Monday, 09 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mushtaq Ur Rahman Zahid
  4. Aalmi Muahide, Pakistan Ki Uran Bulandion Par

Aalmi Muahide, Pakistan Ki Uran Bulandion Par

عالمی معاہدے، پاکستان کی اڑان بلندیوں پر

پاکستان کی ترقی کا خواب شاید اب حقیقت کا روپ دھارنے جا رہا ہے، یہ وہ خواب ہے جو ہم برسوں سے دیکھتے آ رہے ہیں، وہ خواب جو ہر پاکستانی کے دل میں کسی نہ کسی صورت زندہ رہا ہے۔ ملک کے مختلف مسائل، معاشی مشکلات، سیاسی اتار چڑھاؤ اور عالمی دباؤ کے باوجود ہم نے امید کا دامن کبھی مکمل طور پر نہیں چھوڑا۔ ہم ایک طویل عرصے سے اس انتظار میں آئے ہیں کہ آخر وہ دن کب آئے گا جب پاکستان حقیقی معنوں میں خوشحالی کی راہ پر گامزن ہوگا، جب ترقی محض نعروں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ عملی صورت میں ہر شہری کی زندگی میں نظر آئے گی اور جب عالمی سطح پر پاکستان کو ایک ترقی یافتہ، باوقار اور مضبوط ملک کے طور پر تسلیم کیا جائے گا۔

یہ خواب کسی ایک فرد، طبقے یا حکومت کا نہیں بلکہ پوری پاکستانی قوم کا مشترکہ خواب ہے۔ آج اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے حالات اس جانب اشارہ دے رہے ہیں کہ اس خواب کی تعبیر کا آغاز ہو چکا ہے۔ اگرچہ سفر طویل ہے اور چیلنجز اب بھی موجود ہیں، مگر سمت درست دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستان اب عالمی منظرنامے پر محض ایک مسائل زدہ ملک کے طور پر نہیں بلکہ ایک ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر اپنی پہچان بناتا جا رہا ہے اور یہی وہ تبدیلی ہے جو آنے والے وقت میں پاکستان کو دنیا کے لیے ایک روشن مثال بنا سکتی ہے۔

خصوصی طور پر اگر دفاعی شعبے پر نظر ڈالی جائے تو پاکستان نے جس مہارت، خود انحصاری اور تکنیکی برتری کا مظاہرہ کیا ہے، وہ دنیا کے بہت سے ممالک کے لیے باعثِ حیرت ہے۔ محدود وسائل کے باوجود پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو اس سطح تک پہنچایا ہے کہ آج عالمی طاقتیں بھی اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اب دفاعی معاہدات کے حوالے سے عالمی سطح پر ایک اہم اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر ابھر رہا ہے۔ وہ ممالک جو کبھی پاکستان کو نظرانداز کرتے تھے، آج اس کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں اور مختلف شعبہ جات میں تعاون کے خواہاں نظر آتے ہیں۔

ایک وقت تھا جب پاکستان کو ترقی پذیر ممالک کی فہرست میں رکھ کر اس کی صلاحیتوں کو محدود سمجھا جاتا تھا۔ عالمی معاہدات ہوں یا اقتصادی شراکت داری، پاکستان کو خاطر خواہ اہمیت نہیں دی جاتی تھی۔ مگر آج حالات یکسر بدل چکے ہیں۔ دنیا کے مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے ممالک پاکستان کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔ ہر ملک چاہتا ہے کہ تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں پاکستان کے ساتھ شراکت داری قائم کی جائے اور یہی حقیقت پاکستان کی بدلتی ہوئی عالمی حیثیت کا واضح ثبوت ہے۔

اسی تناظر میں بدھ کے روز پاکستان اور قازقستان کے درمیان ہونے والے اہم معاہدات نہایت معنی خیز ہیں۔ دونوں ممالک نے تجارت اور اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کے لیے پانچ سالہ روڈ میپ پر اتفاق کیا ہے جب کہ آئندہ دو سال میں دوطرفہ تجارتی حجم کو ایک ارب ڈالر تک لے جانے کا عزم ظاہر کیا گیاہے۔ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، تعلیم، صحت، کھیل، ریلوے، ماحولیاتی تبدیلی، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ترقی جیسے اہم شعبوں میں 37 مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کیے گئےاور 19 دستاویزات کا تبادلہ ہوا اس کے ساتھ ساتھ پاکستان سے روس تک ایک اقتصادی کاریڈور کی تعمیر کا منصوبہ بھی خطے میں نئے معاشی امکانات کے دروازے کھول سکتا ہے۔

