Monday, 09 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Zubair Aslam Baloch
  4. Insan Akhir Kis Cheez Se Mutmain Hota Hai?

Insan Akhir Kis Cheez Se Mutmain Hota Hai?

انسان آخر کس چیز سے مطمئن ہوتا ہے؟

انسانی تاریخ کا سب سے پرانا، سب سے ضدی اور سب سے زیادہ دھوکہ دینے والا سوال شاید یہی ہے کہ آخر وہ کیا چیز ہے جو انسان کو اندر سے مطمئن کرتی ہے، دل میں اترنے والی خوشی دیتی ہے اور ایک ایسی کیفیت پیدا کرتی ہے جس میں وہ خود سے جنگ بند کر دیتا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ انسان نے چاند تک رسائی حاصل کر لی، ایٹم توڑ دیا، مصنوعی ذہانت بنا لی، مگر اب تک اس سوال کا ایک سادہ سا، سب پر لاگو ہونے والا جواب دریافت نہیں کر سکا۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ انسان ایک حیاتیاتی مشین بھی ہے، ایک نفسیاتی معمّا بھی، ایک سماجی مخلوق بھی اور ایک کہانی سنانے والی روح بھی۔

سائنس کی ورق گردانی سے معلوم ہوتا ہے کہ خوشی کا ایک حیاتیاتی ڈھانچہ ہے۔ دماغ میں ڈوپامین، سیروٹونن اور آکسیٹوسن جیسے کیمیکلز ہماری کیفیات کو ترتیب دیتے ہیں۔ جب ہم کوئی مقصد حاصل کرتے ہیں تو ڈوپامین انعام کی طرح جاری ہوتا ہے، جب ہم سماجی تعلق میں محفوظ محسوس کرتے ہیں تو آکسیٹوسن قربت کا احساس بڑھاتا ہے، جب زندگی میں توازن اور اطمینان ہوتا ہے تو سیروٹونن اپنا کردار ادا کرتا ہے۔ مگر یہی سائنس یہ بھی کہتی ہے کہ انسان "ہیڈونک ٹریڈ مل" پر دوڑتا رہتا ہے: نئی گاڑی، نیا گھر، نئی کامیابی، چند دنوں کی خوشی، پھر وہی "بیس لائن" گویا مادی کامیابی خوشی دیتی ہے، مگر عارضی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دولت بے معنی ہے، غربت ذہنی دباؤ، بیماری اور عدم تحفظ لاتی ہے، جو خوشی کے بنیادی ڈھانچے کو ہی ہلا دیتی ہے۔ لیکن ایک حد کے بعد دولت خوشی میں اضافہ نہیں کرتی، بلکہ اکثر اضطراب بڑھا دیتی ہے، کھونے کا خوف، مقابلے کا جنون اور تنہائی۔

تاریخ میں جھانکیں تو ہمیں دو متوازی دھارے نظر آتے ہیں۔ ایک وہ لوگ جنہوں نے طاقت اور دولت کو خوشی سمجھا اور دوسرے وہ جنہوں نے سادگی اور معنی کو۔ سکندر اعظم نے آدھی دنیا فتح کی مگر جوانی میں ہی بے چینی اور بیماری کے ساتھ مر گیا۔ رومی شہنشاہ مارکس اوریلیس، جس کے پاس طاقت بھی تھی، اپنی ڈائری "میڈیٹیشن" میں خود کو مسلسل یاد دلاتا ہے کہ اصل سکون اندرونی نظم و ضبط اور کائناتی ترتیب کو قبول کرنے میں ہے۔ مہاتما بدھ نے شاہی محل چھوڑ کر دکھ کا مشاہدہ کیا اور نتیجہ نکالا کہ خواہش کی اندھی دوڑ ہی دکھ کی جڑ ہے۔ مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ بدھ نے خواہش کو ختم کرنے کا نہیں، اس کے ساتھ تعلق بدلنے کا راستہ دکھایا، یعنی چیزوں کو عارضی سمجھ کر ان سے لپٹنے کے بجائے ان کا مشاہدہ کرنا۔

