بلدیاتی انتخاب کے بعد کیئر اسٹارمر کی مشکل

رشی سوناک کی کنزرویٹو جماعت کو انتخابات میں شکست دیکر کیئر اسٹارمر جب وزیرِ اعظم منتخب ہوئے تو یہ توقع ظاہر کی گئی کہ نہ صرف ملک کو سیاسی استحکام نصیب ہوگا اور حکومت مدت پوری کرے گی بلکہ بنیادی مسائل بھی حل ہوں گے لیکن پیشے کے اعتبار سے قانون دان وزیرِ اعظم اہم عہدوں پر نامزدگیوں میں فاش غلطیوں اور یورپی یونین سے نوجوانوں کی نقل و حمل کے معاہدے سے عوام میں مشکوک ہوتے گئے۔ اب تو ایسی قیاس آرائیاں زوروں پر ہیں کہ شاید ہی منصب کی معینہ مدت پوری کر سکیں۔ یہ قیاس آرائیاں صرف حزبِ مخالف ہی نہیں اُن کی اپنی جماعت میں بھی جاری ہیں۔ رواں ماہ مئی کے بلدیاتی انتخاب سے ملک کا سیاسی نقشہ تبدیل ہوتا دکھائی دیتا ہے جن کے نتائج نے ثابت کردیا ہے کہ عوام موجودہ معاشی صورتحال اور نظام کو سخت ناپسند کرتے ہیں جس کے نتیجے میں عوامی اعتماد سے محرومی ہوئی۔
بلدیاتی انتخابات میں لیبر پارٹی سے اُس کے مضبوط گڑھ سمجھے جانے والے علاقے بھی تارکینِ وطن مخالف اور اور انتہاپسندانہ نظریات رکھنے والی جماعت ریفارم یوکے نے چھین لیے ہیں۔ ویلز سے تو لیبر پارٹی کا سوسالہ اقتدار ختم کر دیا ہے۔ یہ ایسا نقصان ہے جس کے اثرات پارلیمانی سیاست کو بھی متاثر کر یں گے۔ فی الوقت کیئر اسٹارمر نے انتخابی نتائج کو مشکل کہہ کر ذمہ داری قبول کر لی ہے لیکن یہ کہنا کہ وہ کہیں نہیں جارہے اور مایوس لوگوں کو امید دلانے کی ضرورت ہے۔ مخالفین کو خطرناک کہہ کرعوام کو درست راستہ اختیار نہ کرنے کی صورت میں ملک کے تاریک راہ پر گامزن ہونے کا خدشہ ظاہر کرنا اُن کی مایوسی کو ظاہر کرتا ہے۔ ملکی حالات اور عوامی رجحان سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت سے شہری مطمئن نہیں اور وہ جلد تبدیلی کے متمنی ہیں۔
دیگر عالمی اقوام کی طرح برطانیہ کو بھی معاشی مسائل کا سامنا ہے مگر وزارتِ اعظمیٰ کا منصب سنبھال کر کئیر اسٹارمر اِس طرف خاطر خواہ توجہ نہیں دے سکے شاید عالمی سطح پر نام بنانے کے چکر میں پڑ گئے۔ اب جبکہ بلدیاتی انتخاب میں عوام نے عدمِ اعتماد کردیا ہے تو وہ اہم اِدارے کو قومی ملکیت میں لینے کے لیے ضروری قانون سازی کی یقین دہانی کرانے لگے ہیں لیکن اُن کے کام کی سُست رفتار کو عوام پسند نہیں کرتے۔ بریگزٹ سے برطانیہ کے کمزور ہونے کا دلائل سے محروم لہجے میں اعتراف کرتے ہیں۔ چھوٹی کشتیوں پر سوار ہوکر فرانس سے برطانیہ داخل ہوتے افراد جن کی تعداد رواں برس دو لاکھ تک آپہنچی ہے جیسا مسئلہ حل کرنے میں بھی ناکام رہے ہیں۔
ایک طرف قانونی طور پر ملک میں غیر ملکیوں کے داخلے کو مشکل بنادیا ہے لیکن غیر قانونی طور پر داخل ہونے والوں سے مسلسل چشم پوشی عوام کو اچھی نہیں لگی۔ سماجی بہبود کے منصوبوں پر کٹوتیوں سے عام آدمی کی مشکلات بڑھائیں اور کاروباری افراد کی زندگی ٹیکسوں میں اضافے سے اجیرن کی اسی بنا پر لوگ سمجھتے ہیں کہ فریبی نے وزیرِ اعظم بننے کے لیے عوام کو فریب دیا روزگار بڑھانے کابھی کوئی وعدہ پورا نہیں کر سکے۔ اِس کا غصہ بلدیاتی انتخاب میں ظاہر ہوا جس سے نہ صرف لیبر پارٹی کا زوال نواشتہ دیوار ہے بلکہ ملک میں کیئر اسٹارمر کے استعفے کی خبر سُننے کا انتظار بھی ہونے لگا ہے۔
