Judge, General Aur Siasatdan, Kon Kitna Zimmedar
جج، جرنیل اور سیاست دان، کون کتنا ذمےدار

سوشل میڈیا کی بہت سی "برکتوں" میں سے ایک "برکت" یہ بھی ہے کہ قوم نے احتساب کے لیے صرف سیاست دانوں کا انتخاب کر رکھا۔ جج اور جرنیل جو جی میں آئے، کریں، پوچھ تاچھ کے لیے ہم صرف سیاست دانوں کو کٹہرے میں کھڑا کریں گے۔
پاکستان میں تین بڑے ادارے ہیں فوج کا ادارہ، عدلیہ کا ادارہ اور پارلیمنٹ۔ یعنی ایک طرف جرنیل، ایک طرف جج حضرات اور ایک طرف کھڑے ہیں سیاستدان۔ اگر تینوں کا تقابل کریں کہ اس ملک کو سب سے زیادہ برباد کس نے کیا ہے، تو اس کا جواب ہرکس و ناکس کو معلوم ہے۔ پہلے دو اداروں نے۔ سب سے کم حصہ ڈالا سیاستدانوں نے۔ تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ 1947ء سے آج تک طاقت ہمیشہ فوج کے ادارے کے پاس رہی اور عدلیہ اس کے گھر کی باندی رہی۔ ہر عدالتی فیصلے کے وقت جج ہمیشہ جرنیلوں کے اشارۂ ابرو کی طرف دیکھتے۔ اذن پاتے ہی فوراََ قلم حرکت میں لاتے اور پارلیمنٹ اور سیاست دانوں کو اڑا کے رکھ دیتے۔ کبھی نظریۂ ضرورت کا سہارا لے کر، تو کبھی آئین کی خود ساختہ تشریح کا آسرا لے کر آئین روندتے رہے۔ آئین میں درج ہے کہ ہر وزیرِاعظم پانچ سال پورے کرے گا۔ تو 1947ء سے آج تک مجھے کوئی ایک وزیراعظم بتا دیں، جس نے اپنی ٹرم پوری کی ہو، پانچ سال کی مدت اسے نصیب ہوئی ہو! بھٹو نے ازخود وقت سے پہلے الیکشن کا بِگل بجا دیا تھا۔ یوں اپنی مدت وہ بھی پوری نہیں کر پایا۔ 1979ء میں اسے جرنیلوں اور ججوں نے پھانسی چڑھا دیا۔ پھر 11 سال تک اس قوم کی گردنوں پہ سوار رہا ضیاءالحق۔ پھر اللہ ہی اسے لے گیا۔
1990ء کے عشرے میں ہر ڈھائی سال کے بعد ہر حکومت کو چلتا کر دیا گیا۔ بےنظیر بھٹو کو دو بار ڈھائی ڈھائی سال کے بعد چھٹی کروا دی گئی اور نواز شریف کو بھی دونوں بار پانچ پانچ سالہ مدت پوری نہیں کرنے دی گئی۔ ہر بار ان دونوں کے خلاف 58 ٹو بی کا ہتھیار استعمال ہوتا رہا، جو صدر کے پاس تھا اور صدر تھا اسٹیبلشمنٹ کا بندہ۔ اس کے بعد جب 2008ء میں پیپلز پارٹی کی حکومت آئی، تو پھر یوسف رضا گیلانی کو ٹھیک چار سال کے بعد عدلیہ نے، افتخار چوہدری کی سیاسی عدلیہ نے مارا ہتھوڑا اور گھر بھیج دیا۔ جاؤ بیٹا! گھر جاؤ اور آرام کرو۔ پھر جب باری آئی نواز شریف کی، تو پھر عدلیہ اس کے گلے پڑ گئی۔ گیلانی کی طرح اسے بھی چار سال کے بعد رخصت کر دیا گیا۔ پھر مجبورا پانچواں سال شاہد خاقان عباسی سے پورا کروانا پڑا۔
