Sunday, 22 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asma Hassan
  4. Lahore Mein Basant Ke Tehwar Ki Wapsi

Lahore Mein Basant Ke Tehwar Ki Wapsi

لاہور میں بسنت کے تہوار کی واپسی

پنجاب کے دارلحکومت لاہور میں 6، 7 اور 8 فروری 2026 کو بسنت کا تہوار تقریباً دو دہائیوں کے بعد منایا گیا جس کی وجہ سے بچوں، نوجوانوں اور بوڑھوں سب کی خوشی دیدنی تھی۔ وہ بچے جو اس عرصے کے دوران پیدا ہوئے اور جوان ہو گئے انہوں نے شاید پتنگ کا نام تو سنا تھا جیسا کہ انھوں نے بچپن میں پڑھا کے فار کائیٹ، پ سے پتنگ یا پھر انھوں نے کسی وڈیو یا انٹرنیٹ پر دیکھا تو ہوا تھا لیکن ڈور کو ہاتھ میں پکڑ کر پتنگ کو اُڑانا ان کے لیے نیا تھا اور پتنگ بازی کے عشق کے احساس سے محروم تھے۔ اس کے علاوہ یہ نوجوان بچے ان ناموں سے بھی واقف نہیں جو پتنگ بازی کے حوالے سے استعمال کیے جاتے ہیں یا مشہور ہیں۔

اس موقع پر سوشل میڈیا نے بھی بڑے ہلکے پھلکے اور مزاحیہ انداز میں اس جنریشن زی کو میمز کے ذریعے آڑے ہاتھوں لیا اور خوب لطف اندوز ہوئے۔ لوگوں کو بسنت کی بدولت ہنسنے، بولنے، کھیلنے اور خاص طور پر موبائل اور دیگر گیجٹس کی دنیا سے باہر نکلنے کا موقع ملا، پھر انھوں نے نہیں دیکھا کہ سورج کی تیز کرنیں ان کی جلد کو کیسے جلا رہی ہیں یا شام میں ٹھنڈی ہوا کیسے ان کو چھو کر گزر رہی ہے سب اپنی مستی میں ایسے مست ہوئے کہ دن اور رات کا کوئی حساب کتاب نہ رہا۔ فروری کے مہینے میں خوشگوار موسم نے بھی بھرپور ساتھ دیا۔ دوسرے شہروں کے لوگوں کی دعائیں کہ لاہور میں بارش ہو جائے بھی قبولیت کے درجے کو نہ پہنچ سکیں۔

وزیرِ اعلی پنجاب مریم نواز صاحبہ نے اپنی تمام تر کوششوں سے اس تہوار کو ایک محفوظ، مسحور کن اور یادگار تہوار میں تبدیل کر دیا اور ان تمام خدشات کو مات دے دی جس کی وجہ سے برسوں پہلے اس تہوار پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ انھوں نے نہ صرف سمجھداری کا ثبوت دیا بلکہ ایسے دانشمندانہ احکامات جاری کیے اور ان پر عمل درآمد کروایا جس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔ بے شک ان کی تمام تر کاوشیں اور ان کی ٹیم کی محنت سراہے جانے کے قابل ہے۔

کچھ لوگوں نے اس تہوار کو سیاسی رنگ دینا چاہا اور مخالفت بھی کی لیکن لاہوریوں کی زندہ دلی کو سلام ہے کہ انھوں نے موقع جو بھی ہو کبھی مایوس نہیں کیا۔ لاہوریوں نے اس تہوار کو دل و جان سے منایا اور ایک بار پھر ثابت کیا کہ لاہوریے زندہ دل قوم ہیں۔

اِس موقع پر آسمان رنگ برنگ خوبصورت پتنگوں سے سج گیا۔ چھتوں پر میلے کا سا سماں بندھ گیا۔ دوسرے شہروں سے لوگ اپنے رشتہ داروں کے گھر آگئے، چھتوں پر ڈیرے ڈال لیے گئے، مزیدار پکوانوں کی دل فریب خوشبوؤں سے ہر گھر، گلی مہک اٹھی، کئی دل پھر سے آباد ہو گئے، ہر طرف بوکاٹا کی آوازیں، شورو غل، قہقہے، تالیاں گونج رہی تھیں۔ حتٰی کہ لاہور شہر میں داخل ہونے والی گاڑیوں نے ایک الگ ریکارڈ قائم کر دیا اور دنیا کو ایک بار پھر بتا دیا کہ لہور لہور ہے۔ اگر دیکھا جائے تو بین الاقوامی سطح پر ہماری ثقافت و کلچر کا ایک مثبت تاثر قائم ہوا۔

