Thursday, 20 June 2024
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Ali Durrani
  4. Aurat Aur Hamara Muashra

Aurat Aur Hamara Muashra

عورت اور ہمارا معاشرہ

جس طرح میں اپنے کالم میں بتا چکا ہوں کہ عورت آج جو بھگت رہی ہے اس میں سارا قصور عورت کا ہے۔ آج تک تو حالات کافی بہتر تھے لیکن جدیدیت کے اس دور میں جب مغرب نے جینڈر ایکولیٹی یعنی جنسی برابری کا نعرہ لگایا تو مشرقی عورت نے بغیر سوچے سمجھے اس کی تائید شروع کر دی اور اسلامی تعلیمات کو روندتے ہوئے اس کی اندھی تقلید میں اس حد تک چلی گئیں ہیں کہ اسلام سے انہیں نفرت ہونے لگی ہے۔

بدقسمتی کی بات تو یہ ہے کہ اس سے زیادہ متاثر ہماری پڑھی لکھی خواتین ہیں یعنی تعلیم کا مقصد شعور اور آگہی دلانا ہوتا ہے بلکہ موجودہ تعلیم نے تو ہماری بچیوں کو نافرمان بنا دیا۔ اس تعلیم نے تو ہمارے بچوں اور بچیوں کو عاشق مزاج بنا دیا، والدین کی عزتوں کو تار تار کر دیا، ایک وقت ایسا بھی تھا جہاں پر ہماری خواتین روشنیوں میں جاتیں تھیں لیکن وہ اندھی ہوا کرتیں تھی۔ میرے اس بات کے کہنے کا مطلب یہ ہے ہماری وہ خواتین ہمارے اردگرد کے ماحول سے کبھی بھی متاثر نہیں ہوا کرتی تھیں۔

انکی نگاہیں ہمیشہ اپنی راستے پر ہوتی تھیں اور ہمیشہ اپنی نگاہوں کو نیچا رکھا کرتی تھیں لیکن بدقسمتی سے ہماری نئی نسل آ گئی یعنی "نیو جینریشن" ہمارا نیا معاشرہ تشکیل پاتا گیا لیکن اب انہوں نے کافی ترقی تو کر لی بہت ہوشیار اپنے آپ کو وہ خواتین سمجھتی ہیں۔ ہماری یہ بچیاں اپنے آپ کو کافی عقل و فہم والی سمجھتی ہیں لیکن دوسری طرف اگر ہم ان کا پھر ان عورتوں کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں کہ جو میں نے ابھی کہا وہ روشنیوں میں جاتیں تھیں لیکن اندھی ہوا کرتی تھیں۔

اب معاملہ تھوڑا الٹ ہوگیا ہے اب ہماری خواتیں اندھی تو نہیں ہے انکی آنکھوں میں روشنی ہے اور اس کے باوجود وہ تاریکیوں میں جا رہی ہے۔ آج کے دور میں آپ لوگ دیکھ لیں جس طرح کے کرتوت ان کے ہیں تو ان کو اب یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ راستہ تاریکیوں کی جانب جا رہا ہے اس کے باوجود اللہ تعالٰی نے اس کو چھٹی حس بھی دی ہے، آنکھیں بھی دی ہیں لیکن ان لوگوں نے اپنے لیے جن راستوں کا انتخاب کیا ہے وہ تباہی و بربادی کے سوا کسی بھی جانب نہیں جاتا۔

لیکن پھر بھی یہ لوگ اپنے لیے اس راستے کو منتخب کرتے ہیں مطلب یہ ہوا جو ہمارے ہاں آج معاشرے کی صورتحال ہے دوبارہ میں یہ کہوں گا کہ اس میں مرد کا اتنا قصور نہیں کیونکہ میں نے ایسی بھی خواتین کو دیکھا ہے کہ جو اپنی عزت بچانے کے لیے اپنی جان قربان کر دیتی ہے لیکن آج ایسے بھی دیکھ رہے ہیں جو کہ اوروں کی عزتوں کو داؤ پر لگاتے ہیں۔ آج عورتیں آپ کو کئی روپوں میں نظر آئینگی اور ایسے خطرناک روپ انہوں نے دھارے ہوئے ہیں کہ ہر ایک روپ دوسرے روپ سے انتہائی بدترین ہے۔