اس کے بعد جب عمران خان وزیراعظم بنے تو پھر ساڑھے تین سال کے بعد انہیں گھر بھیج دیا گیا۔ اب کی بار یقیناََ فوج نے مارشل لا لگایا اور نہ کسی جج کا قلم ہی چلا۔ اس وقت پارلیمنٹ میں تحریکِ عدمِ اعتماد کے ذریعے خان صاحب کی چھٹی کرائی گئی۔ مگر جس طرح فوج اسے ساڑھے تین سال سے سپورٹ کر رہی تھی، تو اس طرح ڈیڑھ سال اور نکال لیتی۔ کیا فرق پڑ جاتا! کارگزاری ماشاءاللہ اس "درجے" کو پہنچ گئی تھی موصوف کی کہ 18 ضمنی الیکشنوں میں 17 الیکشن ہار گئے تھے۔ پانچ سال پورے کرتا تو اس کا بھی وقت پورا ہو جانا تھا۔ مگر اربابِ اقتدار کی ناسمجھداری کے باعث اب وہ پوری ریاست کے گلے پڑا ہوا ہے۔ اپنے سوشل میڈیا کے مجاہدین کے ذریعے ناک میں دم کر رکھا ہے۔ اگر اس کی مدت پوری ہو جاتی تو اس کی یہ پوجا پاٹ نہ ہوتی۔
قیامِ پاکستان سے آج تک کی یہ مختصر سی تاریخ ہے جو آپ کے سامنے رکھی ہے۔ اس میں آپ خود فیصلہ کریں کہ ظالم کون ہے اور مظلوم کون ہے۔ نیز آج تک اختیارات سب سے زیادہ کس کے پاس تھے اور کس نے ان کا غیر آئینی اور غیر قانونی استعمال کیا! ملک کی داخلہ خارجہ پالیسیاں کون مرتب کرتا رہا، جن کے تباہ کن نتائج آج ساری قوم بھگت رہی ہے۔ یہ دہشت گردی، یہ کلاشنکوف اور ہیروئن کلچر، یہ ملک کا دولخت ہونا، مسئلہ کشمیر، یہ تین دریا بھارت کو دینا وغیرہ وغیرہ۔ پاکستان میں غربت اور مہنگائی کا طوفان متذکرۂ بالا پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ ان میں سے کوئی پالیسی کسی سیاست دان نے نہیں بنائی۔ اس لیے کہ ان کے پاس اختیارات ہی نہیں تھے۔
اگر تو سیاست دان مکمل با اختیار ہوتے تو آپ انھیں ہدف بناتے۔ جب یہ سب کچھ دو ادارے مل کر کرتے رہے، تو آپ بلاوجہ اہلِ سیاست کو کٹہرے میں کیوں کھڑا کرتے ہیں! لعنتوں کا طوق سیاست دانوں کے گلے میں کیوں ڈال دیتے ہیں! پارلیمنٹ ہی درماندہ کیوں ٹھہرتی ہے، جمہوریت اور جمہوری سسٹم ہی کو لعن طعن کیوں کیا جاتا ہے۔ دراصل ہر بربادی کا ذمے دار سیاست دانوں ہی کو ٹھہرانا حقیقت سے زیادہ ایک فیشن بن چکا ہے۔ ہمارے ملک میں پھانسی چڑھے، تو وزیراعظم، جیلوں میں جائے، تو وزیراعظم، جلاوطن ہو، تو وزیراعظم اور مقدمے بنیں تو وزیراعظم پہ۔
