Sarmaya Kari Jism Par Ya Zehan Par?
سرمایہ کاری جسم پر یا ذہن پر؟

انسانی شخصیت کی تعمیر میں بعض اوقات ایک مختصر سا جملہ پوری زندگی کی فلسفیانہ بحث کو اپنے اندر سمو لیتا ہے۔ بڑے لوگوں کی محفلوں میں ہونے والی بعض مختصر گفتگوئیں ایسی ہوتی ہیں جو بظاہر روزمرہ مکالمہ محسوس ہوتی ہیں لیکن ان کے اندر انسانی نفسیات، قیادت، کامیابی، کمزوری اور خود شناسی کے کئی در وا ہو جاتے ہیں۔ ایک ایسے ہی مکالمے کا ذکر کتاب کے مصنف نے کیا ہے۔ مصنف عمران خان کے نہ صرف دیرینہ مداح اور حامی رہے بلکہ ان کے سیاسی سفر کے نشیب و فراز کے گواہ بھی رہے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ عقیدت کے باوجود انہوں نے اپنی تحریروں میں دیانت داری کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ انہوں نے جہاں عمران خان کی خوبیوں کا اعتراف کیا وہاں ان کی کمزوریوں کی نشاندہی سے بھی گریز نہیں کیا۔ یہی کسی سچے لکھاری اور غیر جانبدار مبصر کی پہچان ہوتی ہے کہ وہ محبت میں اندھا نہیں ہوتا اور اختلاف میں انصاف کا دامن نہیں چھوڑتا۔ شخصیت پرستی اور فکری دیانت ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ جب لکھنے والا شخصیت کے سحر میں گرفتار ہو جائے تو حقیقت پس منظر میں چلی جاتی ہے، لیکن جب مقصد صرف سچائی ہو تو پھر تعلقات، وابستگیاں اور پسند و ناپسند سب ثانوی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔
مصنف لکھتے ہیں کہ لاہور میں موسمِ بہار کی ایک صبح وہ زمان پارک میں عمران خان سے ملنے گئے۔ عمران خان ورزش میں مصروف تھے۔ کچھ دیر بعد جب وہ نمودار ہوئے تو خاص اعتماد بھرے انداز میں کہا کہ آدمی کو اپنے جسم پر بھی سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ بظاہر یہ ایک عام سی بات تھی اور اس سے اختلاف کی کوئی گنجائش بھی نہ تھی۔ جسم انسانی وجود کا اہم ترین وسیلہ ہے۔ صحت مند جسم کے بغیر نہ ذہنی صلاحیتیں پوری طرح بروئے کار آ سکتی ہیں اور نہ ہی عملی زندگی کے تقاضے مؤثر انداز میں پورے کیے جا سکتے ہیں۔ دنیا بھر میں آج صحت، ورزش اور جسمانی تندرستی پر غیرمعمولی توجہ دی جا رہی ہے۔ کامیاب افراد اپنی خوراک، نیند، ورزش اور جسمانی فٹنس کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ سمجھتے ہیں۔ عمران خان کی پوری زندگی بھی اس کی ایک مثال رہی ہے۔ بطور کھلاڑی انہوں نے جسمانی نظم و ضبط کو کامیابی کی بنیاد بنایا اور بعد میں بھی اس عادت کو برقرار رکھا۔ لیکن اصل دلچسپی اس جملے کے بعد شروع ہونے والے مکالمے میں ہے۔
مصنف نے جواب دیا کہ جی ہاں، اپنے ذہن پر بھی سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ یہ جملہ بظاہر مختصر تھا لیکن اس کے اندر ایک گہرا فکری پیغام پوشیدہ تھا۔ عمران خان نے فوراً سوال کیا کہ کیا تمہارا مطلب یہ ہے کہ میں نے اپنے ذہن پر سرمایہ کاری نہیں کی؟ مصنف نے پوری صاف گوئی سے جواب دیا کہ میرا مطلب یہی ہے۔ یہ جواب سن کر عمران خان ناراض نہیں ہوئے، بد مزہ بھی نہیں ہوئے بلکہ حیران ضرور ہوئے۔ اس مختصر منظر میں انسانی شخصیت کا ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے۔ دنیا میں بے شمار لوگ اپنی تعریف سننے کے عادی ہوتے ہیں لیکن تنقید برداشت نہیں کر پاتے۔ خاص طور پر وہ لوگ جو اقتدار، شہرت یا مقبولیت کے بلند مقام پر پہنچ جائیں، ان کے گرد اکثر ایسے افراد جمع ہو جاتے ہیں جو ہر بات پر تائید کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اختلاف کی آوازیں آہستہ آہستہ معدوم ہو جاتی ہیں اور انسان اپنے بارے میں ایک مثالی تصور قائم کر لیتا ہے۔ ایسے ماحول میں کوئی شخص اگر سچ کہنے کی جرأت کرے تو وہ غیرمعمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ مصنف نے یہی کردار ادا کیا۔ انہوں نے دوستی اور عقیدت کے باوجود وہ بات کہہ دی جو ان کے خیال میں درست تھی۔ یہ صرف عمران خان کے بارے میں ایک تبصرہ نہیں بلکہ ہمارے پورے معاشرتی مزاج پر ایک سوال ہے کہ کیا ہم ذہنی نشوونما کو اتنی اہمیت دیتے ہیں جتنی جسمانی ترقی کو دیتے ہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ جسم اور ذہن کے درمیان ایک گہرا تعلق موجود ہے، لیکن ان دونوں کی سرمایہ کاری کی نوعیت مختلف ہے۔ جسم پر سرمایہ کاری ورزش، متوازن غذا اور صحت مند عادات کے ذریعے کی جاتی ہے، جبکہ ذہن پر سرمایہ کاری مطالعے، غور و فکر، مکالمے، تنقیدی سوچ اور مسلسل سیکھنے کے ذریعے ہوتی ہے۔ ایک شخص اپنی عمر کے ساٹھ یا ستر برس تک جسمانی صحت برقرار رکھ سکتا ہے، لیکن اگر اس کا ذہن جمود کا شکار ہو جائے تو وہ زمانے کی تبدیلیوں کو سمجھنے سے قاصر رہتا ہے۔ تاریخ میں بہت سے لوگ ایسے گزرے ہیں جنہوں نے جسمانی طاقت سے زیادہ ذہنی طاقت کے ذریعے دنیا کو متاثر کیا۔ ان کے پاس نہ دولت تھی، نہ اقتدار، نہ غیرمعمولی جسمانی قوت، لیکن ان کے خیالات نے زمانوں کا رخ موڑ دیا۔ افکار کی طاقت تلوار کی طاقت سے زیادہ دیرپا ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کتابیں سلطنتوں سے زیادہ دیر تک زندہ رہتی ہیں اور نظریات حکومتوں سے زیادہ گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔
اس واقعے کا ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ مصنف نے ناشتے کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ عمران خان پھل، دہی، ڈبل روٹی کے دو ٹکڑے اور بہت سا جوس استعمال کرتے تھے اور مجال ہے کہ ایسے میں دوسروں کو دعوت دیں۔ یہ جملہ بظاہر مزاحیہ ہے لیکن اس میں انسانی کمزوریوں کی ایک دل چسپ جھلک بھی موجود ہے۔ بڑی شخصیات بھی آخرکار انسان ہی ہوتی ہیں۔ ان کے اندر بھی وہی چھوٹی چھوٹی عادات، ترجیحات اور کمزوریاں ہوتی ہیں جو عام لوگوں میں پائی جاتی ہیں۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب ہم کسی شخصیت کو انسانی حدود سے بلند کرکے ایک دیومالائی کردار بنا دیتے ہیں۔ پھر ہمیں اس کی کوئی خامی دکھائی نہیں دیتی اور اگر کوئی خامی دکھائی دے تو ہم اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ حالانکہ کسی شخصیت کی عظمت کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کامل تھی، بلکہ اصل عظمت یہ ہے کہ اس نے اپنی خوبیوں کے ذریعے معاشرے پر مثبت اثر ڈالا۔ جو قومیں اپنے رہنماؤں کو فرشتے بنا دیتی ہیں، وہ ان سے سیکھنے کے بجائے ان کی پرستش شروع کر دیتی ہیں۔
یہ مختصر واقعہ دراصل ایک بڑے سبق کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ زندگی میں جسمانی صحت اہم ہے، مالی استحکام ضروری ہے، پیشہ ورانہ کامیابی قابلِ قدر ہے، لیکن ان سب کے ساتھ ذہنی اور فکری ترقی بھی ناگزیر ہے۔ اگر جسم مضبوط ہو لیکن سوچ کمزور ہو تو طاقت نقصان دہ بن سکتی ہے۔ اگر دولت ہو لیکن بصیرت نہ ہو تو وسائل ضائع ہو جاتے ہیں۔ اگر مقبولیت ہو لیکن فکری گہرائی نہ ہو تو قیادت سطحی رہ جاتی ہے۔ اسی طرح اگر علم ہو لیکن کردار نہ ہو تو دانش بھی بے معنی ہو جاتی ہے۔ کامیاب زندگی دراصل جسم، ذہن اور کردار کے درمیان توازن کا نام ہے۔ شاید اسی لیے تاریخ کے بڑے معلمین نے ہمیشہ انسان کے باطن کو سنوارنے پر زور دیا۔
آج کے دور میں جب فٹنس مراکز، غذائی منصوبے اور جسمانی صحت کے مشورے ہر طرف موجود ہیں، ہمیں یہ سوال بھی خود سے پوچھنا چاہیے کہ ہم اپنے ذہن پر کتنی سرمایہ کاری کر رہے ہیں؟ ہم سال میں کتنی کتابیں پڑھتے ہیں؟ کتنی نئی باتیں سیکھتے ہیں؟ کتنی مرتبہ اپنے خیالات پر نظرثانی کرتے ہیں؟ اور کتنی بار اپنی رائے کے خلاف دلیل سننے کا حوصلہ پیدا کرتے ہیں؟ شاید ترقی کا اصل راز اسی سوال کے جواب میں پوشیدہ ہے، کیونکہ جسم انسان کو حرکت دیتا ہے لیکن ذہن اسے سمت عطا کرتا ہے۔

