1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Ali Durrani
  4. Kaha Hai Mehngai?

Kaha Hai Mehngai?

کہاں ہے مہنگائی؟

اپنے دو دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا وہ دونوں آپس میں گفتگو کر رہے تھے وہ منطقی دلیل کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے۔ میں ان کو دیکھ رہا تھا کہ یہ کس قسم کی باتیں ہیں یہ دونوں تو ایک دوسرے پر طنز کر رہے ہیں۔ میں سوچ رہا تھا کہ ان دونوں کا موضوع کیسے تبدیل کروں۔ اچانک میرے منہ سے نکل گیا دوستوں پاکستان میں مہنگائی دن بدن بڑھ رہی ہے۔ یہ سن کر میرے دونوں دوستوں نے اپنا موضوع وہی پر چھوڑ دیا اور دونوں نے غصے سے میری طرف دیکھا میں حیران ہوگیا کہ ان دونوں کو کیا ہوگیا۔

طویل خاموشی کے بعد ایک بولا کہاں ہے مہنگائی؟ دوسرے نے کہا کوئی ثبوت؟ میں پھر سے حیران ہوا کہ ان کو میں اب کیا جواب دوں۔ میں نے طنزیہ انداز میں کہا مجھے معلوم نہیں تھا آپ دونوں باہر ملک سے آئے ہو۔ آپ لوگوں کو کیا معلوم کہ مہنگائی ہے کہ نہیں لیکن زیادہ نہیں دو تین دن یہاں گزارو خود پتہ چل جائے گا کہ مہنگائی ہے کہ نہیں۔ ایک نے غصے سے کہا نہیں نہیں جان آپ باہر سے آۓ ہو۔ دوسرے نے کہا باہر سے نہیں کہیں۔ سے۔

میں نے کہا یار آپ لوگ مذاق بند کرو ملک میں دن بدن مہنگائی بڑھ رہی ہے غریب لوگ ناجانے اس مہنگائی کے دور میں کیسے زندگی گزار رہے ہیں، وہ کون سے تکلیف میں مبتلا ہونگے۔ آج کل تو آٹا بھی مشکل سے ملتا ہے یہ کیسا ملک ہے، یہ کیسی جمہوریت ہے اور یہ کیسے حکمرانان ہیں۔ ان کو غریب عوام کا ذرا خیال بھی نہیں کہ وہ کس قرب سے گزر رہے ہیں۔

میں نے تو اپنے اساتذہ سے سنا ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں کوئی بھوکا نہیں سوتا تھا وہ رات کے وقت مختلف گلیوں اور محلوں میں جاتے تھے اور معلوم کرتے کہ کسی کو کوئی تکلیف تو نہیں لیکن میں کافی پریشان ہوں کہ پاکستان میں عمر فاروق جیسا لیڈر کب آۓ گا؟ میں نے اپنے دوستوں کو کہا کہ آپ کافی وقت سے اپنے موضوع پر باتیں کر رہے ہیں۔ مہنگائی پر بات کرتے ہیں۔ ایک نے کہا تم کرو لیکن اپنے آپ سے میں نے کہا یہ بھی کوئی بات ہے۔ خود سے نہیں آپ دونوں سے کرونگا۔

انہوں نے خاموشی اختیار کی میں بھی عجیب کشمش میں تھا کہ یہ دونوں تو چند منٹ پہلے ٹھیک ٹھاک تھے آخر ان دونوں کو کیا ہوا۔ لیکن میں نے دوبارہ کہا۔ مہنگائی ہے ایک نے کہا کوئی ثبوت میں نے کہا یار آپ بھی اس ملک میں رہتے ہو ارد گرد دیکھوں آپکو مہنگائی نظر آۓ گی۔ دوسرے نے مجھے کہا یار تم تو پاگلوں جیسی باتیں کر رہے ہو۔ کہاں ہے مہنگائی آپ کے پاس کیا ثبوت ہے؟ مجھے ثبوت دکھاؤ میں نے ایک گہری سانس لی کہا بھائی صاحب لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں۔

اس نے پھر سے کہا کوئی ثبوت اُف یہ کس قسم کے سوالات یہ دونوں مجھ سے پوچھ رہے ہیں آخر ان کو کیوں سمجھ نہیں آتا۔ میں نے کہا میرے دوستوں کل میں ایک نیوز رپورٹ پڑھ رہا تھا، لکھا تھا کہ فلاح جگہ پر ایک شخص نے مہنگائی کی وجہ سے خودکشی کی تھی۔ رپورٹ میں اور بھی بہت کچھ تھا مطلب۔ دوسرے نے کہا میڈیا تو جھوٹ بول رہا ہے ایک چینل ایک سیاسی جماعت نے کراۓ پر لیا ہے اور دوسری جماعت نے اپنے لیے الگ چینل اور اپنی پارٹی کی حق میں ہر وقت باتیں کرتے ہیں اور عوام کو بیوقوف بناتے ہیں۔

