Kya Sirf Siasatdan He Corrupt Hain
کیا صرف سیاست دان کرپٹ ہیں

کرپشن پاکستانیوں کا پسندیدہ ترین موضوع ہے اور اس کے لیے قوم نے پاکستان کے تمام طبقات کو چھوڑ کر صرف ایک طبقے کا انتخاب کر رکھا ہے اور وہ طبقہ ہے سیاست دان۔ ویسے داد دینی چاہیے اس لاجواب انتخاب کی۔
اخبارات کی سرخیاں دیکھ لیجیے یا ان میں شائع ہونے والے کالمز پڑھ لیجیے۔ موضوع ہوگا سیاست دانوں کی کرپشن۔ ٹی وی کھولیں تو اینکر حضرات کی زبانوں پہ بھی یہی راگ الاپا جا رہا ہوتا ہے۔ سامنے بیٹھے تجزیہ کاروں کی تانیں بھی سیاست دانوں کی بدعنوانی پہ ہی ٹوٹتی ہیں۔ سوشل میڈیا کی دنیا میں قدم رکھیں، تو ہر وی لاگر اور یوٹیوبر اپنے ترکش کے تیروں کا رخ سیاست دانوں کی طرف کیے قوم کو آگاہ کر رہا ہوتا ہے کہ چونکہ سیاست دان کرپٹ ہیں، اس لیے ملک تباہ ہوگیا، غریب برباد ہو گئے، قوم کا بیڑا غرق ہوگیا۔
نیچے کمنٹس میں عوام سیاست دانوں کو گالیاں دے رہے ہوتے ہیں۔ گھروں میں بھی یہی موضوع زیرِ بحث ہوتا ہے، بازاروں میں جائیں تو ہر دکان پر سیاست دانوں کی کرپشن کا نوحہ سنائی دیتا ہے۔
یہاں ایک سادہ سا سوال ہے: کیا ملک کے دیگر طبقات نیک، صالح، دیانت دار اور پاکیزہ ہیں!
کیا عدلیہ میں کرپشن نہیں؟ کیا وکلا کرپٹ نہیں؟ کیا پولیس، سرکاری ملازمین، فیکٹری مالکان، مزدور، دکاندار، ٹرانسپورٹرز، ٹھیکیدار، آڑھتی، الیکٹریشن، پلمبر، سب دودھ کے دھلے ہوئے ہیں! ایسے درجنوں نہیں، سینکڑوں شعبے ہیں، جہاں کھلے عام کرپشن ہوتی ہے۔
اور سب سے بڑھ کر مذہب کی آڑ میں ہونے والی کرپشن۔ کیا جعلی پیر، دم درود کے کاروبار کرنے والے، تعویذ گنڈے بیچنے والے، لوگوں کے نام نہاد جن نکالنے والے، کرپشن نہیں کرتے! کیا ان کی سالانہ آمدن اربوں میں نہیں! کبھی کسی اخبار میں ان کی کرپشن موضوع بنی! کبھی کسی اینکر یا وی لاگر نے ان پر پروگرام کیا؟
اسی طرح موجودہ دور میں صحافت کا حال دیکھ لیجیے۔ صحافی، صحافت چھوڑ کر مخصوص سیاسی جماعتوں کے حق میں وی لاگز بنا رہے ہیں، ان کے کلپس میں مخالفین پر نشانے لگائے جا رہے ہیں۔ کیا یہ کرپشن نہیں! جھوٹے تھمب نیل، من گھڑت دعوے، ویوز کے بدلے ڈالر، کیا یہ سب کرپشن کے زمرے میں نہیں آتا!
خدا کے بندو! کون سا شعبہ ایسا ہے جہاں کرپشن نہیں ہو رہی! جب تقریباً ہر طبقہ بدعنوانی میں کسی نہ کسی درجے میں ملوث ہے، تو پھر صرف سیاست دان ہی قوم کی ملامت کا، غریبوں کی لعن طعن کا ہدف کیوں!
ادب سے گزارش ہے کہ اپنے ترکش کے چند تیر دیگر طبقات کے لیے بھی بچا کر رکھیں۔ اپنی تلواریں دیگر طبقات پہ بھی سونتیں، اپنی بندوقیں دیگر طبقات پہ بھی تانیں۔ اگر عوام کے لیے اتنی ہی ہمدردی ہے تو باقی شعبوں کی کرپشن بھی سامنے لائیں۔ محض سیاست دانوں کو ہدف بنا کر گویا آپ نے سب کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔
یاد رکھیے! جو شخص اپنی ڈیوٹی ایمانداری سے انجام نہیں دیتا، وقت کی پابندی نہیں کرتا اور ذمہ داری درست طریقے سے نہیں نبھاتا، وہ بھی کرپٹ ہے۔ جو شخص سرکاری اشیا کا درست استعمال نہیں کرتا، وہ بھی بدعنوان ہے۔
آخر میں صرف اتنی گزارش ہے کہ سیاست دانوں پہ ہاتھ ذرا ہولا رکھیں۔ اگر آپ واقعی انصاف اور قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں، تو کرپشن کو صرف ایک طبقے تک محدود نہ کریں، کیونکہ مسئلہ ایک طبقے کا نہیں، معاشرے کے تمام طبقات کا ہے۔ نیز سیاست دان قوم کے رول ماڈل نہیں ہوتے۔ جیسا سماج ہے، ویسے ہی سیاست دان ہیں۔ اگر اس باب میں رول ماڈل کسی کو سمجھنا ہے، تو علما کو سمجھیں۔ کیونکہ انبیا کے وارث یہ لوگ ہیں اور کرپشن چونکہ اخلاقی مسئلہ ہے، اس لیے سارے نبی اخلاقیات کی تعلیم دینے کے لیے ہی دنیا میں تشریف لاتے رہے۔ پس گریبان پکڑنا ہے، تو سب سے اول مولویوں کا پکڑیں، سیاست دانوں کا نہیں۔