دوسری طرف جنھوں نے آئین توڑا، وہ آرام سے گھروں میں رہے، مراعات لیں اور وقت پہ فوت ہوئے 21 توپوں کی سلامی لے کر۔ کوئی ایک جرنیل بتا دیجیے، جسے آج تک جیل ہوئی ہو یا جسے پھانسی ہوئی ہو۔ کیا دودھ کے دھلے ہیں یا ان کے دامن نچوڑ دینے سے فرشتے وضو کرتے ہیں! 1973ء کے آئین میں درج ہے کہ آئین توڑنے کی سزا موت ہے۔ ججوں نے بھٹو کو پھانسی دی۔ بعد میں ججوں نے خود کہا کہ یہ غلط فیصلہ تھا۔ ہم پہ دباؤ تھا۔ مگر ان میں سے کسی ایک جج کو بھی سزا نہیں دی گئی۔ اس کے بعد کتنے ہی ججوں نے کرپشن کی اربوں روپے کی، غیر آئینی فیصلے دیے۔ وقت سے پہلے وزرائے اعظم کی چھٹی کروائی۔ من پسند ججوں کے ذریعے مخصوص بینچ بنوا کر مخصوص فیصلے دیتے رہے۔ مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس اعجاز الاحسن کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں الزامات تھے کہ انھوں نے فلاں فلاں موقع پہ کرپشن کی اور اختیارات کا غلط استعمال کیا۔ بجائے اس تفتیش کا سامنا کرنے کے، یہ دونوں جج قبل از وقت ریٹائر ہو گئے، تاکہ ممکنہ سزاؤں سے بچ سکیں۔ نظام میں اتنی سکت ہے کہ ان میں سے کسی ایک جج کا احتساب کر سکے! ثاقب نثار صاحب کے کرتوت سے ساری دنیا واقف ہے۔ ان کے علاوہ اور کئی ججوں نے گھناؤنا کھیل کھیلا۔ مگر سب پاک صاف ہیں۔
پاکستان میں آج تک چار مارشل لا لگے اور تقریباً 33 سال تک رہے۔ باقی کے عرصے میں اگر سول حکومتیں رہیں بھی، تو ان کی حیثیت دو ٹکے کی بھی نہیں تھی۔ اس تمام عرصے میں ججز پیچھے رہ کر حکومت کے ہاتھ پاؤں باندھتے رہے اور مرضی کے فیصلے کرتے رہے۔ بہترین خارجہ پالیسی کی بنیاد پہ بیرونی ممالک سے ہی پیسہ آنا ہوتا ہے۔ یہاں مگر سول حکومت کی ایک نہیں چلنے دی گئی۔
تو ان حقائق کے پیشِ نگاہ اگر ہر وقت سیاست دانوں ہی کو رگڑا لگاتے رہنا ہے، تو یہ بڑی ناانصافی کی بات ہے۔ روش سے چل پڑی ہے کہ کوسنے دینے ہیں تو سیاست دانوں کو دینے ہیں۔ پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل، تینوں میڈیا پہ ہر کوئی سیاستدانوں کو رگڑا لگا رہا ہوتا ہے۔
اس کی وجہ ایک تو تاریخ سے ناواقفیت ہے اور دوسری وجہ سخت قسم کا تعصب، جس کا بہرحال فائدہ ہوتا ویوز اور ڈالروں کی صورت میں۔ سیاست دانوں کے خلاف بولنا ایک فیشن بن چکا ہے۔
پاکستان میں احتساب کو صرف سیاستدانوں تک محدود کرنے کا رواج غیر منصفانہ اور حقیقت پر مبنی نہیں۔ ملک کی جمہوری اور سیاسی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ پارلیمنٹ کے ساتھ ساتھ فوج اور عدلیہ کے آئینی و غیر آئینی اختیارات پر بھی نظر رکھی جائے۔ سیاست دانوں کے اقدامات پہ تنقید کریں، مگر توازن سے منہ نہ موڑیں اور اعتدال کا دامن نہ چھوڑیں۔ جو جتنا گنہگار ہے، اسے اتنا ہی گنہگار کہیں۔ باقیوں کے گناہوں کا بوجھ سیاست دانوں پہ نہ ڈالیں۔