رپورٹ غلط بھی ہو سکتی ہے میں بولا دوستوں آپ دونوں کا صحافت کے ساتھ تعلق کمزور ہے اس لیے آپ اس قسم کی باتیں کرتے ہو۔ حالانکہ ایسا کچھ بھی نہیں ہے دونوں نے طنزیہ انداز میں کہا صحافت کے ساتھ رشتہ کمزور ہے فلسفے کے ساتھ نہیں آپ جس بندے کا ذکر کر رہے کیا آپ نے خود دیکھا تھا؟ میں بولا میں نے میڈیا رپورٹس پڑھیں تھی۔ دوسرے نے کہا میڈیا کو درمیان میں سے نکال دو اپنی بات کرو۔ میں نے کہا آپ دونوں تو اس خبر کے پیچھے پڑھ گئے۔

میں نے کہا اسکے علاؤہ بھی بہت سی مثالیں موجود ہیں روز مہنگائی کی بارے میں خبریں شائع ہوتی ہیں۔ بھوک کی وجہ سے لوگ خودکشی کر رہے ہیں افسوس کی بات ہے دونوں نے زور دار قہقہہ لگایا پھر سے میڈیا کا ذکر کیا آپ نے، میں نے کہا، میں آپ دونوں کو وہ بات بتاتا ہوں وہ منظر جو خود میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ آج سے ایک ہفتہ پہلے بہت سے مرد و عورت آٹا خریدنے کے لیے دوکان کے باہر قطار میں کھڑے تھے تو ان دونوں نے کہا یہ تو اچھی بات ہے مگر یقین بھی نہیں آتا کہ پاکستانی قوم میں اتنی تمیز کہا سے آ گئی کہ وہ قطار میں کھڑے تھے۔

عقل سے ماورا بات ہے لیکن آپ نے دیکھا ہے تو مانتے ہیں۔ میں نے زور دار آواز میں کہا وہ لوگ وہ مرد و خواتین سرکاری آٹا خریدنے کے لیے آئے تھے سرکاری آٹا عام مارکیٹ سے تھوڑا بہت کم قیمت میں ملتا ہے مارکیٹ ریٹ اتنا زیادہ ہے کہ عام مطلب غریب آدمی وہ آٹے کی بوری نہیں خرید سکتا۔ میری ان تمام تر گفتگو کے بعد ایک دوست نے احترام کے ساتھ مجھے کہا میں آپ سے دو چار سوالات پوچھنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا جی پوچھیں، دوسرے نے بات کاٹ دی اور اپنی بات شروع کی مت پوچھو ان کے پاس تو ویسے بھی جواب نہیں ہے میں نے کہا آپ شروع کرو۔

اس نے کہا پہلے آپ نے خودکشی کا ذکر کیا تو پاکستان میں بائیس کروڑ عوام ہیں۔ ٹھیک ہے میں نے کہا آپ اپنا سوال جاری رکھو، اس نے کہا اتنے سارے لوگوں میں صرف ایک بندے نے خودکشی کیوں کی؟ کیا مہنگائی سے پورے ملک میں صرف یہ بندہ تنگ تھا؟ دوسرا سوال میرا یہ ہے کہ آپ بار بار مہنگائی کی بارے میں بات کر رہے ہو کہی پر مہنگائی کے خلاف لوگ نکلے ہیں، کسی نے احتجاج کیا ہے؟ میں عوام کی بات کر رہا ہوں۔ سیاسی لوگ تو روز ٹیلی ویژن پر بیٹھ کے مہنگائی کے بارے میں عجیب و غریب قسم کے تبصرے کرتے ہیں اور اس میں بھی اپنی پارٹی کا مفاد تلاش کرتے ہیں۔

میں نے جواب میں کہا آپ کی ساری باتوں سے میں اتفاق کرتا ہوں لیکن۔ اس نے ہماری بات کاٹ دی اور کہا میں آخری بات کرتا ہوں روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں اخبار شائع ہوتے ہیں ٹیلی ویژن پر مختلف لوگ پروگرام کرتے ہیں جس قسم کے سوالات آپ پوچھ رہے ہیں ہم دونوں سے کیا کسی اینکر نے اپنے پروگرام میں ان لوگوں مطلب غریب لوگوں کے لیے آواز بلند کی ہے۔ آپ خود فیصلہ کریں لیکن فیصلہ میں اپنے پڑھنے والے پر چھوڑتا ہوں۔

دوسرے دوست نے مجھے کہا آپ اس طرح کرو کسی بھی کالج کے باہر کھڑے ہو جاؤ اور چھٹی کے وقت ویسے مزاحیہ انداز میں کالج کے بچوں سے پوچھو کہ آپ کے پاس کونسا موبائل فون ہے اور کتنے روپے میں خریدا ہے؟ انہوں نے مجھ سے سوال کیا کہ آج سے پانچ سال پہلے پیٹرول کتنے روپے لیٹر ملتا تھا؟ میں نے کہا اتنا۔ اس نے کہا پانچ سال پہلے گاڑیاں کتنی تھیں؟ میں نے کہا زیادہ اس نے کہا آج پیڑول کتنے روپے لیٹر ہے؟ کہا اتنا اور گاڑیوں کی تعداد کتنی ہے؟ میں نے کہا پانچ پہلے جتنی گاڑیاں تھیں، آج اس سے زیادہ ہیں تو اس نے پوچھا کہاں ہے مہنگائی؟

میں نے ان دونوں کو سمجھانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ میری ہر بات میں دو تین سوالات نکالتے تھے۔

کالم پڑھنے والے خود فیصلہ کریں کیا یہ دونوں درست تھے کہ نہیں؟

Check Also

Exceptional Case

By Azhar Hussain Bhatti