اس بار بسنت ہر تہوار سے، پھر چاہے اس میں عیدیں ہی کیوں نہ شامل ہوں سبقت لے گیا ہے۔ بہت عرصے بعد لوگ دل کھول کر خوش ہوئے، اپنے غم، پریشانیوں اور دکھوں کو بھول کر بسنت کے رنگوں میں رنگ گئے۔ ان لوگوں کو بھی اپنی یادیں تازہ کرنے کا موقع مل گیا جو جوانی یا بچپن میں پتنگ بازی کے عشق میں مبتلا تھے اور اپنی جیب خرچ کے پیسوں کو جمع کرکے گڈیاں، چرخیاں اور پنے خریدتے تھے اور گھر والوں سے ڈانٹ نہ پڑے اسی لیے گھر کے کونوں میں چھپا کر رکھتے تھے اور چوری چھپے چھت پر جایا کرتے تھے۔ برسوں بعد انہوں نے اپنی انگلیوں پر ڈور سے چیرے (کَٹ)لگنے کا مزہ چکھا۔

بسنت کے حوالے سے تین دنوں کی عام تعطیل دی گئی جس کے ساتھ 5 فروری کشمیر ڈے کی چھٹی بھی مل گئی اور اس طرح سب کو ایک طویل ویک اینڈ مل گیا جسے انھوں نے بھرپور انداز میں گزارا۔ یہ تہوار صرف ملکی نہیں بلکہ بین الاقوامی حیثیت اختیار کر گیا کیونکہ اس میں شرکت کے لیے دوسرے کئی ممالک سے لوگوں نے لاہور پاکستان کا رُخ کیا۔ جس کی وجہ سے تمام ہوٹلوں میں رونق بڑھ گئی کوئی کمرہ، کوئی چھت خالی نہ رہی۔

لاہور کو رنگ برنگے پتنگوں اور روشنیوں سے سجایا گیا جس میں لبرٹی مارکیٹ توجہ کا مرکز رہی۔ بڑی تعدار میں لوگ بغیر کسی ڈر و خوف کے جوق در جوق اُس سجاوٹ کو دیکھنے آئی۔ لوگوں نے تصاویر بنوائیں، کافی اور لذیز کھانوں سے ان لمحات کو نہ صرف اپنے کیمروں میں قید کیا بلکہ ان رنگوں کو اپنی زندگی میں بھی خوبصورتی سے بھرا۔

اگر انتظامات کی بات کریں تو وہ قابلِ تعریف تھے۔ اس موقع پر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی دیکھا گیا جب پتنگوں پر کیو آر کوڈ لگایا گیا۔ پتنگ کے سائز سے لے کر، ڈور تک، ہر چیز منظم تھی۔ چھتوں کی دیواروں پر ہدایات اور مکمل ایس او پیز جاری کی گئی، موٹر سائیکلوں پر راڈ لگائی گئی حتٰی الامکان حفاظتی اقدامات کیے گئے اور ان پر عمل درآمد بھی یقینی بنایا گیا۔ بس پتنگیں اور ڈور کچھ مہنگی رہی جو عام انسان کی پہنچ سے دور تھی۔

جہاں بسنت کے خوبصورت رنگوں نے لوگوں کی زندگی میں رنگ بکھیرے وہیں ملکی معیشت نے بھی بہتری کی طرف پرواز کی۔ کئی لوگوں کو روزگار ملا، جس سے ان کے خاندانوں کو فائدہ پہنچا۔ کہا جاتا ہے کہ ان تین دنوں میں اربوں کا کاروبار ہوا۔