فلسفہ اس سوال کو مختلف زاویوں سے دیکھتا ہے۔ ارسطو نے "یودیمونیا" کا تصور دیا یعنی ایسی زندگی جو محض لذت نہیں بلکہ فضیلت، مقصد اور عقل کے مطابق عمل سے بھرپور ہو۔ اس کے نزدیک اچھا انسان بننے کی مسلسل کوشش ہی حقیقی مسرت ہے۔ ایپی کیورس نے کہا کہ خوشی سادہ لذتوں، دوستی اور خوف سے آزادی میں ہے، نہ کہ شاہانہ عیش میں۔ اسٹوئکس کہتا ہے کہ جو ہمارے اختیار میں ہے اس پر محنت کرو، جو نہیں اس کو قبول کرو، یہی ذہنی آزادی ہے۔ جدید دور میں وکٹر فرینکل، جو نازی کیمپوں سے بچ نکلا، کہتا ہے کہ انسان کو زندہ رکھنے والی طاقت خوشی نہیں، "معنی" ہے۔ جب زندگی کا کوئی مقصد ہو، چاہے تکلیف میں ہی کیوں نہ ہو انسان برداشت کر لیتا ہے۔

لٹریچر اس سچ کو کہانیوں میں ڈھالتا ہے۔ ٹالسٹائی کی کہانیاں پڑھ کے لگتا ہے کہ دولت مند کردار اکثر روحانی خلا کا شکار ہوتے ہیں، جبکہ ایک سادہ کسان اپنے کام اور ایمان میں زیادہ سکون پاتا ہے۔ اقبال خودی کی تعمیر کو اصل مسرت کہتے ہیں، ایسی خودی جو خدمت، جستجو اور مقصد سے روشن ہو۔ غالب کی شاعری میں بھی یہ کرب موجود ہے کہ انسان خواہشوں کا قیدی ہے، مگر شعور کی روشنی اسے اپنی کیفیت کا تماشائی بھی بنا دیتی ہے۔ کبھی کبھی لگتا ہے کہ خوشی سیدھی لکیر نہیں، ایک داستان ہے جس میں دکھ بھی معنی کا حصہ ہوتا ہے۔

معاشرتی زاویے سے دیکھیں تو انسان تنہا خوش نہیں رہ سکتا۔ جدید نفسیات کی طویل المدتی تحقیقات جن میں لوگوں کو دہائیوں تک فالو کیا گیا، باریک بینی سے ان کا مشاہدہ کیا جائے تو لگتا ہے کہ مضبوط تعلقات خوشی کا سب سے بڑا پیش گو ہیں۔ نہ شہرت، نہ دولت، نہ آئی کیو بلکہ یہ کہ آپ کے پاس کوئی ہے جس کے سامنے آپ اپنا اصل چہرہ رکھ سکیں۔ خاندان، دوستی، کمیونٹی، یہ سب ذہنی صحت کے حفاظتی حصار ہیں۔ سوشل میڈیا کی لائکس آکسیٹوسن کا متبادل نہیں بن سکتیں۔ انسان کو سکرین نہیں، نظر کی گرمی چاہیے۔

امیر اور کامیاب لوگوں کے تجربات بھی دلچسپ ہیں۔ کئی بڑے صنعتکار اور فنکار اپنی زندگی کے آخری حصے میں اعتراف کرتے ہیں کہ کامیابی کی دوڑ نے انہیں وقتی سرور دیا، مگر اصل سکون تب آیا جب انہوں نے کسی بڑے مقصد سے خود کو جوڑا، فلاحی کام، علم، یا آنے والی نسلوں کے لیے کچھ چھوڑ جانا۔ کچھ سرمایہ دار کہتے ہیں کہ پہلی کامیابی خوشی دیتی ہے، دسویں صرف دباؤ۔ کچھ فنکار کہتے ہیں کہ شہرت نے انہیں لوگوں کے قریب نہیں بلکہ دور کر دیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کامیابی بری ہے، بلکہ یہ کہ اگر اس کے ساتھ معنی اور تعلق نہ ہو تو وہ کھوکھلی ہو جاتی ہے۔

