جو کبھی محرومی کا شکار تھے، دیکھتے ہی دیکھتے دولت اور عزت سے مالا مال ہو گئے۔ بعد ازاں اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی اولاد سے بھی نوازا، مگر اس پہلی ننھی جان کی جگہ کوئی نہ لے سکا۔ وہ ان کے لیے محض بیٹا نہیں، بلکہ خدا کی طرف سے عطا کردہ ایک خاص تحفہ تھا۔ وقت گزرتا گیا اور وہ بچہ علم و ہنر میں سب پر سبقت لے گیا۔ فصاحت و بلاغت میں بے مثال، ہر جماعت میں اول، ہر میدان میں نمایاں، جیسے قدرت نے اسے ہر خوبی سے نواز دیا ہو۔ آج وہی بچہ، جو کبھی دنیا کے لیے بوجھ سمجھا جاتا تھا، خود ڈاکٹر بننے کے سفر پر گامزن ہے۔
انسان لاکھ تدبیریں کر لے، مگر فیصلہ آخرکار ربِ کائنات کا ہی ہوتا ہے۔ جسے وہ بچانا چاہے، دنیا کی کوئی طاقت اسے نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس ننھی جان کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور اسے ایک کامیاب ڈاکٹر بنا کر انسانیت کی خدمت کا ذریعہ بنائے۔