بلدیاتی انتخاب سے پارلیمانی حثیت تو متاثر نہیں ہوتی لیکن اخلاقی اور اصولی طور پر دیکھا جائے تو یہ نتائج بہت اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ عوامی رجحانات سے آگاہی ملی ہے۔ اب ریفارم یوکے پارٹی اور گرین پارٹی کو منظم اور مضبوط ہونے کا موقعہ ملے گا اِس کے ساتھ یہ جماعتیں حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے عوام کو بھی منظم کر سکتی ہے لہذا کیئر اسٹارمر لاکھ یقین دہانی کرائیں کہ وہ کہیں نہیں جارہے زمینی حقائق یہ ہیں کہ جلد ہی اُنھیں نہ چاہتے ہوئے بھی منصب کو خیر باد کہنا ہوگا۔ اب یہ اُن پر منحصر ہے عزت سے رُخصت ہو تے ہیں یا پھر تذلیل کا انتظار کریں گے۔ ایک قانون دان تو یہی چاہے گا کہ عزت سے رخصت ہو اگر ایسا کوئی خیال کیئر اسٹارمر کے ذہن میں ہے تو جلد ہی انھیں فیصلہ کرنا ہوگا کیونکہ تاخیر سے عوامی نفرت میں اضافہ ہوگا۔ ریفارم یوکے پارٹی بلدیاتی انتخاب میں لیبر پارٹی کو پچھاڑ کر جس طرح ایک بڑی اور موثر سیاسی طاقت کی صورت میں سامنے آئی ہے کے پیشِ نظر کہا جا سکتا ہے کہ بلدیاتی انتخابی نتائج کی طرح پارلیمان کے انتخاب میں بھی غیر متوقع دھماکہ کر سکتی ہے۔
کئیر اسٹارمر کا حکومتی جماعت کی ناکامی پر کارکردگی اور پالیسی کا ازسرے نو جائزہ لینے کا عندیہ بظاہر خوش آئند ہے لیکن اب کھوئی مقبولیت بحال ہونے کا امکان کم ہے۔ قوم پرست جماعتوں اور دائیں بازو کی جماعت یفارم یوکے کی کامیابی لیبر پارٹی کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔ ملک کے اہم ترین شہر چھن چکے ہیں موجودہ صورتحال کو اپنے حق میں بہتر اور جماعت پر گرفت مضبوط کرنے کے لیے سابق وزیرِ اعظم گورڈن براؤن اور سینئر مزدور رہنما ہرئیٹ مان کو مشیر بنایا گیا ہے لیکن قیاس ہے کہ اپوزیشن جماعتیں تو مخالفت کریں گی ہی، لیبر پارٹی میں بھی بغاوت زور پکڑے گی کیونکہ رہنما نے جماعت کو جس عدم مقبولیت کی اتھاہ گہرائیوں میں گرا دیا ہے اُس پر صبروتحمل کا مظاہرہ شاید ہی کوئی کرے۔
بریگزٹ کی حامی نائجل فراج عورت ہیں جنھوں نے ہمیشہ مضبوط لہجے اور دلائل سے بات کی لیکن کیئر اسٹارمر مخمصے کا شکار لگتے ہیں۔ اسرائیل بارے بھی ایسا موقف اپنانے میں ناکام رہے جس سے تاثر ملے کہ عوام کا رشی سوناک کی چودہ سال سے برسر اقتدار جماعت کو رُخصت کرنا تبدیلی ہے۔ کیئر اسٹارمرکے فیصلے کرتے وقت اعصاب شکستہ لگے ہر امریکی اور اسرائیلی اقدام کی تائید بھی اُنھیں عوامی حلقوں میں غیر معتبر ٹھہرانے کا موجب بنی۔ اسی لیے کہاجانے لگا ہے کہ اگر لیبر پارٹی نے اقتدار برقرار رکھنا ہے تو اُسے کچھ نیا اور منفردکام کرنا ہوگا جس سے ملک اور عوام کی معاشی حالت بہتر ہو۔
کاروباری افراد پربغیر سوچے سمجھے ٹیکسوں کا بوجھ کم ہو غیر قانونی تارکینِ وطن کی آمد کے سیلاب کی بندش ہو سماجی بہبود کے منصوبوں پر کٹوتیوں میں کمی اور روزگار کے مواقع بڑھیں وگرنہ نئی مشکل کا سبق یہی ہے کہ جی کا اب جانا ٹھہر گیا ہے جس کے بعد یورپی یونین کے ساتھ نوجوانوں کی نقل و حمل کا معاہدہ بے جان ہو سکتا ہے کیونکہ نئے حالات سے یورپی یونین کی برطانیہ میں دلچسپی کم ہوگی۔ برطانیہ میں طاقت کا توازن اِس حد تک تبدیل ہوگیا ہے کہ یہ ملک پارلیمانی مرکز کی بجائے چھوٹی چھوٹی قوتوں میں تبدیل ہو سکتا ہے جس کے نتائج کسی صورت ملک کے لیے بہتر نہیں ہو سکتے۔ علاوہ ازیں تارکینِ وطن جن کا برطانیہ کی ترقی میں اہم کردار ہے اُنھیں ملک میں داخلے کے لیے نئی بندشوں اور رکاوٹوں کے سمندر عبور کرنا ہوں گے۔

