Cockroach Aur Keeray Makoray: Dono Taraf Aik He Kahani
کاکروچ اور کیڑے مکوڑے: دونوں طرف ایک ہی کہانی

دنیا بھر کے سوشل میڈیا پر انڈیا کی کاکروچ جنتا پارٹی کا چرچا ہے، جو صرف ایک جملے کے ردعمل میں وجود میں آئی اور ایک ہفتے سے بھی کم میں انسٹاگرام پر اس کے ساتھ 21 ملین لوگ جڑ چکے ہیں۔ 15 مئی 2026 کو انڈیا کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ "کچھ بے روزگار نوجوان "کاکروچ" اور "سوسائٹی کے طفیلے" کی طرح ہیں، جو کوئی کام نہ ملنے پر سوشل میڈیا، آر ٹی آئی (RTI) اور صحافت کے ذریعے سسٹم پر حملے شروع کر دیتے ہیں"۔
اس توہین آمیز بیان کے ردعمل میں ابھینند دیپکے نے طنز و مزاح کے طور پر "کاکروچ جنتا پارٹی" کی بنیاد رکھی۔ نوجوانوں نے اس طنز کو احتجاجی مہم بنا لیا کہ ہاں، ہم وہی کاکروچ ہیں جنہیں سسٹم پیروں تلے روندتا ہے۔ یہ ڈیجیٹل مہم اس قدر تیزی سے پھیلی کہ محض چند دنوں میں اس کے انسٹاگرام اکاؤنٹ (@cockroachjantaparty) پر دو کروڑ سے زیادہ فالوورز ہو چکے ہیں، جو وہاں کی حکمران جماعت بی جے پی سے بھی زیادہ ہیں۔ یہ ڈیجیٹل احتجاج کی وہ تحریک ہے جس نے مقتدر حلقوں کو بے روزگاری اور نوجوانوں کی حالتِ زار پر آئینہ دکھا دیا ہے۔
دنیا بھر میں اشرافیہ غریب عوام کو کاکروچ سمجھ کر مسل دیتی ہے، لیکن وہ نہیں جانتی کہ اگر یہ متحد ہو جائیں تو مقتدر طبقے کی طاقت تنکوں کی طرح بہہ جائے گی۔ کاکروچ نامی کیڑا بقا اور کبھی ختم نہ ہونے والی مزاحمت کی علامت ہے۔ یہ مخلوق شدید ترین بحرانوں، یہاں تک کہ تابکاری میں بھی زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اسے اکثر اس پسماندہ طبقے کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو ہر ظلم اور دباؤ کے باوجود ختم نہیں ہوتا۔ یہ بات اشرافیہ کو سمجھنی چاہیے کہ وہ کاکروچ سمجھے جانے والے عوام کو ختم نہیں کرسکتی اور کمزور عوام کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اگر وہ متحد ہو جائیں تو انہیں کوئی ختم نہیں کرسکتا۔
پاکستان کی صورتحال بھی مختلف نظر نہیں آتی۔ یہاں کا موروثی اور دیمک زدہ سیاسی نظام بھی نوجوانوں اور عوام کے حقوق بے دردی سے سلب کر رہا ہے۔ پاکستانی اشرافیہ اپنے عمل سے روز ثابت کرتی ہے کہ وہ عوام کو کیڑے مکوڑے اور کاکروچ ہی سمجھتی ہے۔ جہاں حکمرانوں کے پالتو جانوروں کو بھی پروٹوکول میسر ہو، وہاں غریب کے لیے تعلیم ایک عیاشی بنا دی گئی ہے۔ تعلیمی بجٹ کا بڑا حصہ بیوروکریسی اور وزراء کی شاہ خرچیوں کی نذر ہو جاتا ہے اور اب اپنی نااہلی چھپانے کے لیے سرکاری تعلیمی اداروں کو آؤٹ سورس کرکے غریب کے بچوں پر تعلیم کے دروازے مستقل بند کیے جا رہے ہیں۔ جو نوجوان والدین کے اثاثے بیچ کر اعلیٰ تعلیم حاصل کر بھی لیں، مارکیٹ میں ان کا استقبال صرف مایوسی کرتی ہے۔
ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں ہاتھوں میں تھامے نوجوان پکوڑوں کی ریڑھیاں لگانے پر مجبور ہیں۔ جب کوئی نوجوان اس ناانصافی پر آواز اٹھاتا ہے تو اسے شرپسند کہہ کر خاموش کرا دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کا سب سے بڑا المیہ برین ڈرین بن چکا ہے۔ قابل ترین ڈاکٹرز، انجینئرز اور آئی ٹی ماہرین انسانی اسمگلروں کے رحم و کرم پر سمندروں کی بے رحم لہروں کا شکار ہونے کے لیے بھی تیار ہیں، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ اس ملک کے مقتدر مگرمچھوں کے تالاب میں ان کی بقا نامکن ہے۔
انسان کو کمتر مخلوق سمجھنا تاریخ میں ہمیشہ ظلم کو آسان بنانے کا ذریعہ رہا ہے۔ پاکستان میں آئے روز عوام پر مہنگائی، ٹیکسوں اور بجلی و گیس کے بم گرا کر ان کا کچومر نکالا جا رہا ہے۔ انڈیا کے نوجوانوں نے علامتی طور پر ہی سہی، "کاکروچ جنتا پارٹی" بنا کر اپنی تذلیل کا جواب ایک منظم ڈیجیٹل تحریک سے دے دیا، لیکن پاکستان کے عوام ایک گہرے جمود کا شکار ہو کر ستم برداشت کرنے کو ہی اپنا مقدر سمجھ بیٹھے ہیں۔ ہمارے ہاں موروثی جونکیں اور نظام کو چاٹ جانے والی دیمک اس گمان میں ہے کہ وہ جب تک چاہیں گے، عوام کو پاؤں تلے روندتے رہیں گے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب کاکروچ سمجھے جانے والے انسانوں کو دیوار سے لگا دیا جائے تو ان کا اکٹھا ہونا ایک ایسے طوفان کو جنم دیتا ہے جس کے سامنے بڑے سے بڑے فرعونوں کے تخت و تاج بھی نہیں ٹک پاتے۔

