Friday, 02 January 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Babar Ali
  4. Ye Pakistan Hai Ya Bimaristan

Ye Pakistan Hai Ya Bimaristan

یہ پاکستان ہے یا بیمارستان

اسماعیل میرٹھی کا ایک شعر ہے:

جتنے سخن ہیں ان میں یہی ہے سخن درست
اللہ آبرو سے رکھے اور تن درست

عزت سے تو ہم ہاتھ دو بیٹھے تھے۔ اب صحت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ سبز پاسپورٹ دنیا بھر میں بے وَقعت اور بے حیثیت ہو چکا ہے۔ بھارتی اور بنگالی پاسپورٹس ہم سے زیادہ قدر و قیمت رکھتے ہیں۔ رہی ملک میں ایک دوسرے کی عزت تو اس کا بھی جنازہ دھوم سے نکل چکا ہے۔ عزت لینے دینے کا معیار غیر حقیقی اور منافقانہ ہے۔ عزت لینے والا بھی جانتا ہے کہ مجھے عزت دینے والا دل سے دے رہا ہے یا گلے سے اور عزت دینے والے کو بھی پتا ہے کہ میں جو ناٹک کر رہا ہوں، اسے پوری طرح اس کی خبر ہے۔ شیخ صاحب، شیخِ محترم، میاں صاحب، حاجی صاحب، مرزا صاحب، بٹ صاحب، رانا صاحب وغیرہ کے سے الفاظ فلمی ڈائیلاگز زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ سچی اور پکی عزت کو تو ہم ترس ہی رہے تھے، صحت بھی ہم سے روٹھ چکی ہے۔

کوئی پچیس تیس سال پہلے پاکستانی کسی حد تک صحت مند تھے۔ آج جسے دیکھو بے رونق چہرہ لیے ہوئے ہے۔ منہ پہ ہوائیاں اُڑی ہوئی ہیں۔ جسم پہ کپکپی طاری ہے، بے ڈھنگی چال ہے۔ آنکھوں میں کوئی چمک نہیں۔ ہاتھوں میں رعشہ طاری ہے۔ بالوں میں وقت سے پہلے، ڈھیر پہلے چاندی اتر آئی ہے۔ جوانی کی عمر ہی میں بالوں کو سیاہ خضاب لگانے کا رواج چل پڑا ہے۔ پاکستان میں جن چیزوں کی سب سے زیادہ مانگ ہے، بالوں میں لگایا جانے والا کالا رنگ ان میں سے ایک ہے۔ جس جوانی کو 75 - 70 سال تک کا سفر کرنا تھا، وہ 40 - 35 میں ہی ڈھیر ہو جاتی ہے۔ جن دانتوں کو 75-70 سالوں تک قائم رہنا تھا، وہ وقت سے بہت پہلے گرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ جوانی ہی میں چہرے پہ پڑی جُھریاں زندگی کو ناخوشگوار بنا رہی ہیں۔ یہ خبر دے رہی ہوتی ہیں کہ حال ہی میں بڑے ہونے والے نوجوان اب بڑے میاں بننے کو ہیں، قبر میں پاؤں لٹکانے کو بیتاب ہیں اور ترس رہے ہیں کہ کب کوچ کا نکارہ بجے اور ہم گور میں پڑیں۔ جس نے اپنے حق میں کوئی وصیت کروانی ہے، وہ تیاری کر لے۔

عام مشاہدے کی بات ہے کہ اٹھتے بیٹھتے وقت جوانوں کی ہڈیاں کڑکڑ کرتی ہیں۔ یہ ہیں وہ ناخوشگوار اور تکلیف دہ احوال، جن کا سامنا اس وقت پاکستانی زندگیاں کر رہی ہیں۔ ہسپتالوں میں جائیں، تو رش دیکھ کر جی گھبرا اٹھے۔ گا لگے گا پورا شہر یہاں آن بسا ہے۔

میڈیکل سٹورز ماشاءاللہ! آباد ہیں۔ ملازم، مزدور، فیکٹری مالک، الغرض ہو کوئی شام کو سٹور میں گھسا اماں ابا کی دوا لے رہا ہے۔ گھر داخل ہوتے ہیں تو دوائیوں کے شاپر ہاتھ میں پکڑے ہوتے ہیں۔ بلکہ اب تو دوا جوانوں کی خوراک میں باقاعدہ شامل ہے۔ بہت کم خوش نصیب ہیں جو بغیر دوا کے جی رہے ہیں۔

اڈے پہ کھڑے مزدوروں کو دیکھیں، تو اکثر کمزور اور دبلے پتلے نظر آئیں گے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مفلسی اور ہوٹلوں کے مضر اور ناقص کھانے کھا کھا کر ہمارا مزدور پہلا سا صحت مند نہیں رہا۔

سوال یہ ہے کہ پاکستانی وقت سے پہلے صحت کے مسائل کا شکار کیوں ہیں۔ کن وجوہ نے انھیں بیماریوں کی طرف دھکیلا! دیگر ممالک کے لوگ بھی تو ہماری ہی طرح کے ہیں۔ وہ کیوں صحت مند ہیں!

میرے خیال ہماری بیماریوں کی وجہ پہلے نمبر پہ اچھی خوراک کا نہ ہونا یا حفظانِ صحت کے اصولوں کے مطابق غذا کا فقدان ہے۔ دوسرے نمبر پہ جسمانی ورزش کا نہ ہونا۔ تیسرے نمبر پہ ذہنی بوجھ، جسے عرفِ عام میں ٹینشن کہتے ہیں اور چوتھے نمبر پہ غربت ہے۔ پانچویں نمبر پہ جنسی تسکین کے غیر فطری ذرائع کا استعمال اور چھٹی وجہ سوشل میڈیا کا بلا ضرورت استعمال اور ہر موقع پہ سیاسی بحث کہ میرا سیاسی آقا ہیرو اور تیرا زیرو۔ ساتویں وجہ پارلمینٹ پہ دیگر اداروں کی بالادستی اور ہمہ وقت اہلِ سیاست کی تذلیل کا سامان۔

ان سات اسباب نے پاکستانیوں کی زندگیاں کیڑے مکوڑوں کی سی بنا دی ہے۔ پاکستانی کیڑے مکوڑوں کی طرح پیدا ہوتے اور انہی کی طرح بے نام و نشاں ہو کر مر کھپ جاتے ہیں۔

ان وجوہ کو اگر ایک وجہ میں بند کریں تو وہ ہے غیر سائنٹفک معاشرہ۔ ملاؤں نے صدیوں پہلے مسلمانوں کے ذہنوں میں سائنسی صداقتوں کے متعلق اس شدت کی نفرت پیدا کی ہے کہ سب کا قبلہ ماضی بن گیا ہے۔ ہر ایجاد پہ حرمت کا فتویٰ داغا۔ جب اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں رہا، تب بامرِ مجبوری اسے حلال جانا۔ پرنٹنگ پریس، فوٹو، اسپیکر، ٹی وی، وی سی آر، سینما، کیبل، انٹرنیٹ وغیرہ سب ان کے فتووں کی زد میں رہی ہیں۔

آبا و اجداد ورثے میں جو چھوڑ گئے، ہم اسی کو سینے سے لگائے ہوئے ہیں۔ یہ جتنے جسمانی و ذہنی امراض اس وقت ہمیں لاحق ہیں، یہ سب غیر سائنسی مزاج کی پیداوار ہیں اور اس پیداوار کا ایک ہی خالق ہے اور وہ ہے مولوی۔

Check Also

Khushiyon Ko Jeene Do

By Mehran Khan