Molvi Science Dushman Hai
مولوی سائنس دشمن ہے

یہ بات اب کسی بحث کی محتاج نہیں رہی کہ ہمارا مذہبی طبقہ سائنس اور جدید علوم کے حوالے سے اپنے دلوں میں شدید بغض رکھتا ہے۔ اس طبقے کی ذہنیت سائنس کو انسانی ترقی کا ذریعہ ماننے پر آمادہ ہے اور نہ ہی اسے قوموں کے عروج و زوال سے جوڑنے کے لیے تیار ہے۔
جب کبھی اس طبقے سے سوال کیا جائے کہ آج مسلمان دنیا میں کیوں مغلوب ہیں، کیوں سیاسی، معاشی اور عسکری میدانوں میں پیچھے رہ گئے ہیں، کیوں ہمیں ہر جگہ مار پڑ رہی ہے، تو جواب یہی ملتا ہے: ہم قرآن و حدیث سے دور ہو گئے، ہم نے دین چھوڑ دیا، ہمارا ایمان کمزور ہوگیا، ہمارے دلوں میں محبتِ رسول کی شمع بجھ گئی وغیرہ وغیرہ۔ گویا مسلمانوں کی پسماندگی کی وجہ جدید علم، ٹیکنالوجی اور تحقیق سے دوری نہیں، اسلام سے دوری ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی طبقہ سائنس کی ہر نئی ایجاد کو پہلے تو تسلیم کرنے میں ہچکچاتا ہے، متنفر ہوتا ہے۔ پھر جب اس ایجاد کی افادیت عام ہونے لگتی ہے اور عام لوگ اس سے فائدہ اٹھانے لگتے ہیں، تو پھر خود بھی اس سے مستفید ہونا شروع ہو جاتا ہے اور اس کے لیے "چونکہ، چنانچہ، البتہ، مگر" کا سہارا لے کر اپنے حرمت کے فتوے سے دستبردار ہو جاتا ہے۔ تصویر سمیت کئی ایجادات کے متعلق اس کا یہی منافقانہ رویہ رہا ہے۔ اگر کبھی سائنس دانوں کی خدمات کا ذکر ہو، تو کہتا ہے کہ اس میں سائنس دانوں کا کوئی کمال نہیں، یہ سب میرے اللہ کا کمال ہے۔ یوں یہ مکار، جدید ایجادات میں انسانی عقل اور سخت محنت کو بری طرح نظر انداز کرکے اہلِ سائنس کو کسی طرح کے کریڈٹ سے محروم رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
ایک مولانا سے گفتگو کے دوران میں نے انسانی زندگی میں سائنس کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ سائنس دان انسانیت کے محسن ہیں، جنھوں نے ہوائی جہاز ایجاد کرکے مہینوں کے سفر کو چند گھنٹوں میں بدل دیا۔ یہ سنتے ہی وہ مولانا سنتے ہی آگ بگولا ہو گئے۔ فوراً ایجاد کا یہ کریڈٹ سائنس دانوں سے چھین کر خدا کے کھاتے میں ڈالتے ہوئے کہنے لگے کہ یہ سائنس دانوں کا کمال نہیں، یہ میرے اللہ کا کمال ہے۔ وہ فضا میں بلندیوں میں اڑتے جہاز کو پکڑ کے رکھتا ہے۔ پھر اپنے اس قول کی تائید میں قرآن کی یہ آیت لے آئے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ ان کفار نے اپنے اوپر ہوا میں اُڑتے پرندے پر پھیلاتے ہوئے اور سمیٹتے ہوئے نہیں دیکھے! انھیں ہوا میں پر پھیلانے اور سمیٹنے کی حالت میں گرنے سے رحمٰن عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی نہیں روکتا۔ دراصل یہ آیت پرندوں کے حوالے سے ہے۔ مولانا کو چونکہ سائنس کی عظمت ہضم نہیں ہوئی، اس لیے جہاز کو بھی پرندوں کے دائرے میں کھینچ لائے۔ ان کا جوش دیکھتے ہی مجھے تو چپ لگ گئی۔ دل میں سوچا کہ اس پاگل سے بحث کرنا فضول ہے۔ اسے اس کے حال پہ چھوڑتے ہیں۔
دنیا بھر کے جدید علوم اور جدید ایجادات انسانی عقل کا نتیجہ ہے اور ان مولویوں کے نزدیک گویا عقل خدا کی عنایت نہیں، یہ شیطان کی عطا کردہ ہے۔ اسی لیے یہ ہر جگہ، ہر وقت عقل اور اس سے جڑے انسانی کارناموں کی تذلیل کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ بھول جاتے ہیں کہ قرآن مجید میں جگہ جگہ اللہ تعالی عقل استعمال کرنے کا کہتے ہیں۔ "أفلا تعقلون" کے الفاظ کئی بار آئے ہیں۔ ابوجہل کا لقب عقل دشمنی کی وجہ سے پڑا تھا۔ مگر وہ مولوی ہی کیا جو عقل دوست ہو، سائنس دوست ہو۔
ان کا دوہرا معیار دیکھیں! سائنس سے بیزاری کے دعوے کے باوجود، یہی طبقہ سائنس کی ہر ایجاد سے بھرپور فائدہ اٹھاتا ہے۔ شدید گرمی میں اے سی کی ٹھنڈک، اسمارٹ فون کی سہولت، جدید گاڑیوں کا آرام، ہوائی جہازوں کا سفر، حتیٰ کہ اگر ان کا کوئی پیارا یورپ کے کسی ملک کی نیشنلٹی لے لے، تو اسے مبارکباد کے پیغامات بھیجتا ہے، اس کے لیے صدقے واری جاتا ہے، بلکہ یورپ جانے کے لیے لوگوں کی منتیں، ترلے کرتا ہے، وجہ؟ جدید علوم کے باعث وہاں کی سہولتیں اور بےپناہ دولت۔ ان سب کو نعمتیں قرار دیتا ہے۔ مگر ان نعمتوں کے پیچھے کارفرما انسانی ذہن کو کسی شکریے کا مستحق نہیں سمجھتا، کسی سائنس دان کی تعریف نہیں کرتا۔
غیر مسلم قوموں نے دنیا پر غلبہ علم سے حاصل کیا ہے۔ مسلمانوں کو تمام میدانوں میں وہ شکست اپنی جدید یونیورسٹیوں اور ان میں دیے جانے والے جدید علوم کی وجہ سے دے رہے ہیں۔ جب تک ہم مولویوں کے پیچھے لگ کر اس حقیقت کو تسلیم نہیں کریں گے اور سائنس کو "دینی خطرہ" سمجھنے کی بجائے انسانی ترقی کا ناگزیر ذریعہ نہیں مانیں گے، تب تک زوال کا نوحہ پڑھتے رہیں گے اور اسبابِ زوال کی طرف دیکھنے کی ہمت نہیں کر پائیں گے۔
آخر میں میں مولویوں سے پوچھتا ہوں کہ اگر سائنس دانوں کا کوئی کمال نہیں، تو پھر کمال کن کا ہے! اگر یہ خدا کا کمال ہے، تو وہ اپنا کمال ان کفار کے ذریعے سے کیوں ظاہر کرتا ہے! اسے اپنے مومن بندے، خاص کر پاکستانی مومن نظر کیوں نہیں آتے!

