Saturday, 28 February 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Toqeer Bhumla
  4. Waiz Jisne Patang Urai, Magar Apni Marzi Se Nahi

Waiz Jisne Patang Urai, Magar Apni Marzi Se Nahi

واعظ جس نے پتنگ اڑائی، مگر اپنی مرضی سے نہیں

ایک واعظ کو رفتہ رفتہ یہ احساس ہونے لگا کہ اس کا خطبہ لوگوں پر وہ اثرات مرتب نہیں کر پارہا جس کی اسے توقع تھی۔ کلیسا میں لوگ عبادت کے بعد نہ تو اس کے پاس آ کر کھڑے ہوتے، نہ اس کی تعریف میں مبالغہ آمیز جملے اچھالتے اور نہ ہی اسے یہ جتاتے کہ اس کی ذات اور وعظ میں کوئی خاص کشش ہے۔ واعظ کو گمان ہوا کہ اس کی غیر موجودگی میں لوگ اس پر خاموشی سے انگلی اٹھاتے ہیں۔

اسے پورا یقین ہو چلا تھا کہ اس کے وعظ میں کہیں نہ کہیں بنیادی نقص موجود ہے۔

حالانکہ ایک مدت سے وہ پوری نیک نیتی سے خطبہ دے رہا تھا۔ وہ بات صاف، سیدھی اور بغیر کسی الجھاؤ کے کہتا، بین الاقوامی حوالوں سے پرہیز کرتا، مثالوں میں انہی تاریخی شخصیات کا ذکر لاتا جو مقامی ہوں یا سامعین کے لیے مانوس ہوں، لاطینی اور فلسفیانہ الفاظ کے بجائے قدیم، مختصر اور ٹھوس انگریزی لفظ استعمال کرتا اور فکری سطح کو جان بوجھ کر اسی حد تک محدود رکھتا جہاں تک وہ لوگ پہنچ سکتے تھے جو چندہ دے کر اس کی تنخواہ ادا کرتے تھے۔

لیکن کلیسا کے بنچوں پر بیٹھے لوگ مطمئن نہ تھے۔ وہ اس کی ہر بات سمجھ لیتے تھے اور یہی بات ان کے لیے ناقابلِ برداشت تھی۔ انہیں یوں لگنے لگا تھا کہ واعظ حد سے زیادہ عام، حد سے زیادہ قابلِ فہم ہے۔

چنانچہ اس نے صورتِ حال پر گہرا غور کیا اور ایک سادہ مگر مؤثر نتیجے پر پہنچا۔

اگر اسے لوگوں کو متاثر کرنا ہے، اگر اسے خاص، نرالا اور بڑا مبلغ بننا ہے، تو اسے خطبے میں کچھ ایسی چیز شامل کرنی ہوگی جو سمجھ میں نہ آئے، مگر سننے میں بہت وزنی لگے۔

اس نے اس مقصد کے لیے خوب دل کھول کر تیاری کی۔

اگلے اتوار کی صبح وہ وعظ دینے کے لیے منبر پر چڑھا، سر پیر کے بغیر ایک ایسا متن پڑھا جس کا نہ آغاز معنی خیز تھا نہ انجام، حتىٰ کہ الٹا سیدھا جہاں سے بھی پڑھو تو بھی کچھ حاصل نہ ہو۔ پھر اس نے نیم خوابیدہ آنکھوں سے بنچوں پر براجمان لوگوں کو دیکھا اور نہایت سنجیدگی سے گویا ہوا۔

ہم یہاں خطبے کے متن میں شاعری اور اس کی رمزیت کو اس سے بہتر انداز میں بیان نہیں کر سکتے، سوائے اس کے کہ ہم عظیم آئس لینڈی شاعر، آئیکون ناوروژک، کی ان معروف سطروں کا سہارا لیں

تھام لینا، پا لینا نہیں ہوتا
اس جھلسے ہوئے فلک کے نیچے

جہاں انتشار سب کچھ بہا لے جاتا ہے
اور بے کنار مستقبل

ان ننھی انسانی آرزوؤں پر
تمسخر سے نگاہ ڈالتا ہے

وہیں مکمل بدلہ موجود ہے

یہ اقتباس ختم کرتے ہی واعظ نے توقف کیا، نگاہیں جھکا لیں اور ناک کے راستے گہری سانسیں لینے لگا بالکل اس اداکار کی طرح جو فرانسیسی ڈرامے میں تیسرا پردہ گرنے تک جذبات کے بوجھ تلے اتھل سانسوں کو سنبھالے رکھتا ہے۔

اگلی قطار میں بیٹھی ایک فربہ خاتون نے فوراً عینک لگائی اور قدرے آگے جھک گئی کہ کوئی لفظ سماعتوں کی دسترس سے نہ نکل جائے۔ دائیں جانب بیٹھا گھوڑوں کے سامان کا عمر رسیدہ تاجر سنجیدگی سے سر ہلانے لگا، جیسے اس اقتباس سے واقف ہو۔ بنچوں پر بیٹھے افراد نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا خاموش تائید کے ساتھ گویا کہہ رہے ہوں، یہ تو واقعی اعلیٰ درجے کی چیز ہے!

