Thursday, 23 April 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Kitab Tehzebon Ki Maa: Hujjat Ul Islam (7)

Kitab Tehzebon Ki Maa: Hujjat Ul Islam (7)

کتاب تہذیبوں کی ماں: حجۃ الاسلام (7)

امام غزالی کی زندگی ایک مسلسل تلاش کا نام ہے۔ یہ تلاش صرف علمی نہیں، روحانی بھی ہے۔ صرف منطقی نہیں، وجدانی بھی ہے۔ صرف کتابی نہیں، وجودی بھی ہے۔ امام غزالی وہ شخص تھے جو دینی مدارس کی عظمت کا بھی تاج تھے اور فلسفے کے میدان کا بھی چراغ۔ وہ ناصرف مدارسِ اسلامیہ کے ممتاز معلم تھے بلکہ بغداد جیسے علمی مرکز کے نظامیہ مدرسہ کے سب سے جواں سال استاد بنائے گئے۔ ان کا ذہن حیرت انگیز حد تک روشن اور باریک بین تھا اور یہی ذہن ایک وقت پر خود ان کے لیے سوال بن گیا۔

وہ سب کچھ جان چکے تھے۔ فقه، اصول، کلام، فلسفہ، منطق، معانی، بیان، حتیٰ کہ ارسطو، افلاطون، ابن سینا اور فارابی کے افکار کو بھی اس درجہ سمجھا کہ خود ان کے استدلال کو ان کی اپنی زبان میں شکست دے سکیں۔ مگر اس سب کے باوجود، ایک دن ایسا آیا جب امام غزالی نے لکھا کہ میرے علم نے میرے دل کو سیراب نہیں کیا۔ میں نے دل کے سکون کو عقل کی دکان میں ڈھونڈا، لیکن وہاں ہر شے تولی جاتی تھی، ناپی جاتی تھی، مگر عطا نہیں کی جاتی تھی۔ یوں غزالی نے وہ راستہ اختیار کیا جو ان کے معاصرین کے لیے غیر متوقع تھا، دنیا سے کنارہ کشی۔

امام غزالی نے بغداد کا وہ مدرسہ چھوڑ دیا جہاں ہزاروں طلباء ان کے علم سے سیراب ہو رہے تھے۔ انہوں نے شہرت، عزت، علم، حتیٰ کہ اپنی زبان بھی روک لی۔ کئی سال وہ خاموش رہے، شہر بہ شہر، گمنامی کی حالت میں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ مسجدِ اموی (دمشق) کی گیلریوں میں راتوں کو تنہا بیٹھ کر قرآن، حدیث اور ذکر میں غرق رہتے۔ ان کا مقصد واضح تھا: روح کی پاکیزگی۔ دل کا اطمینان۔ وہ حقیقت جس کا وعدہ دین نے کیا تھا، لیکن جو علم کی بلندیوں پر کھڑے ہو کر بھی انہیں حاصل نہ ہوئی تھی۔

اسی مجاہدے کے دوران امام غزالی نے جو کچھ دریافت کیا، اسے انہوں نے "احیاء علوم الدین" میں قلم بند کیا، ایک ایسی کتاب جو صدیوں سے روحانی و فکری تربیت کی بنیاد ہے۔ اس میں نہ صرف عبادات کی روح بیان کی گئی، بلکہ اخلاق، نیت، نفس، ریاء، حسد، تکبر، صدق، توکل اور اخلاص جیسے موضوعات پر ایسی تفصیل سے روشنی ڈالی گئی کہ کتاب علومِ شریعت کا دل بن گئی۔ امام غزالی نے عبادت کو رسم سے نکال کر شعور کی دہلیز پر لا کھڑا کیا۔ ان کے مطابق نماز اگر روح سے خالی ہو، تو وہ صرف ایک حرکت ہے۔ روزہ اگر صرف بھوک کا نام ہو، تو وہ مشقت ہے۔ وہ ہر عمل میں نیت کی سچائی اور دل کی موجودگی کو سب سے مقدم رکھتے تھے۔

امام غزالی کی ایک اور شاندار کاوش "تہافت الفلاسفہ" ہے، جس میں انہوں نے اسلامی دنیا کے مشہور فلاسفہ، خاص طور پر ابن سینا اور فارابی، پر تنقید کی۔ لیکن ان کی تنقید علم کی ضد یا تنگ نظری پر مبنی نہیں تھی، بلکہ انہوں نے یہ دکھایا کہ کس طرح بعض فلسفیانہ نظریات، مثلاً کائنات کی قدامت یا قیامت کے انکار، قرآن و سنت سے ٹکراتے ہیں۔ یہ کتاب فلسفے کو رد کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اسے حدود میں رکھنے کی ایک کوشش تھی۔ وہ عقل کے مخالف نہیں تھے، بلکہ عقل کو ایمان کی خدمت میں لانے کے خواہش مند تھے۔