تو پھر ہم یہی کہیں گے آج تک بہت سے شاعروں، ادیبوں اور اس کے علاوہ جتنے لوگوں نے قلم کو استعمال کیا اس میں انہوں نے ہمیشہ عورت کو ہی مظلوم ٹہرایا لیکن میں جو کالم لکھ رہا ہوں وہ یہ ہے کہ عورت کے ساتھ جو ظلم ہو رہا ہے اس میں مرد کا اتنا قصور نہیں جتنا خواتین کا ہے۔ کیونکہ عورت ہی عورت کی دشمن ہے عورت ہی مرد کی دشمن ہے اور عورت ہی اس معاشرے کی دشمن ہے۔ اگر ماں کی شکل میں دیکھ لیں بہن کی شکل میں یا کبھی اگر بیویوں کی شکل میں دیکھ لیں تو یہ سب رشتے کسی نہ کسی صورت میں ایک دوسرے کے دشمن نظر آئیں گے۔

پھر بھی ہم کہتے ہیں کہ اسلام نے جنت ماں کے قدموں میں ڈال دی۔ اسی طرح سے کہا گیا کہ بہترین انسان وہ ہے جس کو اچھی اور نیک بیوی ملے، پھر کہا گیا کہ آپکی بہنیں اللہ کی رحمت ہے، آپ کے لیے تحفہ خداوندی ہے۔ اللہ کی جانب سے آپ کے لیے اب اگر ان تینوں کا ہم اگر ذکر کرتے ہیں تو اسی تینوں رشتوں نے مرد کی زندگی وبال کر دی ہے اسی جنت نے مرد کی زندگی وبال کر دی اور اسی بہترین ساتھی نے مرد کی زندگی وبال کر دی ہے یعنی مرد آج ذہنی دباؤ کا شکار ہوگیا ہے نہ وہ ادھر کا رہا اور نہ اُدھر کا رہا ہے۔

دنیا میں جو سب سے پہلی غلطی جو ہمارے بابا آدم سے رونما ہوئی تو اس میں قصور کس کا تھا؟ بی بی ہوا کا اسی کے بہکانے پر آدم کو جنت سے نکالا گیا تو دنیا کی پہلی غلطی سرزد ہوئی اس میں مرد کا قصور نہیں تھا اس میں صرف اور صرف مرد کو مجبور کر دیا گیا تو ہمارے معاشرے میں مرد مجبور ہی رہا ہے اس بات کو تسلیم نہیں کرتے اور نہ کرینگے کہ مرد فرشتہ صفت ہے وہ کوئی غلط کام نہیں کرتا اور نہ کر سکتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں ایسے مرد بھی موجود ہیں جن کی حرکات انسانوں کی طرح نہیں ہوتی جو خواتین پر تشدد کرتے ہیں۔ شروع میں تو اس حقیقت یا یوں سمجھیں کہ مسئلے کی اس جڑ کا ذکر میں نے کیا کہ خواتیں کے ساتھ آج کے دور میں جو برا سلوک مرد کرتے ہیں ان کے ساتھ انسانی رویہ سے ماورا رویہ رکھتا ہے تو اس میں عورت ہی قصور وار ہے۔ بہت سے پڑھنے والے شاید اس تحریر اور اس میں لکھی ہوئی باتوں سے اتفاق نہیں کرینگے یا میرے ان الفاظ کو نظر انداز کریں گے لیکن دانشور کہتے ہیں کہ حقیقت بہت کڑوی ہوتی ہے۔

بعض دانشور یہ بھی کہتے ہیں کہ ہم جس چیز کو حقیقت سمجھتے ہیں یا ہم جن چیزوں کو دیکھتے ہیں اصل میں یہ حقیقت نہیں ہوتی بلکہ ایک سراب ہوتا ہے اور لوگ سراب کو حقیقت سمجھتے ہیں مردوں سے میں یہ کہوں گا کہ عورت کو سمجھنے کے بعد اس کے ساتھ ایسا رویہ اپنا رکھے جو کہ پچاس پچاس فیصد ہو نہ اس سے زیادہ ہو اور نہ کم نہ زیادہ نرمی رکھیں اور نہ زیادہ سختی کریں بلکہ درمیان میں رہے تب صحیح طریقے سے معاشرہ آگے جائے گا۔ آج کے دور میں معاشرہ جس جانب چل پڑا ہے وہاں ہر صرف تباہی اور بربادی ہے اس کے سوا کچھ نہیں۔

Check Also

Europe Walo, Aqal Ko Azaad Karo

By Rizwan Akram