Fanoon e Latifa Quran Aur Sunnat Ki Roshni Mein
فنونِ لطیفہ قرآن اور سنت کی روشنی میں

انسان محض گوشت پوست کا نام نہیں، وہ ایک اخلاقی وجود بھی ہے، وہ اپنی حسِ جمالیات بھی رکھتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ ان چیزوں سے حظ اٹھاتا اور لطف اندوز ہوتا ہے، جن میں جمال، ہو خوبصورتی ہو، کشش ہو۔ پس جس طرح اس کے جسم کو زندہ رہنے کے لیے غذا درکار ہوتی ہے، اسی طرح اس کے باطن اور احساسِ جمال کو بھی غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر جسم کی بھوک مٹائی جائے اور روح و احساس کو بھوکا رکھا جائے تو انسان زندہ تو رہتا ہے، مگر اس کی زندگی بے رنگ سی، بےبو سی اور بے ذائقہ سی رہتی ہے۔ وہ نڈھال نڈھال سا، تھکا تھکا سا رہتا ہے۔ خوشی کو ترستا رہتا ہے۔ اسی باطنی اور اخلاقی وجود کی غذا کو ہم فنونِ لطیفہ کا نام دیتے ہیں۔
فنونِ لطیفہ کی وجہِ تسمیہ ہی یہ ہے کہ یہ وہ فنون، مہارتیں اور اظہار کی صورتیں ہیں جن میں لطافت، حسن اور لذت پائی جاتی ہے۔ فنونِ لطیفہ میں ادب، مصوری، موسیقی، رقص، مجسمہ سازی، خطاطی، فنِ تعمیر، ڈراما اور ہر وہ چیز ہے، جسے ہم زیب و زینت دیتے ہیں، اس پہ نقش و نگار بناتے ہیں۔ لطافت بھرے یہ فنون انسان کے احساسات کو زندگی بخشتے ہیں، ان میں تازگی پیدا کرتے ہیں۔ جب کبھی برے احوال کے زیرِ اثر انسان پہ مردنی سی چھا جاتی ہے، وہ بے چین سا ہو جاتا ہے، زندگی اسے ایک بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے، تو اس وقت یہی فنون اس کی مدد کو لپکتے اور اس کی ڈھارس بندھاتے ہیں۔ یہ اس کا غم دور کرکے اس کے چہرے پر مسکراہٹ اور دل میں سرور پیدا کرتے ہیں۔ فنونِ لطیفہ کا پھلنا پھولنا ایک زندہ سماج کی نشانی ہے۔ یہ گویا مطب ہے، جہاں انسان اپنی اخلاقی امراض کی شفا پاتے ہیں۔ یہ گویا پانی ہے، جو انسان کے دل کی بنجر و ویران زمین کو سیراب کرتا ہے۔
ایک سبق آموز فلم یا ڈراما، ایک دلکش موسیقی یا گیت، فکر کی دنیا کو وسیع کرتا ایک ناول، ایک خوشنما مجسمہ، ایک دل لبھاتا رقص: انسان کو خوش کرتے ہیں۔ یہ ایک فطری بات ہے۔ ایک پڑھا لکھا اور ان پڑھ دونوں کے چہرے کھل اٹھتے ہیں۔ جب ایسا ہے، تو مذہب کیوں ان فنون کو حرام قرار دے کر انسان کو ناخوش دیکھنا چاہے گا۔ کیا خدا کو ایک خوش انسان اچھا نہیں لگتا!
یہ بات قابلِ غور ہے کہ اسلام، جو دینِ فطرت ہے، انسان کی فطری خواہشات کو کچلنے کے بجائے انھیں پاکیزہ حدود میں تسلیم کرتا ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں کچھ لوگ اللہ کی حلال کی ہوئی چیزوں کو خود پر حرام کر لیتے تھے اور بعض مشرکانہ رسوم کو عبادت کا نام دیتے تھے۔ اسی پس منظر میں سورۂ الاعراف میں ارشاد ہوتا ہے: "پوچھو! وہ زینت اور پاکیزہ رزق جو اللہ نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کیے ہیں، انھیں حرام کس نے کیا ہے؟"
مفسرین کے مطابق یہاں "زینت" سے مراد عمدہ لباس، زیورات، خوشبو اور وہ تمام چیزیں ہیں، جو انسان کے حسن اور وقار میں اضافہ کریں، جبکہ "طیبات" سے مراد پاکیزہ اور لذیذ نعمتیں ہیں۔ اس آیت کے ذریعے بدصورتی، تنگی اور خوشیوں سے محروم ہونے کی نفی کی گئی ہی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد بھی اسی حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے: "اللہ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے"۔
نبی ﷺ نے واضح فرمایا کہ اچھا لباس پہننا اور خوبصورتی اختیار کرنا تکبر نہیں، بلکہ تکبر حق کو جھٹلانا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر لباس، جوتے اور دیگر ظاہری چیزوں میں حسن قابلِ قبول ہے، تو تخلیقی اور لطیف فنون کا حسن کیوں قابلِ قبول نہیں! ان کے استعمال پہ ناک بھوں کیوں چڑھائی جاتی ہے! ان پہ حرمت کے فتوے کیوں داغے جاتے ہیں! حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے کسی فن کو نہیں، بے حیائی، فحاشی اور اخلاقی بگاڑ کو ناپسند کیا ہے۔ اگر فنونِ لطیفہ میں فحاشی کو فروغ دیا جاتا ہے، تو یہ اپنا جواز کھو دیتے ہیں۔ لیکن اگر ان سے تہذیب جھلکتی ہے، نفاست ٹپکتی ہے، تو پھر یہ نہ صرف جائز ہیں، بلکہ ضروری ہیں۔
فنونِ لطیفہ میں ادب اگر انسان کو شعور دے، ڈراما اگر اصلاح کرے، فنِ تعمیر اگر جمال اور افادیت کو یکجا کرے اور دیگر تخلیقی اظہار اگر اخلاقی دائرے میں رہتے ہوئے انسان کو خوشی اور سکون فراہم کریں، تو وہ اسلامی مزاج سے متصادم نہیں۔ اسلام انسان میں جمود نہیں، تحرک پیدا کرتا ہے۔ اسلام انسان کو پژمردہ اور اداس دیکھنا نہیں چاہتا، بلکہ وہ اسے خوش باش دیکھنا چاہتا ہے۔
آخر میں یہ لکھنا بے جا نہ ہوگا کہ فنونِ لطیفہ انسان کی زندگی کو رنگین بناتے ہیں، اس میں دلچسپ معنویت پیدا کرتے ہیں۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو ہستا مُسکراتا دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ ہم ہر وقت تفکرات میں گھرے ہوں۔