سائنس ایک اور اہم بات کہتی ہے، خوشی ایک ہدف نہیں، ضمنی اثر ہے۔ جب انسان کسی ایسے کام میں ڈوب جاتا ہے جو اس کی صلاحیت اور چیلنج کے درمیان توازن رکھتا ہو جسے "فلو" کہا جاتا ہے، تو وقت کا احساس کم ہو جاتا ہے اور ایک گہرا اطمینان پیدا ہوتا ہے۔ یہ کسی سرجن کے آپریشن میں، کسی شاعر کے مصرع تراشنے میں، کسی بڑھئی کے لکڑی پر رندہ چلانے میں بھی ہو سکتا ہے۔ گویا خوشی اکثر اس وقت آتی ہے جب انسان خود کو بھول جاتا ہے۔

پھر روحانیت کا پہلو ہے۔ چاہے مذہبی زبان میں ہو یا غیر مذہبی، انسان کو ایک بڑے تناظر کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسا احساس کہ اس کی زندگی صرف کھانا، کمانا اور مر جانا نہیں۔ دعا، مراقبہ، شکرگزاری اور خاموشی یہ سب ذہن کے شور کو کم کرکے انسان کو اپنے اندر کے مرکز سے جوڑتے ہیں۔ شکرگزاری کی مشق پر ہونے والی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جو لوگ باقاعدگی سے ان چیزوں کو نوٹ کرتے ہیں جن پر وہ شکر گزار ہیں، ان میں خوشی اور اطمینان کی سطح زیادہ ہوتی ہے۔ گویا توجہ کی سمت کیفیت بدل دیتی ہے۔

آخرکار سوال یہ نہیں کہ انسان کو کیا خوش کرتا ہے، بلکہ یہ کہ وہ کس قسم کا انسان بننا چاہتا ہے۔ اگر وہ خوشی کو پکڑنے کی چیز سمجھے گا تو وہ ریت کی طرح ہاتھ سے پھسلتی رہے گی۔ اگر وہ اسے ایک طرزِ زندگی کا نتیجہ سمجھے جس میں معنی، تعلق، توازن، جسمانی صحت، ذہنی نظم و ضبط اور کسی بڑے مقصد سے وابستگی شامل ہو تو خوشی خود راستہ ڈھونڈ لیتی ہے۔ انسان کو مکمل اطمینان شاید کبھی نہیں ملتا اور شاید یہی اس کی تخلیقی بے چینی کا راز ہے۔ مگر وہ ایک ایسا سکون ضرور پا سکتا ہے جس میں وہ اپنے دکھ کے ساتھ بھی امن میں ہو۔

یوں لگتا ہے کہ انسان کو مطمئن کرنے والی چیز کوئی ایک شے نہیں، بلکہ ایک ہم آہنگی ہے، دماغ کے کیمیکلز کی، دل کے رشتوں کی، عقل کے معنی کی اور روح کے سکوت کی۔ جب یہ چاروں ایک دوسرے سے لڑنے کی بجائے ساتھ چلنے لگیں تو انسان پہلی بار محسوس کرتا ہے کہ وہ صرف زندہ نہیں بلکہ بامعنی طور پر زندہ ہے۔ شاید خوشی کوئی منزل نہیں، بلکہ یہ احساس ہے کہ ہم اپنی کہانی درست سمت میں لکھ رہے ہیں اور یہی احساس کہ زندگی رائیگاں نہیں جا رہی، انسان کو اندر سے مطمئن کر دیتا ہے۔

Check Also

Muhammad Arif Jan Ke Sunehri Huroof

By Javed Ayaz Khan