Urdu Mein Nisabi Kutub, Behtareen Faisla
اردو میں نصابی کتب، بہترین فیصلہ

"اگر آپ کسی شخص سے اس زبان میں بات کرتے ہیں جو وہ سمجھتا ہے تو وہ بات اس کے دماغ تک جاتی ہے، لیکن اگر آپ اس سے اس کی اپنی مادری زبان میں بات کریں تو وہ اس کے دل میں اتر جاتی ہے"۔ (نیلسن منڈیلا)
پاکستان کے تعلیمی منظرنامے پر نظر ڈالیں تو ایک عجیب المیہ سامنے آتا ہے۔ ہم نے تعلیم کو "علم" کے بجائے "زبان" کے ترازو میں تولنا شروع کر دیا ہے۔ ہم اپنے بچوں کے کاندھوں پر انگریزی زبان کا ایسا بوجھ لاد چکے ہیں جس نے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو مفلوج کر دیا ہے۔ بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو وہ اپنی مادری زبان اردو یا کسی علاقائی زبان میں سوچتا، خواب دیکھتا اور سوال کرتا ہے، لیکن جیسے ہی وہ اسکول کی دہلیز پار کرتا ہے، اس پر ایک اجنبی زبان مسلط کر دی جاتی ہے۔
سائنس اور ریاضی جیسے منطقی مضامین کو انگریزی میں پڑھانا دراصل اس کے ذہن پر دوہرا بوجھ ڈالنا ہے۔ وہ اس کشمکش میں مبتلا رہتا ہے کہ پہلے مشکل انگریزی الفاظ کو سمجھے یا سائنسی تصورات کو سمجھے۔ نتیجتاً چوتھی اور پانچویں جماعت تک پہنچ کر بھی بہت سے بچے ایک سادہ پیراگراف درست طور پر پڑھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ ہم نے انہیں سائنسدان بنانا تھا، مگر ہم نے انہیں رٹا لگانے والی مشینیں اور انگلش کے مترجم بنا دیا ہے۔ یہ مسئلہ محض ایک تعلیمی کمزوری نہیں، بلکہ ایک قومی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
سرکاری اسکولوں میں برسوں سے چھوٹی جماعتوں سے بڑی جماعتوں تک سائنس اور ریاضی کی نصابی کتب انگریزی میں پڑھائی جا رہی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ بچوں کی بڑی تعداد بنیادی خواندگی سے بھی محروم ہے۔ کتاب سامنے رکھ دی جائے تو وہ سوال تک سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ یوں علم کا دروازہ ان پر عملاً بند ہو جاتا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ جاپان، چین، جرمنی، فرانس یا ترکی نے انگریزی اپنا کر ہرگز ترقی نہیں کی۔ جاپان نے ایٹمی تباہی کے بعد بھی اپنی زبان کو نہیں چھوڑا اور آج ٹیکنالوجی میں صفِ اول میں کھڑا ہے۔ چین اپنی زبان میں تعلیم دے کر سپر پاور بننے کے قریب ہے۔ جرمنی اور فرانس اعلیٰ ترین سائنسی تحقیق اپنی زبانوں میں کرتے ہیں، جبکہ ترکی نے اپنی زبان کو تعلیمی نظام کی بنیاد بنا کر ترقی کی رفتار تیز کی۔
اس کے برعکس ہم ایک ایسی بیساکھی کے سہارے چلنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ہمیں معذور بنا رہی ہے۔ انگریزی ذریعۂ تعلیم نے ہمارے معاشرے میں ایک گہری خلیج پیدا کر دی ہے، جہاں امیر اور غریب کے بچے الگ الگ تعلیمی دنیاؤں میں پروان چڑھ رہے ہیں۔ سرکاری اسکول کا ذہین بچہ بھی صرف زبان کی رکاوٹ کی وجہ سے پیچھے رہ جاتا ہے۔ اگر پرائمری سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک اردو کو ذریعۂ تعلیم بنایا جائے تو گاؤں کے کچے اسکول میں پڑھنے والا بچہ بھی وہی خواب دیکھ سکے گا جو شہر کے مہنگے اسکول کا طالب علم دیکھتا ہے۔
