Khush Rehna Hai To Apna Meda Theek Rakhen
خوش رہنا ہے تو اپنا معدہ ٹھیک رکھیں

خوش رہنا انسان کا بنیادی حق ہے، جس سے وہ کسی صورت دست بردار نہیں ہو سکتا۔ خوشی کے بغیر زندگی محض سانسوں کا سلسلہ رہ جاتی ہے، ایک ایسا بوجھ جسے انسان لاش کی مانند اٹھائے پھرتا ہے۔ جو شخص خوش نہیں، وہ جیتے جی مر چکا ہوتا ہے۔
خوشی کا تعلق بہت سی نعمتوں سے ہے، مگر ان میں ایک نعمت ایسی ہے جسے ہم عموماً نظرانداز کر دیتے ہیں اور وہ ہے معدے کی صحت۔ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ جس شخص کا معدہ درست نہیں، وہ کبھی مکمل خوش نہیں رہ سکتا۔ جب غذا ہی ہضم نہ ہو تو وہ جزوِ بدن کیسے بنے گی! نتیجۃََ جسم آہستہ آہستہ اپنی توانائی کھونے لگتا ہے۔ سستی، بوجھل پن اور بےدلی پورے وجود پر چھا جاتی ہے۔
ماہرینِ طب معدے کو "دوسرا دماغ" قرار دیتے ہیں، کیونکہ یہی وہ عضو ہے، جہاں ایسے ہارمونز بنتے ہیں جو ہمارے موڈ، جذبات اور ذہنی کیفیت پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ یوں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ صحت مند معدہ ہی مثبت سوچ اور دلی سکون کی بنیاد ہے۔
معدہ انسانی جسم کا مرکزی نظام ہے، جو خوراک کو ہضم کرکے توانائی میں بدلتا ہے۔ جب یہ نظام درست طور پر کام کر رہا ہو، تو جسم میں تازگی، دماغ میں سکون اور دل میں خوشی محسوس ہوتی ہے۔ بندہ خود کو متحرک اور ایکٹو سمجھتا ہے۔ اس کے برعکس بدہضمی، گیس، تیزابیت اور قبض جیسی شکایات انسان کو نہ صرف جسمانی اذیت میں مبتلا کرتی ہیں بلکہ چڑچڑاپن، بےچینی اور ذہنی دباؤ کو بھی جنم دیتی ہیں۔
بدقسمتی سے آج کے تیز رفتار اور مصروف دور میں ہم کھانے پینے کے آداب بھول چکے ہیں۔ کبھی بھوک کے بغیر کھا لیتے ہیں، کبھی جلدی میں اور اکثر غیر معیاری اور غیر صحت بخش غذا کا سہارا لیتے ہیں۔ باہر کے ریستورانوں کے ناقص کھانے، ریڑھیوں کی چٹ پٹی اشیا، فاسٹ فوڈ، بیکری آئٹمز، حد سے زیادہ ٹھنڈی چیزیں، ناقص شربت اور کم پانی پینا: یہ سب معدے کی دشمن عادتیں ہیں، جو رفتہ رفتہ خوشی کے دروازے بند کر دیتی ہیں۔
سفر درپیش ہو تو گھر سے کھانا بنوا کر ٹفن بکس میں ڈالیں اور کہیں رستے میں کھا لیں۔ چائے کے شوقین ہیں، تو گھر سے چائے بنوا کر کسی چھوٹے سے تھرماس میں ڈالیں۔ جہاں من کیا چائے پی لی۔ گھر کا اچار چٹنی باہر کے گوشت سے کہیں بہتر ہے۔
جس طرح ناقص غذا معدے کو خراب کرتی ہے، اسی طرح ذہنی دباؤ، اینگزائٹی، مستقبل کے خوفناک وسوسے اور ماضی کی تلخ یادیں بھی معدے پر منفی اثر ڈالتی ہیں۔ پریشان ذہن صحت مند معدہ پیدا نہیں کر سکتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی زندگی میں کوئی نہ کوئی ایسی مصروفیت ضرور رکھے، جس سے دل بہل سکے۔ کوئی اچھی کتاب، پسندیدہ فلم، موسیقی یا سادہ سی سیر ہی کیوں نہ ہو۔
الغرض، اگر واقعی خوش رہنا ہے، چہرے پہ مسکراہٹ سجائے رکھنا ہے، تو معدے کی صحت کو سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ گھر کے سادہ اور متوازن کھانے کو ترجیح دیجیے، کھانے کے اوقات کا خیال رکھیے اور ذہنی دباؤ سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کیجیے۔ یاد رکھیے، حقیقی مسرتوں کا آغاز معدے سے ہوتا ہے۔
معدہ درست ہو تو زندگی ہلکی پھلکی، دل خوش اور سوچیں مثبت ہو جاتی ہیں۔
پس خدارا! ہر وہ اقدام کریں، جو آپ کے معدہ ٹھیک رکھے اور ہر اس اقدام سے بچیں، جو آپ کا معدہ خراب کرے۔