اس حوالے سے وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہونے والی پروقار تقریب میں وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور قازقستان کے صدر قاسم جومارت توکایف نے معاہدوں پر دستخط کیے۔ قازقستان کے صدر کا یہ اعتراف کہ دفاعی شعبے میں پاکستان کی ترقی عالمی سطح پر تسلیم کی جاتی ہے، نہ صرف پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ پاکستان کی کوششیں اب عالمی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔ خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کا کردار اور قازقستان کے ساتھ اسٹریٹیجک شراکت داری مستقبل میں مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔

اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے اگلے ہی روز جمعرات کو پاکستان اور ازبکستان کے درمیان بھی دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے 29 اہم معاہدات طے پائے۔ ان معاہدات میں تجارت، آئی ٹی، زراعت، غذائی تحفظ، کانکنی، عوامی روابط، دفاعی تعاون، ماحولیاتی تبدیلی، کھیل، ثقافت، ادویات سازی اور انسدادی منشیات جیسے اہم شعبے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کراچی، گوادر اور پورٹ قاسم کی بندرگاہوں پر کارگو کنٹینرز سے متعلق تعاون بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی جان ڈال سکتا ہے۔

وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور ازبکستان کے صدر شوکت مرزائیوف نے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے، جب کہ اسلام آباد میں تاشقند اسٹریٹ اور بابر پارک کی یادگاری تختیوں کی نقاب کشائی بھی کی گئی۔ ازبکستان کے صدر نے عالمی اور علاقائی امور پر پاکستان کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے کے عزم کا اظہار کیا، جب کہ وزیراعظم پاکستان نے ازبکستان، افغانستان، پاکستان ریلوے منصوبے کو وسطی ایشیا اور پاکستانی سمندری بندرگاہوں کے درمیان علاقائی روابط کا ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ دونوں ممالک نے آئندہ پانچ سال میں دوطرفہ تجارتی حجم کو دو ارب ڈالر تک بڑھانے پر بھی اتفاق کیا، جو معاشی استحکام کی جانب ایک مضبوط قدم ہے۔

گزشتہ کچھ عرصے میں پاکستان سے لیبیا، انڈونیشیا، ترکی، سعودی عرب، بنگلہ دیش اور عراق سمیت کئی ممالک نے دفاع اور دیگر شعبوں میں اہم معاہدات کیے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ ممالک پسِ پردہ بھی پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں، جن کے اعلانات وقت آنے پر منظرِ عام پر آئیں گے۔ یہ تمام پیش رفت اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ پاکستان اب عالمی سطح پر تنہائی کا شکار نہیں بلکہ ایک فعال، مؤثر اور باوقار ملک کے طور پر ابھر رہا ہے۔

ان تمام حالات کو مدنظر رکھا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پاکستان اب وہ پاکستان نہیں رہا جسے دنیا چند برس پہلے تک جانتی تھی۔ پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں پاکستان کی قابلِ فخر کارکردگی اور مؤثر دفاعی صلاحیتوں نے عالمی دنیا کو اس حقیقت کا اعتراف کرنے پر مجبور کر دیا ہے کہ پاکستان کو اب نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان نہ صرف برابری کی سطح پر کھڑا ہے بلکہ اس کی اڑان پہلے سے کہیں زیادہ بلند ہو چکی ہے۔ اگر یہی سمت برقرار رہی تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان عالمی سطح پر ایک مضبوط، مستحکم اور ترقی یافتہ ملک کے طور پر اپنی پہچان مکمل طور پر قائم کر لے گا۔

Check Also

Muhammad Arif Jan Ke Sunehri Huroof

By Javed Ayaz Khan