امام غزالی نے مغربی فلسفہ پر بھی غیر معمولی اثر ڈالا۔ لاطینی دنیا میں انہیں Algazel کے نام سے جانا گیا۔ ان کی تحریریں یورپ کی یونیورسٹیوں میں پڑھائی گئیں۔ ان کے خیالات نے Thomas Aquinas جیسے عیسائی مفکرین پر اثر ڈالا، جنہوں نے ایمان اور عقل کے درمیان مفاہمت کی کوشش کی۔ یوں امام غزالی صرف اسلامی دنیا کے ہی نہیں، بلکہ مغرب کے فکری منظرنامے میں بھی داخل ہو گئے۔

غزالی کی زندگی کی سب سے بڑی طاقت ان کی سچائی تھی، خود سے، دنیا سے اور خدا سے۔ وہ علمی برتری کے باوجود عاجز تھے۔ ان کی تحریریں نصیحتوں کا طوفان نہیں، بلکہ تجربے کی آگ میں تپے ہوئے الفاظ کا جھرنا ہیں۔ ان کا لہجہ خطیبانہ نہیں، درد مندانہ ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ انسان اگر اپنی روح کا حساب نہ لے، تو وہ خواہ کتنا بھی علم حاصل کرے، وہ اندھا ہی رہے گا۔ انہوں نے اخلاق کو ایمان کا لازمی جزو قرار دیا اور نیت کی صفائی کو عمل کی مقبولیت سے جوڑا۔

ایک وقت ایسا بھی آیا کہ امام غزالی واپس نظامیہ مدرسہ گئے، مگر اب وہ وہی شخص نہیں تھے۔ اب وہ صرف فقیہ نہیں تھے، ایک عارف بھی تھے۔ ان کے علم میں وہ چمک آ چکی تھی جو دل کی آگ سے پیدا ہوتی ہے۔ ان کی باتوں میں وہ تاثیر آ گئی تھی جو سچائی، عاجزی اور تجربے سے جنم لیتی ہے۔ اب وہ لوگوں کو صرف مسائل کا حل نہیں بتاتے تھے، ان کے دل کی گہرائیوں میں جھانک کر انہیں اپنے آپ سے ملواتے تھے۔

امام غزالی کا پیغام آج بھی زندہ ہے، خاص طور پر آج کے اس مادی، شور زدہ اور مشینی دور میں، جہاں انسان کو ہر طرف سے الجھنوں، تضادات اور خالی پن کا سامنا ہے۔ جہاں علم کثیر ہے، مگر حکمت ناپید۔ جہاں معلومات تو وافر ہیں، مگر بصیرت نایاب۔ غزالی ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ اصل سکون کسی ہارڈ ڈرائیو میں نہیں، دل کی گہرائی میں چھپا ہے۔ اصل علم وہ ہے جو انسان کو خود سے، خدا سے اور خلقِ خدا سے جوڑ دے۔

غزالی ہمیں یہ بھی سکھاتے ہیں کہ شک کرنا برا نہیں، اگر وہ سچ تک پہنچنے کی نیت سے ہو۔ انہوں نے خود شک کے اندھیروں میں سفر کیا، مگر روشنی پا کر ہی واپس آئے۔ انہوں نے علم کو دین سے اور دین کو عقل سے جدا نہیں کیا۔ ان کے ہاں صوفی بھی سوچتا ہے اور مفکر بھی سجدہ کرتا ہے۔ یہ وہ توازن ہے جس کی آج دنیا کو اشد ضرورت ہے۔

غزالی کے بعد صدیوں تک علمی دنیا ان کے اثر سے آزاد نہ ہو سکی اور شاید آج بھی نہیں ہے۔ ان کی تحریریں ہمیں بتاتی ہیں کہ انسان صرف دماغ نہیں، دل بھی ہے۔ صرف ظاہر نہیں، باطن بھی ہے۔ صرف قانون نہیں، حکمت بھی ہے۔ ان کی زندگی ہمیں بتاتی ہے کہ اگر علم انسان کو غرور دے، تو وہ زہر ہے اور اگر عاجزی دے، تو وہ امرت ہے۔

تو آئیے، امام غزالی کے افکار کی روشنی میں ہم بھی اپنے باطن کو تلاش کریں۔ اپنی عبادات کو شعور دیں۔ اپنے اخلاق کو خلوص سے مزین کریں۔ اپنی عقل کو وحی کے نور سے روشن کریں اور اپنے شک کو ایمان کے پل سے گزار کر، سچائی کی اس سرزمین پر لے آئیں جہاں امام غزالی خود کھڑے تھے، سر جھکائے، دل بیدار اور روح مطمئن۔

Check Also

Riwayat Ki Roshani Aur Qayadat Ki Nai Kiran

By Javed Ayaz Khan