وزیرِ تعلیم پنجاب نے میٹرک کی کتب اردو میں شائع کرکے ایک قابلِ تحسین قدم اٹھایا ہے، جو یقیناً قوم کے بچوں کے لیے امید کی کرن ہے۔ ان کا یہ اقدام پوری قوم کے بچوں پر احسان ہے۔ تاہم یہ سفر ابھی نامکمل ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پرائمری سطح سے تمام کتب اردو میں شائع کی جائیں اور ثانوی و اعلیٰ تعلیم کو مرحلہ وار قومی زبان میں منتقل کیا جائے۔ پیشہ ورانہ تعلیم کے لیے بھی اردو میں معیاری مواد تیار کیا جائے۔ پرائمری تعلیم بچے کی بنیاد ہوتی ہے اور دنیا بھر میں اسے بچے کے ماحول کی زبان میں دیا جاتا ہے تاکہ وہ پڑھنا، لکھنا اور اظہارِ خیال بہتر انداز میں سیکھ سکے۔ یہی مضبوط بنیاد آگے چل کر اعلیٰ تعلیم کی عمارت کو سہارا دیتی ہے۔ ماہرینِ تعلیم اور نفسیات اس بات پر متفق ہیں کہ مادری زبان میں تعلیم بچے کی ذہنی نشوونما کو تیز کرتی ہے۔ اس میں بچہ بلا جھجھک سوال کرتا ہے، اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار کرتا ہے اور سیکھنے کے عمل سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ اس کے برعکس غیر زبان میں تعلیم اسے احساسِ کمتری اور ذہنی دباؤ کا شکار بنا دیتی ہے۔
یونیسکو سمیت عالمی اداروں کی تحقیق بھی یہی بتاتی ہے کہ جن بچوں کی ابتدائی تعلیم مادری زبان میں ہوتی ہے، وہ بعد میں دوسری زبانیں بشمول انگریزی زیادہ بہتر سیکھتے ہیں۔ انگریزی کی اہمیت سے انکار نہیں، مگر اسے بطورِ مضمون پڑھایا جائے، نہ کہ ذریعۂ تعلیم بنایا جائے۔ انگریزی بین الاقوامی رابطے اور جدید تحقیق تک رسائی کے لیے ضروری ہے، مگر اسے پرائمری سطح پر ذریعۂ تعلیم بنانا علمی زیادتی ہے۔ سائنس علم کا نام ہے، زبان کا نہیں۔ اگر کششِ ثقل کا قانون اردو میں سمجھایا جائے تو بچہ اسے زندگی بھر یاد رکھے گا، لیکن اگر اسے انگریزی کے پیچیدہ جملوں میں الجھایا جائے تو وہ صرف امتحان کے لیے رٹا لگائے گا۔ یہ فیصلہ محض تعلیمی نہیں بلکہ قومی بقا کا سوال ہے۔
اردو کا نفاذ بچوں کو احساسِ کمتری سے نکالے گا، علم کو عام فہم بنائے گا اور قومی وحدت کو مضبوط کرے گا۔ جیسا کہ کہا گیا ہے کہ "تعلیم وہ نہیں جو ذہن کو بوجھ تلے دبا دے، بلکہ تعلیم وہ ہے جو سوچنے کے نئے دریچے کھول دے"۔ اگر ہم واقعی ترقی چاہتے ہیں تو ہمیں "انگریزی غلامی" کے طوق کو اتارنا ہوگا۔ اردو صرف زبان نہیں، ہماری شناخت اور شعور کی ترجمان ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو انگریزی کا "ترجمان" نہیں بلکہ "عالم" بنائیں۔ اگر آج ہم نے یہ قدم نہ اٹھایا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی کہ ہم نے ایک پوری نسل کو الفاظ کے گورکھ دھندوں میں الجھا کر اس کا مستقبل ضائع کر دیا۔