واعظ نے جبیں پونچھی اور کہا کہ اسے یقین ہے کہ یہاں موجود ہر شخص کو یاد ہوگا کہ اسی خیال کے تسلسل میں کوارولیئس نے کیا فرمایا تھا۔ وہی کوارولیئس جس نے عظیم فارسی الٰہیات دان رامتازک کے اس نظریے سے اختلاف کیا تھا کہ روح، نامعلوم کی طرف بڑھتے ہوئے، محض ذہنی تحریک کے بجائے مقصد کی روحانی پیدائش سے رہنمائی حاصل کرتی ہے۔

واعظ خود نہیں جانتا تھا کہ اس تمام گفتگو کا مطلب یا سر پیر کیا ہے اور نہ ہی اسے اس کی پروا تھی۔ مگر یہ بات طے ہے کہ بنچوں پر بیٹھے لوگ فوراً سمجھ گئے۔ وہ باتوں کا ایسا دریا بہاتا چلا گیا کہ سامعین اس کے بہاؤ میں بہتے چلے گئے، جیسے سیرانو اپنی خطابت میں روکسان کو اس قدر مسحور کر دیتا ہے کہ وہ سنبھلتے سنبھلتے مدہوش گرنے کو ہو جاتی ہے۔

لوگوں نے نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبا لیا۔ انہیں مزید شاندار، بلند آہنگ اور پرشکوہ زبان و بیان کی طلب ہونے لگی۔ چندے کی خطیر رقم وہ اسی مقصد کے لیے دیتے تھے۔ وہ سب اپنی نشستوں کو تھامے بیٹھے رہے اور صاف ظاہر تھا کہ اس ذہنی مشقت سے لطف اٹھا رہے ہیں۔

واعظ نے پھر عظیم شاعر امیبئیس کے حوالے دیے۔ اس نے یونانی زبان کی اٹھارہ سطریں روانی سے پڑھ ڈالیں، پھر توقف کرکے کہا۔

او خدایا کتنی کتنی گہری سچائی ہے!
اور کسی نے پلک تک نہ جھپکی۔

یہی امیبئیس تھا جس کے لافانی اشعار واعظ نے اس لیے سنائے تاکہ مشہور اطالوی مفکر پولینٹا کے مؤقف کی شدید غلطی ثابت کی جا سکے۔

وہ مجمع کو پوری طرح قابو میں لے چکا تھا۔ جب کبھی جعلی فلسفہ گھڑتے گھڑتے تھک جاتا، تو ایکواڈور، تسمانیہ یا کسی اور دور افتادہ ساحلی علاقے کے کسی مشہور شاعر کا حوالہ دے دیتا۔ ان نظموں کے مقابلے میں رابرٹ براؤننگ کی سب سے زیادہ گنجلک سطر بھی ایسے شفاف لگتی جیسے کسی حلوائی کی دکان کا شیشہ تازہ تازہ چمکایا گیا ہو۔

پھر وہ مکمل خطیبانہ جوش میں آ گیا۔ اس نے ایسے لمبے، نئے اور بھاری بھرکم الفاظ استعمال کیے جو فقط اسی روز ایجاد ہوئے تھے۔ گویا اس نے ہر ہاتھ میں ایک ایک خطیبانہ پھلجھڑی تھام رکھی ہو، چنگاریاں اس قدر تھیں کہ خود واعظ دکھائی نہ دیتا تھا۔

اس کے بعد اس نے اچانک آواز دھیمی کر لی، پرندوں اور پھولوں کا ذکر چھیڑ دیا اور بغیر کسی فطری موقع کے چند اصلی آنسو بہا دیے۔

چرچ میں کوئی دستانہ خشک نہ رہا، یعنی ہر آنکھ نم، ہر دل نرم ہو چکا تھا۔

جب وہ بیٹھا تو پہلی قطار میں نشست افروز لوگوں کے چہروں سے صاف عیاں تھا کہ اس کا نشانہ خطا نہیں گیا ہے۔

کیا اس دن اسے بھرپور داد ملی؟

یقیناً۔

وہی فربہ خاتون جذبات پر قابو نہ رکھ سکی اور کہنے لگی کہ خطبے نے اس کی زندگی بدل دی ہے۔ وہی عمر رسیدہ تاجر کھڑا ہوا اور پولینٹا پر کی گئی اس علمی تنقید کی کھلے دل سے تائید کی۔

ہر شخص نے خطبے کو بے مثال، شاندار اور اعلیٰ قرار دیا۔ سامعین کی جماعت کو صرف ایک ہی خدشہ لاحق ہوا، اگر وہ ایسے عظیم واعظ کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو شاید انہیں اس کی تنخواہ میں اضافہ کرنا پڑے۔

ادھر واعظ انتظار کرتا رہا کہ کوئی اس سے پولینٹا، امیبئیس، رامتازک، کوارولیئس یا عظیم آئس لینڈی شاعر ناوروژک کے بارے میں سوال کرے۔ مگر کسی میں یہ جرأت نہ تھی کہ وہ اپنی لاعلمی کا اعتراف کرے۔ لوگ آپس میں بھی یہ ماننے کو تیار نہ تھے کہ واعظ نے چند نئے نام اور اصطلاحات گھڑ لی تھیں۔ سب اپنی جگہ ڈٹے رہے اور بس یہی کہتے رہے کہ خطبہ نہایت شاندار تھا۔

یہ دیکھ کر کہ لوگ ہر چیز قبول کرنے کو تیار ہیں، واعظ کو آئندہ کا راستہ صاف دکھائی دینے لگا۔

(اصل متن میں چند الفاظ یا تراکیب اس طرح کی ہیں جو موجودہ دور میں نسلی تعصب کے زمرے میں آتی ہیں لہٰذا چند مقامات پر قصداً ترجمے کو بامحاورہ اسلوب میں ڈھالا ہے)۔

اخلاقی نتیجہ: عوام سچ نہیں چاہتے، وہ صرف وہی سننا چاہتے ہیں جسے سچ سمجھ کر داد دے سکیں۔ فہم، صداقت، علم یا پھر خطیبانہ وعظ کو سمجھنا اس سودے میں شامل نہیں ہوتا۔

جارج ایڈ کی طنزیہ حکایت۔

Check Also

K2 Ki Tarah Hosla Unka Buland Tha

By Nasir Abbas Shamim