جہاں اچھا کام ہوتا ہے وہیں کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو منفی باتیں کرتے ہیں تاکہ رنگ میں بھنگ ڈالا جاسکے۔ لوگوں نے باتیں بنائیں کہ بسنت کا شور ڈال کر عوام کی توجہ دیگرملکی مسائل سے ہٹائی جا رہی ہے، عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ تو عرض یہ ہے کہ مسائل کا سامنا تو سب کو ہوتا ہے، چاہے انفرادی مسائل ہوں، اجتماعی، گھر کی سطح پر ہوں یا ملکی سطح پر ہوں تو کیا ہم ان مسائل کی وجہ سے جینا چھوڑ دیں، ملنا، جلنا، تہوار منانا، سجنا، سنورنا، ہنسنا بولنا، کھانا پینا، زندگی کے رنگوں سے لطف اندوز ہونا چھوڑ دیں؟ کیا خود کو، اپنے پیاروں کو ذہنی مریض بنا دیں؟ یہ کہاں کی سمجھداری ہے۔

جب ایسے تہوار آتے ہیں تو زندگی کی رونق دوبالا ہو جاتی ہے، لوگ خود کو تازہ دم محسوس کرتے ہیں۔ ان میں مسائل سے نمٹنے کی طاقت آ جاتی ہے۔ جب ہماری ذہنی حالت بہتر ہوتی ہے تبھی ہم مثبت سوچنے کے قابل ہوتے ہیں۔ مسائل کو دیکھنے کا زاویہ بدلنے کی دیر ہے، زندگی آسان اور خوبصورت ہو جاتی ہے۔ جو چند پل خوشی کے آتے ہیں ان کو سمیٹ لینا چاہیے، نہ جانے کون سا لمحہ آخری ہو تو اپنے پیاروں کے ساتھ اچھی اور خوبصورت یادیں بنا جائیں تاکہ وہ ہمیں اچھے لفظوں میں یاد کر سکیں سب سے بڑھ کر ان کے پاس کچھ یاد کرنے کو موجود بھی ہو۔

ہمیں اس طرح کے تہوار منانے چاہیے تاکہ لوگوں کو جینے کا حوصلہ ملے۔ ملک کی معیشت بہتر ہو سکے۔ احتیاط ہر معاملے میں ضروری ہے۔ ہمیں خود بھی ہاتھ پاؤں ہلانا چاہیے، محتاط رہنا چاہیے اپنے اور اپنے پیاروں کی حفاظت کے لیے خود سے انتظامات کرنے چاہیے ہر بار، ہر معاملے میں حکومت اور اس کے اداروں کو موردِ الزام نہیں ٹھہرانا چاہیے۔ ایسا کوئی عمل نہیں کرنا چاہیے جس سے دوسروں کا مالی یا جانی نقصان ہو یا کسی کو تکلیف پہنچے۔ جو اچھا کام کریں ان کو دل سے سراہنا چاہیے، ہر معاملے میں تنقید کرنا، مخالف نعرے لگانا ضروری نہیں ہوتا۔

اس موقع پر وزیرِ اعلٰی صاحبہ نے خواتین کے لیے پیلے رنگ کا انتخاب کیا جو زندگی کی علامت ہے، خوشی اور امید کو ظاہر کرتا ہے۔ خواتین چاہے وہ عام گھریلو خواتین ہوں یا پیشہ وارانہ خدمات دینے والی خواتین ہوں سب نے اس کا خیر مقدم کیا، پھر چاہے شوبز کا شعبہ ہو یا زندگی کا کوئی اور شعبہ سب نے بسنت کے تہوار کو منایا اور خوب لطف اندوز ہوئے۔ سب نے اپنے اپنے انداز میں اس پُر رونق میلے کی خوشبو کو اپنے اندر اتارا۔

میڈم کی بسنت پر بریفنگ، اندازِ گفتگو، لباس سب تعریف کے قابل ہے۔ موقع کوئی بھی ہو ان کا سر سے ڈوپٹہ نہیں اترا۔ ایک خاتون کی حیثیت سے خود کو موقع کی مناسبت سے باوقار، نفاست اور سلیقے سے تیار کرنا کوئی ان سے سیکھے۔ وہ بہت ساری خواتین کے لیےمثالی شخصیت ہیں کیونکہ وہ خاص طور پر ان کے لباس اور ڈوپٹہ لینے کے انداز کو اپناتی ہیں۔ ان کو آئرن لیڈی کہنا کسی طور پر بھی غلط نہیں ہے۔

Check Also

Rishta Jab Khof Ban Jaye

By Amer Abbas