Andha Safar, Zindagi Ke Maani Aur Maqsad
اندھا سفر، زندگی کے معنی اور مقصد
بچپن سے لے کر آج تک ہمیں زندگی گزارنے کے بے شمار اصول اور تعلیمات سکھائی جاتی ہیں۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ بڑوں کا ادب کیسے کرنا ہے، چھوٹوں سے شفقت کا برتاؤ کیوں ضروری ہے، سچ بولنا، محنت کرنا اور ذمہ داری نبھانا کس طرح انسان کو معاشرے میں باوقار بناتا ہے۔ مگر ان تمام تعلیمات کے باوجود ایک حقیقت ایسی ہے جو اگر ہماری زندگی میں شامل نہ ہو تو نہ صرف زندگی گزارنا مشکل ہو جاتا ہے بلکہ با مقصد زندگی گزارنا بھی ناممکن سا محسوس ہونے لگتا ہے۔ یہ کوئی مشکل، پیچیدہ یا فلسفیانہ تعلیم نہیں، بلکہ ایک نہایت سادہ مگر انتہائی گہرا احساس ہے۔ اس کی اہمیت بیان کرنا ایسا ہی ہے جیسے انسان کو زندہ رہنے کے لیے آکسیجن کی ضرورت سمجھانا اور وہ حقیقت اللہ سے محبت ہے۔
اللہ سے محبت کے بغیر انسان کو نہ حقیقی سکون میسر آتا ہے اور نہ ہی زندگی میں کوئی واضح سمت ملتی ہے۔ یہی محبت انسان کے دل کو زندگی بخشتی ہے اور یہی احساس انسان کی فنا اور بقا کے درمیان فرق طے کرتا ہے۔ جب دل اللہ سے جڑ جاتا ہے تو آزمائشیں بھی معنی خیز لگنے لگتی ہیں اور مشکلات راستے کی رکاوٹ کے بجائے تربیت کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔
ہمیں بچپن میں غلط کاموں پر ڈانٹا جاتا ہے، صحیح اور غلط میں فرق سمجھایا جاتا ہے، مگر کیا کبھی ہمیں اس بات پر متنبہ کیا گیا کہ ہم اللہ سے اس کے حق کے مطابق محبت کیوں نہیں کرتے؟ کیا ہماری زندگی کے سکھائے گئے اسباق میں کہیں یہ سبق بھی شامل تھا کہ اللہ سے محبت کرنا بھی سیکھنا پڑتا ہے؟
اکثر ان سوالات کا جواب نفی میں ہوتا ہے، کیونکہ یہی ہماری اجتماعی حقیقت ہے۔
ہمیں یہ تو کہا گیا کہ محنت کرو، آگے بڑھو، اپنے خواب پورے کرو، مگر یہ کم ہی بتایا گیا کہ اللہ سے محبت اور اس پر کامل بھروسا کیے بغیر کی گئی محنت نہ مکمل ثمر دیتی ہے اور نہ ہی دل کو سکون عطا کرتی ہے۔ اصل کامیابی محض ظاہری حصول کا نام نہیں، بلکہ وہ کامیابی ہے جو دل کے اطمینان کے ساتھ نصیب ہو اور ایسا اطمینان صرف اللہ سے جڑ کر ہی حاصل ہوتا ہے۔
کامیابی دراصل اللہ سے جڑی ہوئی ہے اور وہ اسی کو عطا ہوتی ہے جو اس کی رضا کے ساتھ کوشش کرتا ہے۔ اللہ کی چاہ شامل نہ ہو تو بڑی سے بڑی جدوجہد بھی کھوکھلی محسوس ہونے لگتی ہے اور اگر اللہ راضی ہو تو چھوٹی سی کوشش بھی بامعنی بن جاتی ہے۔
اگر آپ آج یہ سطور پڑھ رہے ہیں تو ایک لمحے کے لیے رک کر خود سے یہ سوال ضرور کیجیے کیا آپ کی زندگی میں اللہ واقعی مرکز میں ہے؟ آپ کا اللہ سے تعلق کتنا مضبوط ہے؟ آپ اس ذات پر کتنا بھروسا کرتے ہیں جو دلوں کے حال جانتی ہے؟ اور سب سے بڑھ کر، آپ کے دل میں اللہ سے ملاقات کا کتنا شوق زندہ ہے؟
یہ سوالات محض سوچ کا حصہ نہیں، بلکہ زندگی کی سمت متعین کرتے ہیں۔ یہی سوال انسان کو اس کی اصل پہچان کی طرف لے جاتے ہیں اور یہی اللہ سے محبت کی طرف پہلا اور سب سے اہم قدم ہوتے ہیں۔

